طبقۂ نسواں کے لیے رحمت
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اکتوبر 2026ء)

آنحضورﷺ کی وسیع رحمت سے انسانیت کا ہر طبقہ مستفید ہوا۔ طبقہ نسواں تو اُس زمانے میں خصوصاً ظلم و ستم کا شکار تھا۔ وہ حیوانات کی طرح گردانی جاتی تھیں، ترکہ میں بانٹی جاتی تھیں اور بعض قبائل میں زندہ درگور کردی جاتی تھیں۔ تعدّد ازدواج کی قید نہ تھی۔ معمولی باتوں پر معلّقہ چھوڑ دی جاتی تھیں۔ ان حالات میں بیٹی کا پیدا ہوجانا ایک بدنامی سے کم نہ تھا۔ چنانچہ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے کہ ’’اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غم سے سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ (اسے) ضبط کرنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس (خبر) کی تکلیف کی وجہ سے جس کی بشارت اسے دی گئی۔‘‘ (النحل:59۔60)
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔‘‘ (البقرۃ:229)
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے اپنے کلام میں اُس دَور کی بہت عمدہ تصویرکشی کی ہے۔ فرماتی ہیں:
رکھ پیش نظر وہ وقت بہن! جب زندہ گاڑی جاتی تھی
گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دنیا میں تُو آتی تھی
جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خوں جوش میں آنے لگتا تھا
جس طرح جنا ہے سانپ کوئی ، یوں ماں تیری گھبراتی تھی
یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے
جو نفرت تیری ذات سے تھی ، فطرت پر غالب آتی تھی
کیا تیری قدروقیمت تھی! کچھ سوچ تری کیا عزت تھی!
تھا موت سے بدتر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی
وہ رحمت عالم آتا ہے، تیرا حامی ہو جاتا ہے
تُو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے
ان ظلموں سے چھڑواتا ہے
بھیج درود اُس محسن پر تُو دن میں سو سو بار
پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار
آنحضورﷺ کی رحمت سے عورتوں کا طبقہ بھی محروم نہیں رہا۔ اس حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر 2012ء میں مکرم ریاض احمد باجوہ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضورﷺ نے فرمایا: جو دو یا تین بیٹیوں کی اچھی تربیت کرکے ان کے فرائض ادا کردے وہ میرے ساتھ جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند ہوگا۔ (اور آپؐ نے اپنی دو انگلیاں ملاکر دکھائیں)۔ عملی نمونہ آنحضورﷺ کا یہ تھا کہ فرماتے تھے: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے یہ بات دکھ دیتی ہے کہ کوئی اسے رنج پہنچائے۔
آپؐ نے فرمایا: علم کا حصول ہر مردوزن پر فرض ہے۔
آنحضورﷺ نے حق مہر مقرر فرماکر عورت کی توقیر میں اضافہ فرمایا۔ نیز فرمایا کہ عورت سے شادی چار اغراض کے لیے کی جاتی ہے یعنی حسن، مال و دولت، حسب و نسب یا نیکی۔ پھر نصیحت فرمائی کہ تم نیکی تقویٰ کے پہلو کو ترجیح دینا۔
حدیث ہے: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال سے اچھا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ تمام لوگوں سے زیادہ نرم خُو تھے اور سب سے زیادہ کریم۔ عام آدمیوں کی طرح بلاتکلّف گھر میں رہنے والے۔ آپؐ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی۔ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔ اپنی ساری زندگی میں کبھی کسی بیوی پر ہاتھ نہ اٹھایا نہ کبھی کسی خادم کو مارا۔ جتنا وقت آپؐ گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے تھے یہاں تک کہ آپؐ کو نماز کا بلاوا آجاتا تو مسجد تشریف لے جاتے۔
آنحضورﷺ نے فرمایا: ‘جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔’ اور جب کسی نے پوچھا کہ میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ تو تین بار فرمایا: تمہاری والدہ۔
جب آپؐ کی رضاعی والدہ تشریف لاتیں تو آپؐ اُن کی بہت عزت و تکریم فرماتے، اُن کے لیے اپنی چادر بچھادیتے۔ جب وہ روانہ ہوتیں تو کچھ نہ کچھ تحائف ضرور دیتے۔
اسلام نے پردے کا حکم بھی عورتوں کو پاکدامن رکھنے اور انہیں گندی نظروں سے بچانے کے لیے دیا۔ آنحضورﷺ نے ایسے خاوند کو جو اپنی بیوی کے راز لوگوں میں بتائے بدترین مقام کا حقدار ٹھہرایا ہے۔ عورتوں کے حسن کے قصے سنانے سے منع فرمایا۔ عورت کو خلع کا حق دیا اور طلاق کی صورت میں اُس کے حقوق قائم فرمائے۔ عورت کی گواہی کو رائج فرمایا۔ قرآن کریم وہ واحد کتاب ہے جس نے عورت کو وراثت کا حق دیا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک گروہ ایسا ہے جس نے عورتوں کو بالکل آزاد کردیا ہے۔ دین کا کوئی اثر ہی اُن پر نہیں ہوتا۔ بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے ایسی سختی کی ہے کہ عورتوں میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ پنجاب میں عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک اتار دی ، دوسری پہن لی۔ یہ بڑی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ساری باتوں کا کامل نمونہ ہیں۔ آپؐ کی زندگی میں دیکھو کہ آپؐ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔ میرے نزدیک وہ شخص بزدل نامرد ہے جو عورت کے مقابلےمیں کھڑا ہوتا ہے۔ آنحضرتﷺ ایسے خلیق تھے کہ اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپؐ کو کھڑا کرتی تو آپؐ اُس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلددوم صفحہ 387)

Leave a Reply