Monday, 24th August, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

محترم ڈاکٹر راجہ نذیر احمد ظفر صاحب

February 17, 2019 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍نومبر 1999ء میں مکرم یوسف سہیل شوق صاحب کے قلم سے محترم ڈاکٹر راجہ نذیر احمد صاحب ظفر کے بارہ میں ایک مختصر مضمون شامل اشاعت ہے۔ محترم راجہ صاحب ہجکہ (بھیرہ) میں محترم راجہ غلام حیدر صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔ مولوی فاضل کے علاوہ ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی تک تعلیم پائی۔ کچھ عرصہ فرقان فورس میں بھی رہے۔ کراچی میں قیام کے دوران رسالہ ’’المصلح‘‘ کے نائب مدیر بھی رہے۔ آپ ایک نڈر داعی الی اللہ تھے۔ آپ نے کئی مناظرے کئے۔ بہت سے لوگوں کو آپ کے ذریعہ قبول حق کی سعادت عطا ہوئی۔ اس ضمن میں آپ پر مقدمات بھی بنے اور اسیر راہ مولیٰ رہنے کا شرف بھی آپ کو حاصل ہوا۔
محترم ڈاکٹر صاحب کو نمایاں مالی قربانی کی توفیق بھی ملی۔31؍اکتوبر 1999ء کو ختم ہونے والے تحریک جدید کے سال میں آپ کا وعدہ اور ادائیگی ربوہ بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ حصہ آمد کے چندہ میں بھی آپ ربوہ میں سرفہرست ہیں۔
محترم ڈاکٹر راجہ صاحب نے ہومیوپیتھی کی معمولی پریکٹس سے آغاز کیا اور پھرکیوریٹو سسٹم آف میڈیسن کے بانی بنے۔ آپ کے کاروبار کی شاخیں ملک بھر میں اور بیرونی ممالک میں بھی ہیں۔ آپ بوقت وفات آل پاکستان احمدیہ ہومیوپیتھ ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شعرگوئی کا ملکہ بھی عطا فرمایا تھا اور جماعتی رسائل میں آپ کا کلام شائع ہوتا رہتا تھا۔ آپ نے ایک طویل نعت مرکب بھی لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ حضور انور نے ایم۔ٹی۔اے پر آپ کے کلام کا تعریفی رنگ میں ذکر بھی فرمایا۔
محترم ڈاکٹر صاحب کو متعدد میدانوں میں جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔ بوقت وفات آپ اپنے محلہ کے سیکرٹری اصلاح و ارشاد تھے۔ خدام الاحمدیہ میں بھی مختلف حیثیتوں سے خدمات بجالاتے رہے۔ تیس سال تک اپنے محلہ میں درس قرآن کریم بھی دیتے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *