Monday, 17th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

اشتقاقیات (Etymology)

February 28, 2020 1 مناظر الفضل ڈائجسٹ

اشتقاقیات کا مطلب ہے کہ مختلف اشیاء کو مخصوص نام دیے جانے کی وجوہات کیا ہیں۔ اس حوالے سے ایک مختصر معلوماتی مضمون ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ مئی 2011ء میں شائع ہوا ہے جس میں چند ممالک کے نام رکھے جانے کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔
افغانستان: یہ سنسکرت زبان کے ایک لفظ Asvakaسے بنا ہے جس کا مطلب ہے ’’گھوڑے پالنے والے‘‘۔ اس علاقہ میں بسنے والی قوم کو جنگوں کے لیے گھوڑے پالنے میں خاص مہارت تھی۔
البانیا: اس ملک کے نام میں ’’سفید پہاڑ‘‘ کے معانی پائے جاتے ہیں کیونکہ سردیوں میں یہاں کے پہاڑوں کی چوٹیاں برف سے ڈھک کر سفید ہوجاتی ہیں۔
ارجنٹائن: جنوبی امریکہ کے اس ملک کا نام لاطینی زبان کے لفظArgentums سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے چاندی۔ یہاں ایک دریا میں سے پرتگالی اور ہسپانوی تاجر چاندی اور دوسرے جواہرات لے کر گزرتے تھے۔
آسٹریلیا: لاطینی زبان میں اس کا مطلب ہے ’’جنوبی‘‘۔ یہ نام رکھے جانے کی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت کے دریافت شدہ علاقوں میں سے یہ دنیا کے انتہائی جنوب میں واقع تھا۔
ایران: یہ ملک آرین قبائل Aryans کی جگہ ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔
الجیریا: شمالی افریقہ کے اس ملک کا نام عربی لفظ ’’الجزائر‘‘ سے نکلا ہے جو جزائر کی جمع ہے۔ کئی سو سال پہلے یہ ساحلِ سمندر پر چار جزائر پر مشتمل تھا جو 1525ء میں مرکزی زمین کے ساتھ مل گئے۔
برازیل: ایک خاص قسم کے درختBrazilwood Tree کے حوالے سے یہ نام رکھا گیا۔ اس درخت کی گہرے سرخ رنگ کی لکڑی مختلف اشیاء بنانے میں استعمال کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *