Monday, 17th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

ایک اخلاقی کہانی

March 10, 2019 2 مناظر الفضل ڈائجسٹ
حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ ایک اخلاقی کہانی

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ فروری 2002ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی تحریرات سے چند اخلاقی کہانیاں بیان ہوئی ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا مَیں سید ہوں، میری بیٹی کی شادی ہے، آپ اس موقعہ پر میری کچھ مدد کریں۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ یوں تو بڑے مخیر تھے مگر طبیعت کا رحجان ہے جو بعض دفعہ کسی خاص پہلو کی طرف ہوجاتا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’مَیں تمہاری بیٹی کی شادی کے لئے وہ سارا سامان تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں جو رسول کریمﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہ کو دیا تھا‘‘۔ وہ یہ سنتے ہی بے اختیار کہنے لگا: آپ میری ناک کٹوانا چاہتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ نے فرمایا : کیا تمہاری ناک محمد رسول اللہﷺ کی ناک سے بھی بڑی ہے۔ تمہاری عزت تو سید ہونے میں ہے، پھر اگر اس قدر جہیز دینے سے رسول کریمﷺ کی ہتک نہیں ہوئی تو تمہاری کس طرح ہوسکتی ہے!۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *