Thursday, 20th August, 2026
»»
دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی شفقت

May 2, 2019 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

٭ سہ ماہی ’’خدیجہ‘‘ کا سیدنا طاہرؒ نمبر میں حضورؒ کی شفقت کا ذکر کرتے ہوئے مکرمہ تسنیم الیاس صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ چوتھی بیٹی کی پیدائش کے بعد مَیں جب حضورؒ سے ملنے گئی تو فرمایا کہ پریشان تو نہیں ہو، تمہیں پتہ ہے کہ میری بھی چار بیٹیاں ہیں۔
ایک بار حضورؒ سے مَیں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپؒ مجھے اپنے ہاتھ سے خط لکھیں۔ حضورؒ نے اُسی ماہ مجھے اپنے ہاتھ سے خط لکھ کر بھیجا۔
٭ مکرمہ امۃالرحیم شاد صاحبہ حضورؒ کی شفقتوں کو قلمبند کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ہم چھ بہنیں ہیں جن میں سے تین کے نام امتل سے شروع ہوتے ہیں اور تین کے نام نساء پر ختم ہوتے ہیں۔ حضورؒ نے ہمارے دو گروپ بنائے ہوئے تھے اور ملاقات پر پوچھتے کہ کونسے گروپ سے تعلق رکھتی ہو؟
آپ مزید بیان کرتی ہیں کہ 1975ء میں ہمیں جرمنی سے واپس پاکستان جانا پڑا۔ وہاں میرا بیٹا بیمار ہوا تو مَیں دوائی لینے وقف جدید کے دفتر گئی ۔ حضورؒ سے ملی تو فرمایا کہ اس بچے کو ضائع نہیں ہونے دینا، اس کو جرمن زبان میں کتابیں پڑھنے کے لئے دو تاکہ اس کو زبان یاد رہے۔ بعد میں حضورؒ کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ کے فضل سے 1986ء میں ہم دوبارہ جرمنی آگئے تو میرے بیٹے نے یہیں تعلیم مکمل کی اور برسرروزگار ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *