آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راتوں کی کیفیت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ر بوہ 5نومبر 2009ء میں مکرّر شائع ہونے والے ایک پرانے مضمون میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی کیفیت کو حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب ہلالپوری نے بیان کیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دن اور راتیں اگرچہ اس امر میں یکساں ہیں کہ آپؐ کی حیات طیبہ کا ہر لمحہ عبادت الٰہی میں بسر ہورہا تھا۔ دراصل عبادت میں ہی آپؐ کی خوشی کا راز مضمر تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے پیغمبر! رات کے وقتوں میں اور دن کے اطراف و حصص میں اپنے ربّ کی تسبیح و تحمید کیا کر جس پر تیری خوشی اور خوشنودی کا دارومدار ہے۔
مگر آپ کے دن اور رات کے مشاغل میں ایک امتیاز بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ سورۃالمزمّل میں فرمایا گیا کہ دن کے اوقات میں چونکہ تجھے مخلوق کے ساتھ تعلق کی بِنا پر بہت بڑی محنت و مشقت کرنی پڑتی ہے اس لئے اس معاملت سے فارغ ہو کر خداتعالیٰ کی جناب میں مناجات کرنے کا زیادہ تر موقع تجھے رات کے اوقات میں ہی مل سکتا ہے۔ پس آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش حصہ قیام اور ناشئۃ اللیل میں بسر کیا کر۔
= امّ المومنین حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ کی رات اس طرح گزرا کرتی تھی کہ آپؐ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اٹھ کر چند نوافل پڑھتے، دعائیں کرتے اور پھر لیٹ جاتے۔ پھر اٹھ کر نوافل پڑھتے اور پھر لیٹ جاتے۔ ہر بار جتنا وقت آپ سوتے قریباً اتنا ہی وقت نوافل میں گزارتے اور اس طرح سے مجموعی طور پر قریباً نصف رات آپؐ کی دعاؤں اور نوافل میں گزرتی اور نصف کے قریب آرام لینے میں۔
= حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت اس طرح پر نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ آپؐ پہلے تین بار اللہ اکبر کہتے۔ پھر کہتے کہ

ذُوالْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَاء وَالْعَظْمَۃِ۔

وہ بہت ہی بڑی حکومت اور بادشاہت کا مالک ہے۔ اس کی شان بہت ہی بڑی ہے اور عظمت اُسی کے لئے ہے۔ اس کے بعد آپ نماز شروع کرتے اور مَیں نے دیکھا کہ پہلی رکعت میں آپؐ نے ساری سورۃالبقرۃ پڑھی اور پھر رکوع بھی آپؐ نے قریباً اتنا ہی لمبا کیا جتنا لمبا قیام کیا تھا اور پھر رکوع کے بعد اسی طور پر قومہ اور پھر پہلا سجدہ اور پھر قعدہ بین السجدتین اور پھر دوسرا سجدہ۔ غرض ان ارکان میں سے ہر ایک رکن قریباً آپؐ کے قیام اور رکوع کے برابر ہی لمبا تھا۔ اسی طرح سے آپ نے چار رکعتیں پڑھیں۔ جن میں آپؐ نے چار سورتیں یعنی سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران، سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ (یا سورۃ الانعام) پڑھیں۔
= حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں ایک رات اپنی خالہ امّ المومنین میمونہؓ کے گھر جا کر سویا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باری اُس رات حضرت میمونہؓ کے گھر میں تھی۔ جب آپؐ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی وضو کرکے ساتھ شامل ہو گیا۔ آپؐ نے کل تیرہ رکعت نماز پڑھی اور پھر لیٹ گئے۔ جب لیٹ کر نماز کے لئے اٹھے تو آپؐ نے جو دعائیں کیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: اے اللہ میرے دل میں، آنکھوں میں، کانوں میں، دائیں بائیں، اوپر نیچے، آگے پیچھے نور ہی نور کردے اور میرے ہر حصہ میں نور ہی نور ہو۔ اے اللہ خود مجھے مجسّم نور بنادے۔
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت جس کا اظہار انبیاء کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نُور میں لانا ہی ہے۔ پس یہ دعا دراصل ایک محیط اور جامع دعا ہے۔
= حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ مَیں ایک دفعہ رات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تھا۔ آپؐ نے اٹھ کر سورۃ آل عمران کے آخری رکوع کی آیات پڑھیں۔ پھر مسواک اور وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی جس میں آپ نے قیام اور رکوع و سجدہ بہت لمبا کیا۔ پھر لیٹ گئے۔ اسی طرح تین بار آپ نے اٹھ کر نماز پڑھی اور درمیان میں لیٹ جاتے رہے۔
اس حدیث میں سورۃ آل عمران کی جن آیات کا ذکر ہے۔ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق میں ظاہر ہونے والے نشانوں کی طرف اشارہ کرکے اور ان سے فائدہ اٹھاکر آپؐ کی تصدیق کرنے والوں اور بالمقابل ان سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کا انجام بتایا گیا ہے اور بدانجام سے بچنے کے لئے بعض دعائیں سکھلائی گئی ہیں۔ ان آیات کو پڑھ کر آپؐ خداتعالیٰ کے حضور میں شفیعانہ التجا کرتے تھے کہ یا الٰہی غافلوں کی آنکھیں کھول اور انہیں بُرے انجام سے بچا۔
= حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مَیں نے دیکھا کہ قریباً ساری رات آپؐ یہ دعا کرتے رہے اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (المائدہ:119) اور یہ وہ دعا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اپنی بگڑی ہوئی امّت کے لئے بطور شفاعت کریں گے۔
= رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تعلیم و تربیت تعہد و نگرانی اور شفقت علیٰ خلق اللہ کی طرف بھی توجہ رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ رات کو ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور یکے بعد دیگرے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے۔ یہ دونوں اس وقت اپنی اپنی جگہ پر نماز میں مشغول تھے۔ حضرت ابوبکرؓ بہت پست آواز سے نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت عمرؓ زیادہ اونچی آواز سے۔ بعد میں جب وہ دونوں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان کے پاس سے اپنے گزرنے کا ذکر کرکے دونوں کی آواز کی کیفیت بیان فرمائی۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ مَیں اس خیال سے پست آواز سے پڑھتا ہوں کہ جس ہستی کی جناب میں مَیں اپنی عرض پیش کررہا ہوں وہ پست سے پست آواز کو بھی اسی طرح سنتی ہے جس طرح بلند آواز کو۔ اور حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ میری غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی سوتا ہو تو سن کر جاگ جائے اور جاگتا ہو تو اُس کی غفلت دُور ہوجائے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کو ارشاد فرمایا کہ کسی قدر بلند آواز سے پڑھا کریں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ اٹھ کر صحابہؓ کے حالات دریافت فرماتے اور تعہد کرتے رہتے تھے اور اس سلسلہ میں بھی ان کی تعلیم و تربیت آپ کے پیش نظر ہوتی تھی۔
= حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رات کو مدینہ شریف میں کسی طرف شوروغل ہوا جس سے کسی حادثہ کا اندیشہ خیال کیا گیا۔ شور سن کر صحابہ کرامؓ اس طرف دوڑ پڑے۔ جب کسی قدر دُور گئے تو دیکھا کہ آگے سے آنحضرتؐ اُسی طرف سے واپس آرہے ہیں اور ابوطلحہ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار ہیں اور تلوار لگائی ہوئی ہے۔ آپؐ نے صحابہ سے فرمایا کہ کوئی خوف اور فکر کی بات نہیں اور اس گھوڑے کی نسبت فرمایا کہ گھوڑا کیا ہے ایک سمندر ہے۔
= آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات گھر میں رات کو ازواج مطہرہ کی خوشی کی خاطر خوش طبعی کی باتیں بھی کیا کرتے تھے اور ان کے مناسب حال کہانیاں بھی سنتے اور سناتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ بعض ازواج رات کو بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں اور کہانیاں سنا رہی تھیں۔ ایک نے کہا کہ سب سے اچھی کہانی تو خرافہ والی ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ جانتی ہو کہ خرافہ کون تھا۔ وہ بنی عذرہ میں سے تھا۔ اسے کسی دوسرے ملک کے لوگوں نے اپنا اسیر اور غلام بنالیاتھا۔ وہ ایک عرصہ دراز تک اُن میں رہا۔ پھر انہوں نے اُسے اُس کی قوم کی طرف واپس بھیج دیا۔ وہ اپنی قوم میں واپس پہنچ کر وہاں کے عجیب و غریب واقعات بیان کیا کرتا تھا۔
اسی طرح امّ زرع والی حدیث میں گیارہ عورتوں کا ایک لمبا قصہ مذکور ہے اور جسے آپؐ نے حضرت عائشہؓ سے سنا تو فرمایا کہ میرا تمہارے ساتھ اس سے کچھ کم اچھا سلوک نہیں جو ابو زرع کا امّ زرع کے ساتھ تھا۔ یہ بھی آپ کے اسی حصہ سیرت کی ایک مثال ہے۔
= حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ جب صبح کی نماز کی سنتیں پڑھ چکتے تو اس وقت اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے باتیں کرنے لگتے اور اگر میں سو رہی ہوتی تو آپ بھی لیٹ جاتے تھے۔
= حضرت امام زین العابدینؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے گھر میں جو آپؐ کا بستر تھا وہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ یہی سوال میں نے حضرت حفصہؓ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے گھر میں آپؐ کا بستر ٹاٹ کا تھا جسے دوہرا کر دیا جاتا تھا اور اس پر آپؐ سوتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ اگر اس کی چار تہیں کر دی جایا کریں تو کچھ نرم ہو جائے۔ چنانچہ اس کی چار تہیں کردی گئیں اور آپؐ اس پر سوئے۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے دریافت فرمایا کہ آج میرے نیچے کیا تھا۔ ہم نے عرض کیا کہ وہی آپؐ کا بستر تھا۔ ہاں ہم نے اس کی تہیں بجائے دو کے چار کردی تھیں تاکہ نسبتاً کچھ نرم ہوجائے۔ آپؐ نے فرمایا اسے پھر اسی طرح کردو کیونکہ اس آرام کی وجہ سے آج نماز تہجد کے لئے پہلے وقت پر میری آنکھ نہیں کھلی۔
= حضرت براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ جب آپؐ لیٹنے لگتے تو اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی اپنے دائیں رخسار مبارک کے نیچے رکھ لیتے اور یہ دعا کرتے : ’اے اللہ! محشر کے روز مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا‘۔
= حضرت حذیفہؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب آپؐ بستر پر لیٹتے تو کہتے: ’اے اللہ تیرے نام پر ہی میری موت آئے گی اور اسی پر پھر مجھے زندگی ملے گی‘۔ جب جاگتے تو کہتے ’تعریف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے سزا وار ہے جس نے ہمیں موت کے بعد پھر زندگی بخشی ہے اور اسی کی طرف متوجہ ہونے کیلئے ہمارا جاگنا اور اٹھنا ہے‘۔
= روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو سوتے وقت کروٹ بدلتے تو کہتے: ’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی بھی قابل پرستش نہیں ہے وہ دیکھتا ہے اور ہر ایک پر اس کا کامل تصرف ہے۔ وہ آسمانوں کا اور زمینوں کا اور جو کچھ ان میں پایا جاتا ہے اس کا پروردگار ہے اور غالب اور بہت بخشنے والا ہے‘۔
= حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے گھر میں ہوتی تھی تو آپؐ ہمیشہ رات کے پچھلے حصہ میں مقبرہ بقیع کی طرف تشریف لے جاتے اور وہاں جا کر کہتے: ’اے جماعت مومنین کے گھر کو آباد کرنے والو! السلام علیکم جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا وہ تم پر آگئی اور ابھی ایک منزل طے کرنی باقی ہے جس کی میعاد تمہارے لئے کل کا دن ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم بھی تم سے ملنے والے (ہی) ہیں۔ اے اللہ! بقیع کے رہنے والوں کو جو کیکر کے درختوں کے جھنڈ میں آپڑے ہیں بخش دے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/lpIJc]

اپنا تبصرہ بھیجیں