Monday, 24th August, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

دنیا کا قدیم ترین عیسائی ملک – آرمینیا

December 6, 2018 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

ایشیائے کوچک کے ایک پہاڑی ملک آرمینیا کا رقبہ ساڑھے گیارہ ہزار مربع میل اور آبادی قریباً 35 لاکھ ہے۔ اس کی سرحدیں جارجیا، آذر بائی جان، ترکی اور ایران سے ملتی ہیں۔ ایک زمانے میں یہ علاقہ آتش فشاں پہاڑوں سے بھرا پڑا تھا جو اب مُردہ ہوچکے ہیں۔ یہاں تین سو سے زیادہ چھوٹے بڑے دریا اور ایک سو سے زیادہ جھیلیں ہیں۔
آرمینیا قدیم ترین عیسائی ملک ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت رومیوں کے زیر اثر تھا اور بنی اسرائیل کے جلاوطن قبائل کا ایک حصہ یہاں بھی آباد تھا جسے بعد ازاں ایرانی بادشاہوں نے یہاں سے نکال کر ایران کے مختلف شہروں میں آباد کیا۔ پہلے ایران، ترکی اور روس کے درمیان یہ علاقہ تقسیم ہوتا رہا حتّٰی کہ 1912ء میں روس اور ترکی کے معاہدے کے بعد اس کی آزادی سلب کرلی گئی اور سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد یہ پھر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ابھرا۔
آرمینیا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلی عیسائی مملکت ہے اور یہاں نہایت قدیم زمانہ سے کلیسا قائم ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان آرمینین یا ارمنی ہے جو ایک انڈویورپین زبان ہے اور اس زبان کا رسم الخط بھی ایک عیسائی بزرگ Saint Mesropz نے بنایا تھا۔
یہ مختصر معلومات روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍جون 1998ء میں مکرم مظفر چودھری صاحب کے مضمون میں پیش کی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *