Monday, 17th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب رضی اللہ عنہ

December 4, 2017 3 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍ مارچ 1996ء میں حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر شائع ہوا ہے جنہوں نے لاہور کے دلّی دروازہ کے باہر ایک پوسٹر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کا ذکر پڑھتے ہی بیعت کا خط لکھ دیا اور پھر تبلیغ میں دیوانہ وار مصروف ہوگئے۔ طاعون کے زمانہ میں آپؓ کی قیامگاہ میں موجود تمام غیراحمدی طاعون کا شکار ہوگئے صرف آپؓ بفضل خدا محفوظ رہے۔ 15؍ مئی 1908ء کو حضرت اقدس ؑ کی سیاسی لیڈر بیرسٹر فضل حسین سے ملاقات کے موقع پر آپؓ بھی رئیس دہلی حافظ عبدالکریم صاحب کے ہمراہ خدمت اقدس میں حاضر تھے۔
آپؓ پہلے لاہور میں کلرک تھے۔ پھر خلافت اولیٰ میں سرکاری ملازمت ترک کرکے پشاور آ گئے اور فوج میں گوشت سپلائی کرنے لگے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی وفات پر آپؓ پشاور کے پہلے احمدی تھے جنہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی بذریعہ تار بیعت کی۔ جون 1914ء میں حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ جب غیرمبائعین سے مباحثہ کے لئے پشاور تشریف لے گئے تو آپؓ ہی کے ہاں مقیم ہوئے۔
پھر آپؓ گوجرنوالہ آ گئے اور 1922ء سے یہاں سے نمائندہ مشاورت کے طور پر قادیان تشریف لاتے رہے۔ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *