Thursday, 17th September, 2026
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

آنحضورﷺ بطور منصف اعظم

September 17, 2026 12 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍ستمبر 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہم نے یقیناً تیری طرف کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ تُو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے سمجھایا ہے۔ (النساء:106)
اس آیت میں آنحضورﷺ کو بطور منصف کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چونکہ یہ کتاب قیامت تک کے لیے ہے اس لیے آنحضور ﷺ بھی قیامت تک کے لیے منصف ہیں۔ اس حوالے سے ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ کے ‘‘سیرت خیرالوریٰؐ نمبر’’ برائے نومبرودسمبر 2012ء میں ایک مضمون مکرم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
قیامِ عدل آنحضور ﷺ کی بعثت کا ایک عظیم مقصد تھا۔ چنانچہ قرآن کریم کے ذریعے ہی آپؐ نے یہ اعلان فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مَیں تمہارے درمیان انصاف کا معاملہ کروں۔ (الشوریٰ:16)۔ نیز فرمایا: کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کردیں تو اپنے معاملے میں ان کو اختیار باقی رہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ بہت کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ (الاحزاب:37)۔ یعنی آنحضرت ﷺ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے جو مومنین کو بخوشی قبول کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب

٭…اسلامی نظام عدل میں دینی، مذہبی، معاشی، معاشرتی اور بین الاقوامی امور میں عدل کو قائم رکھنے کا آفاقی حکم قرآنی تعلیمات میں دیا گیا ہے۔ مثلاً خداتعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ شہادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے پورے طور پر ادا کرو۔ اولاد کے حقوق عدل کے ساتھ ادا کرو اور اُن میں تخصیص نہ کرو۔ والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔ عائلی زندگی میں میاں بیوی فحشاء سے بچیں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔ ہر فرد واحد کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کرو اور ناحق کسی کا قتل نہ کرو۔ دشمن کے ساتھ بھی عدل کرو۔ ناپ تول میں انصاف کرو۔ لین دین کے معاملات کو تحریر میں لاؤ (لکھنے والے کو بھی عدل کا حکم دیا گیا ہے)۔ حکام اپنی رعایا کے ساتھ عدل کریں۔ جھگڑے کی صورت میں فریقین میں عدل کے ساتھ صلح کرواؤ۔ قوموں کی لڑا ئی میں ظالم قوم کا ہاتھ ظلم سے روکنے کی کوشش کرو۔ جرم کی سزا اس کے مطابق ہوگی، زیادہ نہیں۔ یتیموں کے ساتھ انصاف کا سلوک کرو۔
٭…قضاء کے ضمن میں احادیث میں کئی امور سامنے آتے ہیں مثلاً جلدبازی میں فیصلہ نہ کرو۔ فریقین کو آزادی کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرنے دو۔ تمام پہلوؤں پر غور کرکے، ظاہری شہادت پر فیصلہ کرو۔ زنا کے الزام میں چار گواہ ضروری قرار دیے۔ فریقین کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کیا جائے۔ تاہم اقبال جرم پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
٭…آنحضرت ﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ کو قاضی مقرر فرمایا تو انہیں ہدایت فرمائی کہ آسانی پیدا کرنا، تکلیف نہ دینا، خوشی کا ماحول پیدا کرنا، نفرت پیدا نہ کرنا۔ مظلوم کی آہ سے بچتے رہنا کیونکہ اُس کے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ پھر آپؐ نے اُن سے پوچھا: جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ آئے تو تم کیسے فیصلہ کروگے؟ وہ کہنے لگے: کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم اس کا حکم کتاب اللہ میں نہ پاؤ تو؟ انہوں نے عرض کیا: پھر سنت رسول ﷺ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا: اگر سنّت میں بھی حکم نہ پاؤ تو؟ انہوں نے کہا کہ پھر اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور کوئی کسر اٹھا نہیں رکھوں گا۔ اس پر آپؐ نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے الحمدللہ فرمایا۔
٭…اقوام کے ساتھ معاملات کے ضمن میں میثاق مدینہ ایک اہم دستاویز ہے۔ یہ بنیادی حقوق کا پہلا تحریری چارٹر ہے جس میں امن، تقویٰ، وفاشعاری، قانون کی پابندی، بنیادی انسانی حقوق، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ و حرمت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ایک شرط میں یہود کو مسلمانوں کے ساتھ ملّت واحدہ قرار دے کر عدل کی ایسی مثال قائم کی کہ ہر انسان کی عزت و حرمت اور حقوق برابر ہیں خواہ اُس کا مذہب کچھ بھی ہو۔
٭…اسلام نے مخصوص حالات میں تعدّد ازدواج کی اجازت تو دی لیکن عدل کی شرط لگادی۔ آنحضور ﷺ نے اس کی بہترین مثال قائم فرمائی۔ اگرچہ عسرت کے زمانہ میں بسااوقات فاقہ تک نوبت پہنچ جاتی تھی لیکن آپؐ نے جس طرح بھی ہوسکا ہر ایک زوجہ محترمہ کے لیے علیحدہ مکان مہیا فرمایا۔ پھر وقت کی تقسیم، ظاہری توجہ اور سلوک کے اعتبار سے بھی اپنی بیویوں کے درمیان عدل فرمایا۔
٭…آنحضورﷺ نے عدل میں اقرباء پروری کو حائل نہیں ہونے دیا۔ چنانچہ غزوۂ بدر میں حضرت عباس ؓ بھی اسیر بنائے گئے تو وہ چونکہ نازونعم میں پلے ہوئے تھے اس لیے جب انہیں رسیوں سے جکڑا گیا تو انہوں نے تکلیف کی وجہ سے کراہنا شروع کردیا۔ آنحضورﷺ کی کانوں میں اُن کے کراہنے کی آواز پہنچتی تو آپؐ بےچینی سے کروٹیں بدلتے لیکن زبان سے کچھ نہیں فرماتے تھے۔ صحابہؓ نے آپؐ کی یہ کیفیت دیکھی تو انہوں نے حضرت عباسؓ کی رسیاں ڈھیلی کردیں۔ تھوڑی دیر تک جب آپؐ کے کانوں میں حضرت عباسؓ کے کراہنے کی آواز نہ آئی تو آپؐ نے اس کی وجہ پوچھی۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپؐ کی تکلیف کے خیال سے اُن کی رسیاں ڈھیلی کردی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ انصاف کے خلاف ہے، پھر باقی قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کردو۔
٭…حدیبیہ کے مقام پر قریش کے ساتھ معاہدہ لکھا جارہا تھا جس میں یہ شرط بھی تھی کہ قریش میں سے جو مسلمان ہوکر اُن کے پاس جائے گا وہ واپس کردیا جائے گا۔ اسے میں حضرت ابوجندلؓ کسی طرح کفار کی قید سے بھاگ کر وہاں پہنچے۔ پاؤں میں بیڑیاں تھیں اور جسم زخموں سے چُور تھا۔ معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے لیکن چونکہ شرائط آپؐ مان چکے تھے اس لیے آپؐ نے ابوجندلؓ کو واپس کردیا۔
٭…یہود کا قبیلہ بنونضیر دوسرے قبیلے بنو قریظہ سے زیادہ معزز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ اگر بنونضیر کا کوئی شخص بنوقریظہ کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو دیت میں سو وسق کھجوریں ادا کی جاتیں لیکن اگر بنوقریظہ کا آدمی بنونضیر کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو قصاص میں قتل کیا جاتا۔ میثاق مدینہ کے بعد ایک نضیری نے کسی قریظی کو قتل کردیا تو بنوقریظہ نے قصاص کا مطالبہ کیا اور اپنا ثالث آنحضور ﷺ کو مقرر کیا۔ آپؐ نے جاہلیت کے طریق کے برخلاف جان کے بدلے جان کا فیصلہ فرمایا جیسا کہ قرآن کریم نے آپؐ کو فرمایا تھا: جب تُو ان یہود کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر۔ (المائدہ:43)
٭… جب کسی یہودی نے کسی مسلمان کے سامنے یوں قسم کھائی کہ اُس ذات کی قسم جس نے موسیٰؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے تو اس پر مسلمان نے اُسے تھپڑ مار دیا کہ آنحضرتﷺ پر کسی کو فضیلت نہیں۔ وہ یہودی حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ بیان کیا۔ اس پر آپؐ نے اس مسلمان سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے نبیوں کے مابین فضیلت نہ دیا کرو۔ حالانکہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ آپؐ افضل الرسل ہیں مگر قیام عدل کی خاطر ایسی باتوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی جن سے فساد پیدا ہو۔
٭…آنحضور ﷺ نے وفات سے کچھ عرصہ قبل صحابہؓ سے فرمایا کہ مَیں بھی انسان ہوں، ممکن ہے کہ تمہارے حقوق کے متعلق کبھی مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔ بجائے اس کے کہ مَیں خداتعالیٰ کے سامنے ایسے رنگ میں پیش ہوں کہ تم مدعی بنو، مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم میں سے کسی کو مجھ سے کوئی نقصان پہنچا ہو تواسی دنیا میں مجھ سے اپنے نقصان کی تلافی کرالے۔ یہ سن کر صحابہؓ پر رقّت طاری ہوگئی اور انہیں احساس ہوا کہ شاید آپؐ کا آخری وقت قریب ہے۔ ایسے میں ایک صحابیؓ نے کہا: یا رسول اللہ! فلاں جنگ کے موقع پر صفیں درست کرواتے ہوئے آپؐ کی کہنی میری کمر پر لگ گئی تھی۔ آج مَیں اُس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ یہ سُن کر صحابہؓ کی آنکھوں میں خون اُتر آیا مگر رسول کریمﷺ کی موجودگی میں وہ کچھ کرنہ سکے۔ آپؐ نے اُس کی طرف کمر کی کہ لو اپنا بدلہ لے لو۔ اُس نے کہا: یارسول اللہ! اُس وقت میرے جسم پر قمیص نہیں تھی۔ میری کمر ننگی تھی۔ اس پر آپؐ نے کپڑا اٹھادیا تو اُس صحابیؓ نے کانپتے ہوئے ہونٹوں اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ آگے بڑھ کر محبت سے آپؐ کے جسم پر بوسہ دیا اور عرض کی کہ یہ تو میرے نفس نے آپؐ کے مطہر جسم کو مس کرنے کا بہانہ بنایا تھا۔ وہ صحابہؓ جن کی آنکھوں میں پہلے خون اُترا ہوا تھا وہ یہ نظارہ دیکھ کر خود پر غصہ کرنے لگے کہ ہمیں یہ موقع کیوں نہ ملا۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام نے تصویر بنانے سے منع کرکے آرٹ کو نقصان پہنچایا ہے، وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ اسلام تو ہر مسلمان کو آرٹسٹ بناتا ہے۔ وہ تصویر بنانے سے نہیں روکتا بلکہ ادنیٰ اور بےنفع تصویریں بنانے سے روکتا ہے جو برش اور رنگ سے بنائی جاتی ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ صبح اور شام، بچپن، جوانی اور بڑھاپے میں عقل اور فہم کا بُرش لے کر محمد رسول اللہ کی تصویر بناتے رہو۔ یہ تصویر دنیا کے لیے بھی مفید ہے اور آخرت کے لیے بھی۔ (ماخوذ از اُسوۂ حسنہ، انوارالعلوم جلد17 صفحہ136)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *