آنحضورﷺ کی سادگی و قناعت
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍ستمبر 2026ء)

آنحضورﷺ کی طبیعت ہر قسم کے تصنّع سے پاک تھی چنانچہ آپؐ کی بےساختہ سادگی نہ صرف ملنے والوں کے دلوں پر گہرا اثر کرتی تھی بلکہ آپؐ کی اُمّت کے ہر طبقے کے لیے آپؐ کے اُسوۂ مبارک پر عمل کرنا نہایت درجہ آسان ہوگیا۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر 2012ء میں ایک مضمون مکرم ثاقب کامران صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضورﷺ کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ خوراک، لباس، طرز رہائش، طرز کلام، معاشرت وغیرہ تمام امور میں اس صفت کا نمایاں اظہار ہوتا تھا۔ آپؐ کے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے ہر نادار انسان بھی بِلاجھجک حاضر ہوکر اظہارِ مدعا کرسکتا تھا۔ مفلس سے مفلس اگر آپؐ کو مدعو کرتا تو آپؐ بڑی خوشی سے اُس کی دعوت قبول فرمالیتے اور پیش کیے جانے والے ماحضر کو خوش دلی سے تناول فرمالیتے۔
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک بار مَیں آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ اپنے حجرے میں ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپؐ کے جسم مبارک پر چٹائی کے نشان پڑگئے تھے۔ یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں بےاختیار آنسو آگئے۔ آپؐ کے پوچھنے پر مَیں نے عرض کیا کہ اس چٹائی کو بستر بنانے سے آپؐ کے جسم پر نشان پڑگئے ہیں اور دوسری طرف قیصر و کسریٰ ہیں کہ دولت، نازونعم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر آنحضورﷺ نے فرمایا: اے عمر! کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ قیصر و کسریٰ کو اس دنیا کی دولتیں دے دی جائیں اور ہمیں آخرت کی نعمتوں سے مالامال کردیا جائے۔
آنحضورﷺ ایسی قوم میں مبعوث ہوئے جو تفاخر میں بہت مشہور تھی۔ خصوصاً ان کے سرداروں میں یہ مرض انتہا تک پہنچا ہوا تھا۔ اُن کے گھرانوں میں غلاموں اور لونڈیوں سے کام لیا جاتا اور اسے شان و شوکت کا ذریعہ سمجھا جاتا۔ لیکن آنحضور ﷺ اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنے کے عادی تھے۔ حضرت عائشہؓ نے کسی کے پوچھنے پر بتایا کہ آپؐ گھر میں عام انسانوں کی طرح رہتے تھے، اپنے کام خود کرلیتے اور گھریلو کاموں میں اہل خانہ کی مدد فرماتے تھے۔
آنحضور ﷺ کی خوراک میں سادگی کے حوالے سے حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ دو دو ماہ گزر جاتے مگر ہمارے گھر میں آگ نہ جلتی تھی۔ ہم کھجور اور پانی پر گزاہ کرلیتے یا پھر دودھ پر جو کبھی کبھار بعض صحابہؓ آپؐ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ اسی طرح فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ اپنے گھرمیں کھانا کبھی خود سے نہیں مانگتے تھے، نہ ہی اس کی خواہش کرتے تھے۔ اگر گھر والے کھانا دے دیتے تو آپؐ تناول فرمالیتے اور جو کھانے پینے کی چیز پیش کی جاتی قبول فرمالیتے۔
آنحضورﷺ کا لباس بھی نہایت سادہ تھا۔ حتٰی کہ بوقتِ وفات بھی آپؐ کے جسم پر محض کرتہ اور پیوند لگی ایک چادر تھی۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اُون کے موٹے کپڑے پہنتے، چمڑے کے سادہ جوتے استعمال کرتے اور جَو کا دلیہ کھاتے تھے جو کہ پانی کے بغیر حلق سے نہ اترتا تھا۔
آنحضورﷺ کا بستر یا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے پتے اور ریشے بھرے ہوتے تھے۔ بعض اوقات آپؐ صرف کھجور کی ایک چٹائی کو ہی بطور بستر استعمال فرماتے جس کے نشانات آپؐ کے جسم مبارک پر نظر آتے۔
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: میری تعریف میں مبالغہ سے کام نہ لو جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریمؑ کی تعریف میں مبالغے سے کام لیا۔ مَیں تو اللہ کا ایک بندہ ہوں اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک پرانے پالان پر سوار ہوکر حج کیا جس پر معمولی سی چادر تھی جو چار درہم کی بھی نہیں تھی۔ آپؐ کہہ رہے تھے کہ اے میرے اللہ! اسے ایسا حج بنادے جس میں کوئی ریا ہو، نہ کسی شہرت کی طلب ہو۔
آنحضور ﷺ اپنے گھریلو کاموں کے علاوہ قومی معرکوں میں بھی اپنے صحابہؓ کے شانہ بشانہ رہتے۔ چنانچہ ابوسعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کی تعمیر میں رسول کریم ﷺ بھی پتھر ڈھوتے اور یہ شعر پڑھتے۔ (ترجمہ) یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لد کر آیا کرتا تھا۔ بلکہ اے میرے مولیٰ! یہ تقویٰ اور طہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کے لیے اٹھاتے ہیں۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضورﷺ نے حضرت فاطمہؓ کی شادی پر اُن کو بنیادی ضرورت کا یہ سامان دیا تھا: ریشمی چادر، چمڑے کا گدیلہ جس میں کھجور کے ریشے تھے، آٹا پیسنے کی چکّی، مشکیزہ اور دو گھڑے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جو پیشے کے لحاظ سے درزی تھا، رسول اللہﷺ کی دعوت کی۔ اُس نے ثرید کا کھانا پیش کیا جس میں کدو بھی تھا۔ آپؐ بڑے شوق سے کدو کھانے لگے کیونکہ آپؐ کو کدو پسند تھے۔
حضرت انسؓ کا ہی بیان ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا: اگر مجھے بکری کا ایک پایہ بھی تحفہ دیا جائے یا مجھے اس کی دعوت دی جائے تو مَیں قبول کرلوں گا۔

Leave a Reply