Monday, 24th August, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

محترم مرزا منور بیگ صاحب شہید

February 15, 2019 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

محترم مرزا منور بیگ صاحب ابن مکرم مرزا سردار بیگ صاحب 1927ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں کام پر لگادیئے گئے اس لئے زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکے۔جب جوان ہوئے تو سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کرنے لگے اور 1953ء میں قبول احمدیت کی توفیق پائی۔ پھر جلد ہی اپنے پورے خاندان کو احمدی کرلیا جو دس افراد پر مشتمل تھا۔ آپ کی دعوت الی اللہ کے نتیجہ میں للیانی ضلع قصور میں جماعت کا قیام عمل میں آیا اور آپ وہاں کے صدر جماعت بھی رہے۔ 1970ء میں آپ چونگی امرسدھو لاہور منتقل ہوگئے۔
دعوت الی اللہ کے نتیجہ میں محترم مرزا صاحب کی مخالفت زوروں پر تھی۔ 17؍اپریل 1986ء کو ایک مولوی کا شاگرد منشاء نامی منصوبہ کے مطابق وہاں آیا اور ایک لڑکے کو کہا کہ مرزائیوں کے گھر کے دروازے کے سامنے پیشاب کرو۔ آپ نے لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور اسی وقت منشاء نے آپ پر پستول سے فائر کردیا۔ آپ کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں 18؍اپریل کو آپ وفات پاگئے۔ آپ موصی تھے اور بوقت وفات مجلس انصاراللہ کے زعیم تھے۔
جو مولوی اس شہادت میں ملوث تھا اُسے بعد میں کینسر ہوگیا اور اُس کے جسم سے اس قدر بدبو آتی تھی کہ ڈاکٹروں نے اُسے ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار کردیا اور وہ سسک سسک کر اپنے انجام کو پہنچا۔ یہ مختصر مضمون مکرم رانا مبارک احمد صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍اگست 1999ء میں شامل اشاعت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *