رسول اللہﷺ کا ایفائےعہد
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 2…؍ستمبر 2026ء)

قرآن مجید ہر خُلق کے بیان میں دیگر تمام آسمانی کتب پر فضیلت رکھتا ہے لیکن ایفائےعہد ایک ایسا عظیم اور محمود خُلق ہے کہ تمام دیگر کتب سماوی کے مجموعی بیان سے بھی سینکڑوں گُنا زیادہ تعلیم قرآن کریم میں دی گئی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم میں بیان شدہ ہر خُلق دراصل آنحضور ﷺ کی سیرت طیبہ کا ہی بیان ہے۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر2012ء میں ایک مضمون مکرم خواجہ ایاز احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے مومنو! اپنے اقراروں اور عَہدوں کو پورا کیا کرو۔ یہ تم پر لازم ہے۔ (الما ئدہ:2)۔ نیز فرمایا: اپنے عہد کو پورا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں ایک روز جواب طلبی ہونی ہے۔ (بنی اسرائیل:35)
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عہدشکنی کرنے والا پکّا منافق ہے۔ نیز فرمایا کہ عہد شکنی کرنے والے پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔
آنحضورﷺ نے زندگی بھر اپنے ہر عہد کا بکمال ایفاء فرمایا خواہ اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑی۔ سب سے عظیم الشان عہد آپؐ نے اپنے ربّ سے باندھا تھا جب آپؐ کو دعوت الی اللہ کا حکم دیا گیا۔ (المائدۃ:68)۔ آپؐ نے اس عہد کا جو شاندار ایفاء فرمایا اس پر خود اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی مدح یوں فرمائی کہ ‘‘ہم نے عہدِ امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس عہد کی ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے لیکن انسان کامل محمد رسول اللہﷺ نے اس عہد کی ذمہ داری کو اٹھالیا اور اسے نبھانے کے لیے اپنے نفس پر ہر قسم کی سختی برداشت کی اور کسی قسم کے عواقب کی پرواہ نہ کی۔’’ چنانچہ اللہ تعالیٰ کو آپؐ کو سمجھانے کے لیے یہ فرمانا پڑا کہ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ (اے ہمارے رسول! کیا تُو اس عہد کی خاطر اپنی جان ہی ہلاک کرلے گا!)۔ اور پھر اسی ایفائے عہد کی گواہی میدانِ عرفات میں ایک لاکھ صادقوں نے اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے اللّٰھُمَّ نَعَم کہہ کر دی تھی جب آپؐ نے اُن سے پوچھا کہ کیا مَیں نے پیغام پہنچا دیا؟
آنحضورﷺ نے اپنی جوانی کے ایام میں قریباً بیس سال کی عمر میں حلف الفضول نامی معاہدہ میں شرکت فرمائی جس میں قریش کے معززین نے جمع ہوکر حلف اٹھاکر باہم معاہدہ کیا تھا کہ ہر ایک مظلوم کی دادرسی کی جائے گی اور ظالم کو ظلم سے روکا جائے گا۔ اس معاہدے کا آپؐ کو اس قدر پاس تھا کہ دعویٰٔ نبوت کے کچھ عرصے بعد جب آپؐ کی دشمنی شدّت اختیار کرچکی تھی تو اراش کے مقام سے کوئی شخص مکہ میں اونٹ فروخت کرنے آیا۔ ابوجہل نے اُس سے اونٹ خرید لیا لیکن اس کی قیمت نہ دیتا تھا۔ آخر وہ شخص صحنِ کعبہ میں بیٹھے ہوئے سردارانِ قریش کے پاس آیا اور اپنی بپتا بیان کی۔ ابوجہل کی آپؐ سے دشمنی سب کو معلوم تھی۔ انہوں نے استہزا کے طور پر کہا کہ صرف آپؐ ہی یہ حق دلاسکتے ہیں۔ اس پر وہ آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اجنبی مسافر ہوں، ابوجہل میرا حق نہیں دیتا، آپ اُس سے میرا حق دلوادیں۔ آپؐ فوراً اُس کے ساتھ ابوجہل کے گھر چلے گئے اور دروازے پر دستک دی۔ پوچھنے پر بتایا کہ مَیں محمد (ﷺ) ہوں۔ ابوجہل اس حالت میں باہر نکلا کہ چہرہ زرد تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس شخص کا حق ادا کرو۔ وہ اندر گیا اور اونٹ کی قیمت لاکر اُس شخص کو دے دی۔ اگرچہ آپؐ کو خوب علم تھا کہ ابوجہل کے گھر اکیلے چلے جانے میں کس قدر خطرات تھے، کم از کم وہ گستاخی سے تو پیش آسکتا تھا۔ لیکن آپؐ نے اُس عہد کے ایفاءکرنے میں کسی خطرے کی پرواہ نہ کی جو برسوں قبل آپؐ نے کیا تھا۔
نبوت سے قبل جب آنحضورﷺ نے تجارت کو اپنا پیشہ بنایا تو ایسی دیانتداری اپنائی کہ امین کے نام سے شہرت پائی۔ مکہ کی مالدار خاتون حضرت خدیجہؓ جو مختلف لوگوں کو اپنا تجارتی مال دے کر شام بھجوایا کرتی تھیں، اُن تک یہ شہرت پہنچی تو آپؐ کو بھی مال شام لے جانے کی پیشکش کی۔ آپؐ نے معاہدہ کرلیا اور حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ کے ہمراہ شام روانہ ہوگئے۔ جب آپؐ نے واپس آکر حساب کتاب پیش کیا اور میسرہ نے آپؐ کی محنت اور دیانتداری کے واقعات بیان کیے تو حضرت خدیجہؓ اس قدر خوش ہوئیں کہ آپؐ کو شادی کا پیغام بھجوادیا۔
آپؐ ایسے امین تھے کہ ہجرت مدینہ کے وقت اپنے جانی دشمنوں کی امانتیں اُن کے مالکان تک پہنچانے کے لیے حضرت علیؓ کے سپرد کیں کہ اس کام سے فارغ ہوکر پھر مدینہ آجانا۔
ہجرت مدینہ کے سفر میں جب سراقہ نے انعام کے لالچ میں آپؐ کا تعاقب کیا اور اُس کا گھوڑا تین بار ٹھوکر کھاکر گرا تب اُسے یقین ہوگیا کہ آپؐ ہی غالب آنے والے ہیں۔ چنانچہ اُس نے بڑی عاجزی سے امان کی تحریر عطا فرمانے کی درخواست کی۔ آنحضورﷺ کے ارشاد پر حضرت ابوبکرؓ نے امان لکھ کر دے دی۔ فتح مکہ کے دن وہ یہی امان لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے یہ فرماتے ہوئے امان قبول کی کہ آج کا دن عہد پورا کرنے اور احسان کرنے کا دن ہے۔ پھر اُس نے اسلام قبول کرلیا۔
فتح مکہ کے بعد کئی شدید مخالفین نتائج کے خوف سے بھاگ گئے۔ ان میں عکرمہ بن ابوجہل اور صفوان بن امیّہ بھی تھے۔ ان دونوں کے لیے بالترتیب عمیر بن وہبؓ اور اُمّ حکیمؓ (جو عکرمہ کی بیوی تھیں) نے امان طلب کی جو آپؐ نے عطا فرمائی۔جب وہ دونوں آپؐ کی خدمت میں پیش ہوئے تو آپؐ نے نہ صرف اپنے عہد کی پاسداری کی بلکہ انہیں معاف بھی فرمادیا۔ اس پر دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔
فتح مکہ کے موقع پر حضرت اُمّ ہانیؓ نے اپنے بعض سسرالی رشتہ داروں کو امان دے دی جو مشرک تھے۔ اس پر بعض صحابہؓ کو اعتراض تھا لیکن رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ جو عہد کرلیا گیا ہے اس کی پاسداری کی جائے گی، جسے اُمّ ہانی نے پناہ دی ہے اُسے ہم نے پناہ دی ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور حضرت ابوسہلؓ غزوۂ بدر میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہو ئے تو کفار نے انہیں پکڑلیا اور پھر یہ عہد لے کر چھوڑا کہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑا ئی نہیں کروگے۔ یہ دونوں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا عرض کیا۔ یہ ایسا نازک موقع تھا کہ ایک ایک سپاہی کی ضرورت اور اہمیت تھی لیکن آپؐ نے ان دونوں کو حکم دیا کہ عہد کی پابندی کرو، ہم اللہ سے دعا کے ذریعے مدد مانگیں گے۔
آنحضورﷺ نے جن مختلف اقوام سے معاہدے کیے ان میں مکہ کے مشرکین بھی تھے، مدینہ کے یہود بھی تھے اور عیسائی بھی تھے۔ آپؐ نے ان تمام بین الاقوامی معاہدوں کی ہر طرح سے پاسداری فرما ئی خواہ اس کے لیے کیسی ہی قربانی کیوں نہ کرنی پڑے۔
یونانی فلاسفر سولن کہتا ہے کہ دنیاوی سیاست میں معاہدہ مکڑی کا ایسا جالا ہے جو کمزور کو تو پھانس لیتا ہے لیکن طاقتور کے مقابلے میں ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی حال ہمیں آج بھی عالمی معاہدوں میں نظر آتا ہے لیکن قرآن کریم کا ارشاد ہے: تم اپنے معاہدات کو دوسری قوموں کو دھوکہ دینے، انہیں زیر کرنے اور اُن میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا ذریعہ بنارہے ہو۔ یاد رکھو یہ ایک آزمائش ہے۔ … اے مومنو! تم نے ایسا ظالمانہ طرزعمل اختیار نہیں کرنا اور نہ کبھی بدعہدی کرنی ہے۔ (النحل:93تا95)
آنحضورﷺ فرماتے ہیں: جب کسی قوم سے معاہدہ کرو تو اسے نبھانے میں تردّد نہ دکھاؤ۔ اسے قائم رکھو یہاں تک کہ اس کی مدّت پوری ہوجائے یا اُسے توڑنے کا اعلانِ عام کردیا جائے۔ ایک اَور موقع پر آپؐ نے فرمایا: اگر کسی مسلمان نے کسی غیرمسلم پر جبکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا ہو، معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناواجب بوجھ ڈالا تو مَیں قیامت کے دن اُس غیرمسلم مظلوم کی طرف سے اس ظالم سے جھگڑا کروں گا۔
حدیث ہے: بدعہدی کرنے والے کے لیے خدا، دوزخ کو واجب کردیتا ہے اور جنت کو حرام کردیتا ہے۔
صلح حدیبیہ کا معاہدہ ابھی لکھا جارہا تھا جس میں یہ شرط بھی لکھی ہوئی تھی کہ جو شخص مسلمان ہوکر مدینہ آجائے گا اُسے واپس کردیا جائے گا۔ کفّار کا نمائندہ سہیل بن عمرو تھا۔ اچانک اُس کا بیٹا ابوجندلؓ بیڑیوں میں وہاں پہنچا، وہ اپنے ظالم باپ کی ایذاؤں کے نتیجے میں شدید زخمی تھا۔ اُس نے آنحضورﷺ سے مدد طلب کی۔ آپؐ نے اُس کے باپ سہیل سے فرمایا کہ ابھی صلح کی شرائط مکمل نہیں ہوئیں اس لیے ابوجندل کو ہمارے پاس چھوڑ دو۔ لیکن سہیل نے اصرار کیا کہ اگر یہ کیا گیا تو پھر معاہدہ نہ ہوسکےگا۔ آپؐ کو صاف نظر آرہا تھا کہ اگر یہ ظالم ابوجندلؓ کو ساتھ لے گیا تو پہلے سے زیادہ ظلم کرے گا۔ پھر ابھی صرف زبانی بات چیت ہی ہوئی تھی، تحریر مکمل نہ ہوئی تھی اور نہ ابھی دستخط ہوئے تھے۔ لیکن آپؐ نے پھر بھی زبانی شرائط کی پاسداری فرمائی اور دل پر پتھر رکھ کر ابوجندلؓ کو واپس کردیا۔
ہجرت مدینہ کے بعد آنحضورﷺ نے یہود سے جو معاہدہ فرمایا اس میں یہود اور مسلمانوں کے برابر شہری حقوق اور مکمل مذہبی اور تجارتی آزادی شامل تھے۔ نیز یہ کہ حملے کی صورت میں دونوں مل جُل کر ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ مسلمانوں نے تو ہمیشہ اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن یہود نے کبھی چکّی کا پاٹ گراکر اور کبھی زہر دے کر آپؐ کو شہید کرنا چاہا اور کبھی کفار مکّہ کے ساتھ سازباز کرکے مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا اور قومی بدعہدی کے جرم میں مدینہ بدر کیے گئے۔
عیسائی توحید کے دشمن تو تھے ہی لیکن تعصّب میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ آنحضورﷺ سے مباہلہ کرنے کو بھی تیار ہوگئے۔ بہرحال اُن سے جو معاہدہ ہوا، نہ صرف آپؐ نے تاحیات بلکہ آپؐ کے خلفاء نے بھی اس کی ہمیشہ پاسداری فرمائی۔
حدیبیہ کا معاہدہ کفّار مکّہ نے اُس وقت یکطرفہ طور پر توڑ دیا جب انہوں نے اپنے حلیف بنوبکر سے سازباز کرکے مسلمانوں کے حلیف بنوخزاعہ پر حملہ کرکے متعدد افراد کو قتل کردیا۔ بنوخزاعہ نے آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ظلم کی داستان سنائی اور معاہدے کا حوالہ دے کر مدد مانگی تو آپؐ کا دل بھر آیا اور فرمایا کہ مَیں ضرور اپنے عہد کا ایفاء کرتے ہوئے تمہاری مدد کروں گا۔ چنانچہ آپؐ بنوخزاعہ پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے کے لیے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے مکہ کی فتح سے نواز دیا۔

Leave a Reply