Tuesday, 18th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

نمرود

February 6, 2019 2 مناظر الفضل ڈائجسٹ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں نمرود بابل کی آشوری سلطنت کا جابر بادشاہ تھا اور حضرت ابراہیم کا شدید ترین مخالف۔ اسرائیلی روایات میں نمرود کے دو نسب نامے بیان ہوئے ہیں تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ کوش کی اولاد میں سے تھا۔ بائبل میں اُس کا ذکر تین جگہ آیا ہے ۔ دو جگہ اُسے کوش کا بیٹا اور سورما شکاری کہا گیا جبکہ تیسری جگہ آسور کو اُس کی سرزمین بتایا گیا۔ طبری نے تابعی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ اُس کا زمانہ حکومت چار سو سال تک رہا۔ اس سے مراد اُس کے پورے خاندان کا زمانہ ہو سکتا ہے۔ بقول المسعودی اُس نے ساٹھ برس تک حکومت کی۔
یہود کی روایات کے مطابق اُس نے اپنے قبیلے کی مختصر فوج سے آل یافث کو شکست دی اور تخت پر قبضہ کرکے آذر کو اپنا وزیر مقرر کیا اور خود اپنی عظمت کے نشہ میں خدا سے بیگانہ ہوگیا۔ اُس زمانہ میں کلدانیوں کا سرکاری اور قومی مذہب شمس (یعنی نجوم) پرستی تھا اور سورج سب سے بڑا دیوتا تھا۔ نمرود خود کو سورج دیوتا کا مظہر یا اوتار قرار دیتا تھا اور خود کو خدائی اختیارات کا حامل خیال کرتا تھا۔
یہ مختصر مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍اگست 1999ء میں مکرم لئیق احمد بلال کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *