Wednesday, 19th August, 2026
»»
دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

مکرمہ زیب النساء صاحبہ

August 18, 2019 2 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4مئی 2009ء میں مکرمہ زیب النساء صاحبہ زوجہ مکرم احمد جان صاحب کا مختصر ذکرخیر کرتے ہوئے مکرمہ الف۔ حیدری صاحبہ رقمطراز ہیں کہ مرحومہ بہت دعاگو تھیں اور اپنے ربّ پر بڑا مان تھا۔ ایک دفعہ ہمارے ہاں قیام فرما تھیں تو دن کے گیارہ بجے باہر سے آواز آئی کہ فلاں کا بچہ گم ہوگیا ہے۔ بے حد پریشان ہوئیں کھانا پینا چھوڑ دیا۔ بچے کا نام وغیرہ پوچھا۔ کہنے لگیں: میرے کمرہ کا دروازہ بند کردو اور فوراً سجدہ میں گر گئیں۔ اُس وقت سراٹھایا جب خداتعالیٰ نے بشارت دیدی۔ کہا: ’’اُس کی ماں کو کہہ دو بچہ مل گیا ہے‘‘۔ سب جگہ تلاش جاری تھی۔ اس کے والد صاحب نے ایک سکول میں بچوں کے ساتھ بیٹھا پایا تو گھر لے آئے اور سب بے حد خوش ہوئے۔
مرحومہ صفائی پسند بہت زیادہ تھیں۔ بہت محبت والی طبیعت تھی۔ کسی کی تکلیف دیکھ کر بے چین ہو جاتی تھیں۔ پانچ وقت کی نمازکے علاوہ بھی نوافل ادا کیا کرتی تھیں۔ اور جب تک دعا قبول نہ ہوجائے چین سے نہ بیٹھتی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *