آنحضورﷺ کے تبلیغی خطوط
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍ستمبر 2026ء)

رسول اللہﷺ نے دعوت الی اللہ کے لیے جو ذرائع استعمال فرمائے اُن میں مختلف بادشاہوں اور فرمانرواؤں کے نام خطوط بھی شامل تھے۔ صلح حدیبیہ کے بعد لکھے جانے والے اِن خطوط پر آپؐ نے اپنی مُہر بھی ثبت فرمائی جو چاندی کی انگوٹھی کی صورت میں آپؐ نے تیار کروائی تھی۔ ان خطوط کا مختصر تذکرہ ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ کے ‘‘سیرت خیرالوریٰؐ نمبر’’ برائے نومبرودسمبر2012ء میں مکرم اویس احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
٭…آنحضورﷺ نے پہلا خط حبشہ کے فرمانروا نجاشیؓ کے نام لکھا اور اسے عمرو بن امیہ الضمریؓ کے ذریعے بھجوایا۔ نجاشیؓ نے یہ خط پاکر اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور اس میں دی گئی دعوت کو قبول کرکے آنحضورﷺ کے دعوے کی تصدیق کی۔ بعد ازاں اُن کی وفات پر آنحضور ﷺ نے اُن کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔
٭… آنحضورﷺ نے قیصرِ روم کے نام خط حضرت دَحیہ کلبیؓ کے ذریعے بھجوایا جو حاکم بصریٰ کے توسّط سے قیصر روم کو روانہ کیا گیا۔ یہ خط بھی آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع فرمایا جس میں لکھا کہ یہ ہرقل کے نام ہےجو روم کا بادشاہ ہے۔ اس بادشاہ نے بھی آپؐ کے نامۂ مبارک کو عزت کی نگاہ سے دیکھا اور اسے محفوظ کرلیا۔
٭…آنحضورﷺ نے کسریٰ شاہ ایران کے نام اپنا تبلیغی خط حضرت عبداللہ بن حذافہؓ کے ذریعے بھجوایا۔ کسریٰ نے گستاخی کرتے ہوئے اس خط کو پھاڑ دیا۔ جب آنحضرتﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! اس کی حکومت کو بھی اسی طرح پارہ پارہ کردے۔ چنانچہ یہ دعا بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی اور جلد ہی کسریٰ اپنے بیٹے کے ہاتھوں مارا گیا۔
٭…شاہ مصر مقوقس کے نام آنحضورﷺ نے اپنا خط حاطب بن ابی بلتعہؓ کے ہاتھ بھجوایا۔ مقوقس نے خط کو عزت کی نگاہ سے دیکھا اور قبطیوں کے معزز خاندان کی دو لڑکیاں آپؐ کی خدمت میں بھجوائیں جن میں سے ایک لڑکی یعنی حضرت ماریہ قبطیہؓ آنحضرتﷺ کے عقد میں آئیں اور اُمّ المومنین کہلائیں۔
٭…آنحضورﷺ نے شجاع بن وہب الاسدیؓ کے ہاتھ غسّان کے بادشاہ الحارث بن ابی شمرالغسانی کے نام بھی تبلیغی خط بھجوایا۔ اس کے علاوہ حاکم یمامہ، طائف کے سردار، عمان و بحرین کے حکّام کو بھی تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔

Leave a Reply