Tuesday, 18th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

دیار رحمت میں رہنے والو یہ دن ہیں فیضان ایزدی کے – نظم

August 21, 2019 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 14؍ ستمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسلام اختر صاحب کے کلام بعنوان ’’ماہ مبارک کے آخری ایام‘‘ سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں:

دیار رحمت میں رہنے والو یہ دن ہیں فیضان ایزدی کے
نشاط و تسکیں کے جام بھر لو ۔ کھلے ہیں در بزم سرمدی کے
یہ دلنشیں دامن تلطّف ۔ یہ دلنوازی ۔ یہ دلربائی
وہ آپ خود پوچھنے کو آئے ۔ کہ کس کو شکوے ہیں تشنگی کے
کبھی وہ پندارِ بے نیازی ۔ کبھی یہ اعجاز دلربائی
کبھی حجاب اور کبھی تبسم عجب طریقے ہیں دلبری کے
یہ قطرہ قطرہ شمار کیسا؟ لپٹ کے موج رواں سے کھو جا
وگرنہ کس کو خبر ہے اتنی کہ سانس کتنے ہیں زندگی کے
جہاں پہ اکرام کرنے والے نگاہ لطف و کرم ادھر بھی
تو خود اگر ہو شریک محفل تو دن گزر جائیں زندگی کے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *