Wednesday, 19th August, 2026
»»
دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

مکرم فتح محمد صاحب بھٹی

September 9, 2019 1 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10اکتوبر 2011ء میں مکرم سراج الحق قریشی صاحب کے قلم سے مکرم فتح محمد صاحب بھٹی کارکن سوئی گیس دفتر جلسہ سالانہ ربوہ کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم فتح محمد بھٹی صاحب 27ستمبر 2011ء کی شام ہارٹ اٹیک کے نتیجہ میں 61سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ آپ ایک مخلص ، ایماندار ، محنتی اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے کارکن تھے۔ اپنے ساتھی کارکنان میں ہردلعزیز تھے اور شریف النفس ، ہمدرد اور مہمان نواز کے طور پر مشہور تھے۔ آپ کو دفتر جلسہ سالانہ ربوہ میں تقریباً 39 سال بطور مکینک خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند اور دینی کاموں میں پورے خلوص اور جذبہ سے حصہ لینے والے نیک فطرت انسان تھے۔ ہر سال باقاعدگی سے رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ شوال کے روزے بھی رکھا کرتے تھے۔
آپ کا تعلق وتہ خیل ضلع میانوالی سے تھا۔ گاؤں میں بعض نامساعد حالات کی بِنا پر آپ اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی مکرم گل خان صاحب کو لے کر ربوہ منتقل ہوگئے اور یہاں جماعت کے حسن اخلاق اور اعلیٰ تعلیمات سے متأثر ہو کر اس گھرانہ نے احمدیت قبول کی۔ اس پر آپ کے خاندان اور علاقہ کے لوگوں نے نہ صرف شدید مخالفت شروع کردی بلکہ مقدمات بھی قائم کئے اور آپ کو تشدّد کا نشانہ بنانے کے علاوہ جان لینے کی بھی کوشش کی۔ لیکن آپ نے انتہائی جوانمردی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
مرحو م نے اپنے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بھتیجے اور ایک بھتیجی اور ایک شادی شدہ بہن چھوڑی ہے۔ آپ اپنے بھتیجوں اور بھتیجی کے کفیل بھی تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *