Tuesday, 18th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

مکرم عبدالحکیم جوزا صاحب مربی سلسلہ

August 14, 2020 1 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 14 اگست 2020ء)

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 9؍جنوری 2013ء میں مکرم عبدالحکیم جوزا صاحب مربی سلسلہ کی وفات کی خبر شائع ہوئی ہے۔ آپ مکرم محمد موسیٰ صاحب آف ڈیرہ غازیخان کے بیٹے تھے۔ 3؍جنوری 2013ء کی شب 76 سال کی عمر میں وفات پائی۔ بوجہ موصی ہونے کے تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔
مرحوم پاکستان کے مختلف مقامات کے علاوہ گھانا میں بھی بطور مبلغ سلسلہ خدمات بجالاتے رہے۔ ربوہ میں قرآن کریم کی پروف ریڈنگ کے کام کے علاوہ وکالت تصنیف اور بطور استاد جامعہ احمدیہ بھی خدمت کی توفیق پائی۔ غریب پرور تھے اور خدمت خلق ان کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ کبھی کسی کی دل آزاری نہ کی اور نہ ہی کسی سے ناراض ہوئے۔ اگر کسی نے سخت الفاظ استعمال بھی کیے تو بس یہی کہا کہ اللہ سب پر اپنا فضل فرمائے مَیں تو آپ سے ناراض نہیں ہوں۔ مرحوم نے لواحقین میں بیوہ مکرمہ مبارکہ خانم صاحبہ کے علاوہ تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑے ہیں۔ ایک بیٹے مکرم اعجاز احمد کلیم صاحب نصرت جہاں انٹرکالج ربوہ میں اور بیٹی مکرمہ عائشہ ثمینہ صاحبہ نصرت جہاں اکیڈمی میں ٹیچر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *