رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ خلق

October 3, 2026 • 19 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اکتوبر 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

آنحضورﷺ نے اپنی تعلیم کے ذریعے بنی نوع انسان کی جان، مال اور عزت کی حرمت قائم فرمادی۔ نیز فرمایا : دین تو خیرخواہی کا نام ہے۔ پوچھا گیا کہ کس چیز کی خیرخواہی؟ فرمایا:اللہ، اُس کی کتاب، اُس کے رسولؐ، مسلمان پیشواؤں اور ان کے عوام الناس کی خیرخواہی۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر 2012ء میں ایک مضمون مکرم قدیر احمد طاہر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کے عیال ہیں اور اللہ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اُس کے عیال یعنی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔ نیز ایک اَور موقع پر فرمایا کہ کیا مَیں تمہیں بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے! آگ ہر اُس شخص پر حرام ہے جو اللہ اور اُس کے بندوں سے قریب ہے، ان سے نرم سلوک کرتا ہے، ملائمت رکھتا ہے اور اُن کے لیے سہولت مہیا کرتا ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جس میں تین باتیں ہوں اللہ تعالیٰ اُسے اپنی رحمت کا سایہ عطا فرمائے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔ وہ کمزوروں پر رحم کرے، ماں باپ سے محبت کرے اور خادموں سے حُسنِ سلوک کرے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رحم کرنے والوں پر رحمان خدا رحم کرے گا۔ تم اہلِ زمین پر رحم کرو، آسمان کا خدا تم پر رحم کرے گا۔
حضرت خدیجہؓ نے پہلی وحی نازل ہونے پر آنحضور ﷺ کے اخلاق پر جو گواہی دی وہ ہمدردیٔ خلق سے عبارت ہے۔ آپؓ نے فرمایا: خدا کی قسم! اللہ آپؐ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گا۔ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں اور لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور معدوم اخلاق جاری کرتے ہیں۔ آپؐ مہمان نواز ہیں اور ہمیشہ حق و صداقت کا ساتھ دیتے ہیں۔
آنحضور ﷺ ہمیشہ خدمت کے مواقع کی تلاش میں رہتے۔ حضرت سہلؓ بن حنیف کی روایت ہے کہ آپؐ غریب اور کمزور مسلمانوں کے پاس تشریف لے جاکر اُن سے ملاقات کرتے، اُن کے مریضوں کی عیادت کرتے اور اُن کے جنازوں میں شرکت فرماتے۔ اسی طرح حضرت ابوسعید خُدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلام کے پاس سے گزرے جو بکری کی کھال اُتار رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ مَیں تمہیں کھال اُتارنے کا طریقہ بتاتا ہوں۔ آپؐ نے اپنا بازو جِلد اور گوشت کے درمیان داخل کیا اور اُس کو دبایا یہاں تک کہ بازو کندھے تک کھال کے اندر چلا گیا۔ پھر فرمایا: اے بچے! کھال اس طرح اُتارو۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام
حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
‘‘جذب اور عقد ہمّت ایک انسان کو اُس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خداتعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے۔ پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لیے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ اس مرتبہ میں کُل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپؐ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔…’’ (الحکم 24جولائی1902ء)
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بعثت سے قبل ہی آنحضور ﷺ حلف الفضول میں شامل ہوئے۔ یہ انجمن مظلوموں کی امداد کے لیے بنائی گئی تھی۔ بعثت کے بعد جب ایک غریب شخص نے ابوجہل سے اپنے قرضے کی واپسی کے لیے سردارانِ قریش کی مدد چاہی تو انہوں نے آپؐ سے ملنے کو کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابوجہل آپؐ سے کس قدر بغض اور عداوت رکھتا ہے۔ جب اُس شخص نے آکر آپؐ کو حلف الفضول کا حوالہ دیا اور مدد چاہی تو آپؐ اُس کے ساتھ چل پڑے اور جاکر ابوجہل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اُس نے پوچھا کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: محمد( ﷺ)۔ وہ گھبراکر باہر آیا تو آپؐ نے اُس غریب شخص کی رقم کا مطالبہ کیا۔ وہ خاموشی سے گھر میں گیا اور رقم لاکر اُس شخص کے سپرد کردی۔ بعد میں لوگوں نے اُس کا مذاق اڑایا کہ تُو ڈر گیا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ جب مَیں نے دروازہ کھولا تو ایسا معلوم ہوا کہ محمد( ﷺ) کے دائیں بائیں دو اونٹ کھڑے ہیں جو مجھے نوچ کر کھا جائیں گے۔ کوئی تعجب نہیں کہ یہ معجزہ ہو۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ صداقت کا بھی ایک رعب ہوتا ہے۔ غرضیکہ ایک غریب کو حق دلوانے کے لیے آپؐ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ (ماخوذ از نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف، انوارالعلوم جلد12صفحہ360)
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ فرماتے ہیں:
آنحضور ﷺ کی محبت سب کے لیے تھی قطع نظر کسی کے مذہب کے، جغرافیائی اختلافات کے، بلاتمیز رنگ و نسل و عقیدہ کے۔ انہوں نے تمام مخلوقات سے محبت کی کیونکہ اُنہیں اللہ سے انتہائی خالص محبت تھی۔ نہ صرف انسانوں سے بلکہ حیوانوں سے بھی محبت کی، نہ صرف جانوروں سے بلکہ اللہ کی بنائی ہوئی تمام فطرت سے محبت کی۔ اس وجہ سے آپؐ کو رحمۃللعالمین کہا گیا۔ (ماخوذ از خطبات طاہر جلد7 صفحہ97و98)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *