Saturday, 22nd August, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت

August 22, 2026 20 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اگست 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

آنحضرت ﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍نومبر2014ء میں شامل اشاعت ہے جو مکرم چودھری ہادی علی صاحب نے تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں آنحضور ﷺ کی حاکمیت کے اُس دَور کے واقعات پیش کیے گئے ہیں جب آپؐ پوری طرح بااختیار تھے۔

ہادی علی چودھری صاحب

آنحضور ﷺ وہ مبارک وجود تھے جن کے بارے میں دشمن بھی گواہی دیتا تھا ھُوَالَّذِیْ تَعْرف بِہِ الْبرّ وَالْوَفَاء کہ یہ وہی تو ہے جس کے ذریعے نیکی اور صدق و وفا کی پہچان ہوتی ہے۔ آپؐ اپنے دشمنوں کی خوں آشام حرکتوں کو بُھلاکر اُن پر اس طرح احسان کرتے تھے جیسے انہوں نے آپؐ پر کبھی کوئی ظلم کیا ہی نہ ہو۔ اپنے دشمن کی تکلیف پر بھی خود ایک ماں کی طرح تڑپتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ؎

آن ترحّمہا کہ خلق از وے بدید
کس ندیدہ در جہاں از مادرے

کہ جو رحم مخلوقِ خدا نے آپؐ سے تجربہ کیا وہ رحم کسی نے اِس دنیا میں اپنی ماں سے بھی نہیں پایا۔
آپؐ نے بسااوقات اپنے صحابہؓ کو تکلیف دہ اور دشوارگزار سفروں میں ڈال کر بھی اپنے جانی دشمن کے قافلوں کی حفاظت کا سامان فرمایا۔ چنانچہ 8؍ہجری میں قریش مکّہ کا ایک قافلہ شام سے اناج لے کر ساحلِ سمندر کے ساتھ ساتھ مکّہ آرہا تھا۔ راستے میں اُس پر جُہینہ کے ایک قبیلے کی طرف سے حملے کا خطرہ تھا۔ آنحضور ﷺ نے اس قافلے کو تحفّظ دینے کے لیے حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کی قیادت میں تین سو صحابہؓ پر مشتمل ایک لشکر روانہ فرمایا۔ یہ مقام مدینہ سے پانچ راتوں کی مسافت پر تھا۔ اُس وقت مدینہ میں بھی انتہائی غربت تھی چنانچہ قافلے والوں کو روزانہ چند کھجوریں گزارے کے لیے دی جاتیں۔ جب کھجور کا ذخیرہ بھی ختم ہونے لگا تو ایک ایک کھجور ہر ایک کو دی جاتی۔ صحابہؓ بتاتے ہیں کہ ہمیں اُس ایک کھجور کی قدروقیمت کا اندازہ اُس وقت ہوا چنانچہ ہم کھجور چوستے اور پھر سارا دن اُس کی گٹھلی چوستے رہتے۔ پھر ہم ساحلِ سمندر پر پہنچ گئے جہاں نصف ماہ سے زیادہ ہمارا قیام رہا۔ سخت بھوک کی وجہ سے ہم لاغر ہوچکے تھے چنانچہ مجبوراً ہم خبط درخت کے پتے کھانے لگے۔ اسی وجہ سے اس سریہ کا نام جیش الخبط پڑگیا۔
4؍ہجری میں مکّہ میں قحط پڑگیا تو آنحضور ﷺ نے دشمن کے ظلموں اور مسلسل جنگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مکّہ امداد بھیجی اور وہاں کے غرباء کی خاص طور پر امداد کی۔ایک دوسرے موقع پر قحط کے زمانے میں آپؐ نے مکّہ والوں کی درخواست پر قحط سالی سے بچاؤ کے لیے دعا بھی کی۔
فتح مکّہ کے وقت آپؐ چاہتے تو انتقامی کارروائی کرکے رواج کے مطابق قتل عام بھی کرسکتے تھے لیکن اس کے برعکس آپؐ نے کمال رحیمانہ حکمت عملی سے قریش کی طاقت کو اچانک اُن کے سر پر پہنچ کر کلیۃً معطّل کردیا اور اُن کو خون خرابے کی مہلت ہی نہ دی۔ جب فتح ہوگئی تو آپؐ نے اُن کو مخاطب کرکے پوچھا: اے قریش کے گروہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے ساتھ آج کیا سلوک ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا : ہم آپؐ سے بھلائی کے سوا اَور کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ آپ ہمارے معزز بھائی اور معزز بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: آج مَیں تمہیں وہی کہوں گا جو حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم کہ جاؤ تم آزاد ہو اور آج تم پر کوئی سرزنش نہیں ہوگی۔ بعدازاں مختلف سنگین قومی جرائم میں ملوّث جن افراد کے بارے میں سزائے موت کا اعلان بھی ہوچکا تھا، اُن کی ندامت اور معافی کا خواستگار ہونے پر آپؐ نے اُن سے بھی درگزر کا سلوک فرمایا۔
فتح مکّہ کے دنوں میں وہاں قبیلہ بنوخزاعہ کے ایک فرد نے کسی شخص کا قتل کردیا۔ آنحضور ﷺ نے بنوخزاعہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ‘‘اے خزاعہ والو! قتل سے اپنے ہاتھ روکو۔ قتل تو بہت ہوچکا لیکن کیا اس نے کبھی کوئی فائدہ بھی دیا؟ تم نے ایک شخص کا قتل کیا جس کی مَیں لازماً دیت ادا کروں گا۔ اس کے بعد اس جگہ پر کسی نے کوئی قتل کیا تو مقتول کے ورثاء کو حق حاصل ہوگا کہ یا تو قاتل سے قصاص لیں یا پھر دیت لیں۔’’ پھر آنحضور ﷺ نے خود خزاعہ کی طرف سے مقتول کی دیت ادا فرمائی۔
آنحضور ﷺ کا غیرمسلموں سے لین دین کا تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ مدینہ کے یہود کے ساتھ بھی یہ طریق جاری رہا اور فتح مکّہ کے بعد وہاں کے مکینوں کے ساتھ بھی جاری فرمایا۔ چنانچہ بنوہوازن سے مقابلے کے لیے مکّہ سے روانگی کے وقت مکّہ کے مالدار صفوان بن اُمیّہ سے کچھ ہتھیار قرض مانگے تو اُس نے پوچھا: کیا آپ اپنے اقتدار کی وجہ سے میرا مال چھیننا چاہتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، ہم تو عاریۃً مانگ رہے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے ضمانت دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس پر اُس نے ایک سو زرہیں مع خَود اور ڈھالیں دیں۔ پھر آپؐ نے اپنے چچازاد نوفل بن حارث سے بھی تین ہزار نیزے مستعار لیے۔ اسی طرح ابوجہل کے سوتیلے بھائی عبداللہ بن ابی ربیعہ سے تیس چالیس ہزار درہم قرض لیے۔ یہ مکّہ کا بہت دولتمند شخص تھا۔ اسے بعد میں مسلمان ہونے کی توفیق بھی ملی۔
اس موقع پر مکّہ کے دو ہزار ایسے افراد بھی لشکر میں شمولیت کی درخواست کرنے آئے جو مسلمان ہوچکے تھے۔ آپؐ نے اُن کی درخواست قبول فرمائی۔ اسی طرح اسّی مشرکین مکّہ نے بھی عرض کیا کہ گو ہم مسلمان نہیں مگر آپؐ کی رعایا ہیں، ہم بھی آپؐ کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ آنحضرت ﷺنے اُن کو اپنے لشکر میں شامل فرمالیا۔ ان میں اُن کا سردار صفوان بن اُمیّہ بھی تھا۔
ہوازن کے خلاف اسلامی لشکر میں کئی ایسے رؤسا بھی شامل تھے جو ابھی مسلمان تو ہوچکے تھے لیکن ایمان نہیں لائے تھے۔ ایسے لوگوں کی تالیف قلب کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص ارشاد فرمایا۔ (التوبہ:60) چنانچہ آنحضرت ﷺ نے خمس میں سے بہت سے لوگوں کو پچاس پچاس اونٹ دیے اور رؤسا کو اس سے بھی زیادہ مثلاً ابوسفیانؓ اور اُن کے دونوں بیٹوں یزید اور معاویہ کو تین سو اونٹ اور 120؍اوقیہ چاندی، حکیم بن حزامؓ کو دو سو اونٹ، نضر بن حارث ثقفی، صفوان بن اُمیّہ، قیس بن عدی، سہیل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزیٰ، اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حسن فزاری کو ایک ایک سو اونٹ دیے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ان رؤسا کی قوموں کے دل بھی مثبت سوچ کے لیے نرم ہوتے چلے گئے۔
تبوک میں اپنے قیام کے دوران رسول کریم ﷺ مختلف گھروں میں بھی گئے ۔ ایک گھر میں پانی کی ایک مشک دیکھ کر آپؐ نے پانی طلب فرمایا تو صحابہؓ نے عرض کی کہ یہ مشک تو مُردار کے چمڑے کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی دباغت یعنی کھال کو چمڑے میں بدلنے کا عمل اس کو پاک کردیتا ہے۔
ایک بار آپؐ کی خدمت میں پنیر پیش ہوا تو آپؐ نے چُھری سے بسم اللہ پڑھ کر اسے کاٹا اور کھایا۔
آپؐ نے صحابہؓ کو بھی علاقے کے لوگوں کے ساتھ تعلقات بنانےکی اجازت دی تو بعض صحابہؓ ہلکی پھلکی تجارت بھی کرتے رہے۔
اس سے قبل خیبر میں وہ واقعہ پیش آچکا تھا جس میں ایک عورت نے گوشت میں زہر ملاکر آپؐ کو قتل کرنا چاہا تھا۔ آپؐ نے اُس کو معاف فرمادیا۔ اور ایک واقعہ وہ بھی پیش آیا تھا جب ایک دشمن نے آپؐ کو سویا ہوا پاکر آپؐ پر تلوار سونت لی تھی لیکن قبل اس کے کہ وہ آپؐ پر وار کرتا، خدائی تصرّف سے وہ آپؐ کے قبضے میں آگیا۔ آپؐ نے حُسنِ معاشرت اور احسان کا سلوک کرتے ہوئے اُسے کلیۃً معاف فرمادیا۔
تبوک میں قیام کے دوران یحنہ (یوحنا) بن روبہ حاکم ایلہ آپؐ کا خط ملنے پر خود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے ساتھ شام، یمن، بحر، جرباء اور اذرُح کے بعض علاقوں کے نمائندے بھی تھے۔آپؐ نے اُنہیں مصالحت کی پیشکش کی تو اُن تمام نمائندوں سے مصالحت اور امان طے ہوگئی اور شرائط تحریر کی گئیں۔ ایلہ کے قریبی علاقے مقنا پر بھی یحنہ بن روبہ کی حکومت تھی اور اُس نے کسی وقت یہاں کے یہود کو مُلک بدر کردیا تھا۔ چنانچہ جب آنحضور ﷺ نے معاہدہ تحریر فرمایا تو اُس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ اہلِ مقنا کو اُن کے سامان سمیت اُن کے اپنے وطن میں بھیج دو۔
چونکہ یحنہ کی حکمرانی بعض بحری علاقوں میں بھی تھی چنانچہ آپؐ نے اُس کی حاکمیت وہاں تک قائم رکھتے ہوئے اُسے ایک خط میں یہ نصیحت بھی فرمائی کہ کسی کے لیے اُس پانی کا روکنا جائز نہیں جس پر وہ آتے جاتے ہیں اور نہ ہی اُن بحری اور برّی راستوں کو روکا جائے گا جن پر وہ سفر کرتے ہیں۔
اگرچہ مقنا اور مدینہ کے قریبی علاقوں کے یہود کے درمیان آنحضور ﷺ کے سلوک میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہےکہ اہل مقنا اسلام کے خلاف کسی سازش میں ملوّث نہ تھے بلکہ رومی سلطنت کے تسلّط میں ہونے کی وجہ سے جبر کا شکار تھے۔ اگر میثاق مدینہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے جس رحمت اور نرمی کا سلوک مدینہ کے یہود سے فرمایا تھا اُس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ یہودی قبائل کے انخلاء کے بعد بھی بہت سے یہودی مدینہ میں آباد رہے جن کی ریشہ دوانیوں کے باوجود آپؐ نے اُن سے ہمیشہ رحمت کا سلوک ہی فرمایا۔
اگر کوئی یہودی آنحضور ﷺ سے زیادتی بھی کرتا تو آپؐ عفو کا سلوک ہی فرماتے۔ چنانچہ جب یہودی عالم زید بن سعنہ نے آپؐ کو کچھ قرض دیا اور معیاد سے پہلے ہی بڑی گستاخی سے آپؐ کے کاندھے پر رکھی ہوئی چادر کھینچتے ہوئے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا تو حضرت عمرؓ نے اُس پر سختی کرنا چاہی لیکن آپؐ نے روک دیا اور احسان کرتے ہوئے اُسے زیادہ واپس کیا۔ یہی عفو و کرم اُس کی ہدایت کا موجب بنا۔
آنحضور ﷺ تبلیغ کی تڑپ رکھتے تھے لیکن اپنے پُرحکمت انداز میں سننے والے کو اظہارِ رائے کی پوری آزادی دیتے تھے۔ تبوک کے قیام کے دوران ہرقل کا ایلچی جب آپؐ کے خط کا جواب لے کر آیا تو آپؐ نے اُس سے پوچھا کہ اُس کا تعلق کس قبیلے سے ہے؟ اُس نے بتایا کہ تنوخ قبیلے سے۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کی طرف رغبت رکھتے ہو؟ اُس نے کہا کہ وہ ایک قوم کی طرف ایلچی ہے اور اپنی قوم کے دین پر ہے۔ جب تک وہ اپنا فرض ادا کرکے اُن کے پاس واپس نہیں چلاجاتا، اپنے دین کو بدل نہیں سکتا۔ آپؐ نے مسکراکر یہ آیت پڑھی کہ (ترجمہ) یقیناً تُو اُسے ہدایت نہیں دے سکتا جسے تُو چاہے لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے کے اہل لوگوں کو خوب جانتا ہے۔
یمامہ میں آباد قبیلہ بنوحنیفہ کا سترہ افراد پر مشتمل وفد ۹؍ہجری میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وفد کے تقریباً تمام ارکان نے اسلام قبول کرلیا اور کچھ عرصہ مدینہ میں قیام کیا۔ ان میں مسیلمہ بن حبیب (مسیلمہ کذّاب) بھی شامل تھا۔ آنحضرت ﷺ حضرت ثابت بن قیسؓ کے ہمراہ خود اُس کو ملنے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپؐ کے ہاتھ میں کھجور کی چھڑی تھی۔ مسیلمہ نے آپؐ سے کہا کہ آپؐ اُس کی حکومت کے راستے میں روک نہ بنیں اور اُسے اپنے بعد اپنا جانشین مقرر کردیں تو وہ ابھی آپؐ کی پیروی کرلے گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تُو مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے تو مَیں تجھے یہ دینی بھی پسند نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں جو فیصلہ فرمایا ہے وہ نافذ ہوکر رہے گا۔ مجھے تیرا انجام دکھایا گیا ہے۔ پس مَیں جارہا ہوں، باقی باتیں قیسؓ سے پوچھ لو۔ اگر تُو نے مجھ سے پیٹھ پھیری تو اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل و خوار کردے گا۔‘‘
یہ حُسنِ معاشرت کی اعلیٰ مثال تھی کہ ایک معاند آپؐ کے پاس آکر خود کو آپؐ کی ریاست میں حقدار بناکر آپؐ کے مقابل پر کھڑا ہورہا ہے۔ آپؐ اُسے کچھ نہیں کہتے بلکہ اُسے اُس کے انجام سے آگاہ کرکے تقدیر کے دھارے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ مسیلمہ نے واپس جاکر آپؐ کی زندگی میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملالیا۔ آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد اُس نے حضرت ابوبکرؓ کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیا تو حضرت خالد بن ولیدؓ سے شکست کھاکر لڑائی میں قتل ہوا۔
طائف کا سب سے بڑا اور جنگجو قبیلہ بنوثقیف تھا۔ انیس افراد پر مشتمل اس کا ایک وفد عبدیا لیل کی سربراہی میں 9؍ہجری میں مدینہ آیا۔ یہ وہی شخص تھا جسے تیرہ سال قبل آنحضور ﷺ نے طائف جاکر دعوتِ اسلام دی تھی۔ اس نے نہ صرف یہ دعوت گستاخی کے ساتھ ردّ کردی بلکہ آوارہ لڑکے لگادیے جنہوں نے تین میل تک آپؐ کا پیچھا کیا اور پتھر بھی برسائے جن سے آپؐ کا بدن خون میں تربتر ہوگیا۔ اس کے بدلے میں آپؐ نے اُن کی ہلاکت کی نہیں بلکہ ہدایت کے لیے دعا کی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور وہی شخص ایک وفد کے ہمراہ آج اسلام قبول کرنے خود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے جو نہ صرف آنحضور ﷺ پر طائف میں حملہ کرنے میں ملوّث تھے بلکہ غزوہ حنین میں بھی آپؐ سے برسرپیکار رہ چکے تھے۔ لیکن آپؐ نے اُن سے کسی جرم کا شکوہ یا تذکرہ نہیں کیا بلکہ انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کے لیے ایک خیمہ مسجد نبوی میں لگوادیا اور خود اُن کی میزبانی کی۔
یمن کے علاقہ نجران کے عیسائیوں کا ساٹھ افراد پر مشتمل وفد جب مدینہ پہنچا تو آنحضرت ﷺ نماز عصر کے بعد صحابہؓ کے ہمراہ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی عبادت کا وقت ہوگیا ہے۔ آپؐ نے انہیں مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی بخوشی اجازت دی چنانچہ انہوں نے مشرق کی جانب رُخ کرکے اپنی عبادت کی۔ اس کے بعد جب آپؐ نے اُنہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے انکار کیا اور آپؐ سے تفصیلی بحث کی۔ تاہم انہوں نے اسلام کے پُرامن نظام کو تسلیم کرتے ہوئے آپؐ سے صلح کی درخواست کی اور عرض کیا کہ آپؐ کا ہر حکم انہیں قابل قبول ہوگا۔ اس پر آپؐ نے انہیں معاہدہ نامہ لکھ دیا جس میں اُن کے حقوق و اختیارات کی ضمانت دی جب تک وہ کسی پر ظلم نہ کریں اور صلح جُو رہیں۔
تقریباً ایسا ہی معاہدہ آپؐ نے یمن کے ایک اَور قبیلے بنوحارث بن کعب کے وفد کے لیے بھی تحریر فرمایا۔
آنحضرت ﷺ تو ایسے رحیم و کریم وجود تھے جو اپنی مسجد میں بھی مشرکین کو عبادت کے لیے جگہ دیتے تھے اور اپنے خون کے پیاسے دشمن کے لیے بھی سایہ رحمت تھے۔ آپؐ نے صرف یہی نہیں فرمایا کہ جو مسلمان کسی ایسے غیرمسلم کے قتل کا مرتکب ہوگا جو کسی معاہدے کے نتیجے میں اسلامی حکومت میں داخل ہوچکا ہے، وہ (اس دنیا کی سزا کے علاوہ) قیامت کے دن جنت کی ہوا سے بھی محروم رہے گا۔ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ جو مسلمان کسی ایسے غیرمسلم پر جس کے ساتھ اسلامی حکومت کا معاہدہ ہے کوئی ظلم کرے گا یا اسے کسی قسم کا نقصان پہنچائے گا یا اُس پر کوئی ایسی ذمہ داری یا ایسا کام ڈالے گا جو اُس کی طاقت سے باہر ہے یا اُس سے کوئی چیز بغیر اُس کی رضامندی کے لے گا تو اے مسلمانو سُن لو کہ قیامت کے دن اُس غیرمسلم کی طرف ہوکر اُس مسلمان کے خلاف مَیں خدا سے انصاف چاہوں گا۔

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدْ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *