حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ — قیمتی نسخہ جات، طبّی مہارت اور خدمت خلق

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے قیمتی نسخہ جات اور طبی مہارت کے اصولوں سے متعلق مکرم پروفیسر محمد اسلم سجاد صاحب کے دو مضامین روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17 و 24نومبر 2008ء میں شائع ہوئے ہیں جن سے چند ایسی حکایات پیش ہیں جو پہلے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ کے کسی مضمون کا حصہ نہیں بن سکیں۔
٭ حضرت مولانا نورالدین صاحبؓ نے پچاس سال خلق خدا کی مفت خدمت کی۔ ان کا مطب ایک کمرہ تھا۔ جس کے فرش پر کھجور کے پتوں کی چٹائی بچھی تھی۔ ایک طرف ان کی اپنی مسند تھی جس کے لئے دری کا مصلیٰ دوہرا کرکے بچھا ہوا تھا جس کے ساتھ چھوٹی میز پر قلمدان اور سفید کاغذ رہتے تھے۔ مریض باری باری آتے اپنی کیفیت سناتے اور نسخہ لے کر چلے جاتے۔ جو لوگ شفایاب ہوتے اپنی خوشی سے مصلیٰ کے نیچے کچھ رکھ جاتے۔ حضور نے کبھی توجہ نہیں کی کہ رکھنے والے نے پیسہ رکھا ہے یا سو کا نوٹ اور نہ ہی کسی سے کبھی کچھ طلب کیا جاتا ۔
٭ آپ مریضوں سے کسی قسم کا معاوضہ مانگتے نہیں تھے اورغرباء کو دوا بالکل مفت دیتے تھے اور یہی دستور آپ کا آخر دم تک رہا۔ فصد کرنا، معجون اور شربت کا استعمال آپ قبیح سمجھتے تھے۔
٭ 1879ء کے قریب کشمیر میں سخت قحط پڑا اور اس کے بعد ہیضہ کی خطرناک وبا پھوٹ پڑی اور ہزاروں لوگ لقمۂ اجل ہوئے۔ آپ نے اس وبا میں مخلوق خدا کی خدمت میں دن رات ایک کر دیا جس پر آپ کو مہاراجہ نے ایک نہایت قیمتی خلعت بطور انعام پیش کی۔ 1880-81ء میں راجہ پونچھ کو پیچش کے شدید مرض سے مخلصی ہوئی اور کئی سال تک وہ آپ کو خطیر رقم بطور شکریہ بھجواتے رہے۔ 1886ء میں راجہ پونچھ کے بیٹے ٹکہ بلدیو سنگھ کو زلزلوں سے دماغی خلل ہوگیا جس کا آپ نے ایسا کامیاب علاج کیا کہ راجہ پونچھ نے ہزاروں روپے دیئے۔ بلکہ مہاراجہ جموں وکشمیر نے آپ کو سال بھر کی تنخواہ کے علاوہ مزید انعام بھی دیا۔
٭ آپ یونانی،ڈاکٹری اور ویدک تینوں علوم میں یکتائے زمانہ بن گئے۔ حضورؓ فرماتے ہیں: ’’ان دنوں شریف مکہ کو سنگ مثانہ تھا۔ چونکہ فرانس کے ساتھ وہاں کے شریف کا تعلق تھا، فرانس سے وہ آلہ جس سے پتھری پیس کر نکالتے ہیں، منگوایا گیا اور ڈاکٹر صاحب نے اس کو پیس کر نکالا۔ اس کامیاب تجربہ سے مجھے ڈاکٹری طب کا بہت شوق ہوا۔
٭ شفاء الملک حکیم محمد حسین قرشی اپنی مرتبہ ’’بیاض خاص ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’حکیم (نورالدین)صاحب موصوف دور گزشتہ کے ان تین چار طبیبوں میں سے ہیں جن کا اسم گرامی ہندوستان کے طول و عرض میں غیرمعمولی شہرت حاصل کئے ہوئے تھا۔‘‘
٭ حضور فرماتے ہیں: ’’ میں نے ایک مرتبہ کسی کا علاج کیا۔ ایک بڑھیا نے نذرانہ میں مجھ کو سکھوں کے وقت کا تانبے کا ایک پیسہ دیا۔ میں نے خوشی سے لیا اور سوچا اسے خدا کے نام پر کسی کو دوں تو کم سے کم اس ایک پیسہ کے700پیسے بنا سکتا ہوں‘‘۔
٭ ایک غریب ملازم نے ایک بیماری بیان کی۔ تو اسے ہندوستان کے مشہور اطباء اور ڈاکٹروں کے نام ذاتی خط لکھ کر دئے کہ وہ اُن کے پاس جاکر اپنی بیماری کا حال بتائے، اُن سے نسخہ لکھوائے اور جو فیس وہ طلب کریں وہ آپؓ کی طرف سے ادا کر دے۔ یہ مریض آپؓ کے مصارف پر چھ ماہ میں پچاس حکیموں اور ڈاکٹروں کے مشورے لے کر واپس آیا۔ امرتسر کے انگریز سول سرجن کرنل سمتھ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے آپؓ نے آپریشن کا مشورہ دیا۔ کرنل سمتھ کے آپریشن سے جب فائدہ نہ ہوا تو ایک دیہاتی سنار سے چاندی کے اوزار بنوائے اور باقی ماندہ آپریشن خود کیا۔ مریض تندرست ہو گیا۔ اس مریض کی روداد میں دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ اسے پورا ہندوستان گھمایا۔ ہزاروں روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کیا تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ دوسرے طبیب اس بیماری کا کیا علاج کرتے ہیں؟ پھر آپریشن کے دوران اوزاروں کا صاف ہونا ایک مشکل مسئلہ ہے۔ ہسپتالوں میں اس غرض کے لئے لاکھوں روپے کے آلات نصب کئے جاتے ہیں لیکن چاندی میں یہ منفرد صلاحیت ہے کہ وہ جراثیم کو خود ہلاک کر سکتی ہے۔ اسی لئے چاندی کے اوزار سے لگایا گیا زخم خراب نہیں ہوتا۔
٭ حضرت خواجہ غلام فرید سجادہ نشین چاچڑاں شریف کے مشورہ پر نواب بہاولپور نے ان کو اپنے علاج کیلئے مدعو کیا۔ شفایاب ہونے پر ان کو خواہش ہوئی کہ حکیم نورالدین صاحب ریاست بہاولپور ہی میں بس جائیں تاکہ اور لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ نواب صاحب نے چاہا کہ ان کو ہزاروں ایکڑ کی ایک جاگیر دے کر فکرمعاش سے آزاد کردیں۔ آپ نے کہا: اب تو آپ اپنی ضرورت کیلئے چل کر بھی میرے پاس آتے ہیں اور جب میں ریاست کا ایک ذیلی جاگیردار ہوا تو حاضری دینا میرا فرض ہوگا … میں سرمایہ کے بدلے وقار کا سودا کرنے سے معذور ہوں۔
٭ اخبار ’’بھارت‘‘ نے20مارچ 1914ء کی اشاعت میں آپ کو ’’طبیب بے مثال‘‘ قرار دیا۔
٭ اخبار ’’طبیب‘‘ دہلی رقمطراز ہے:’’افسوس کہ ہندوستان کے ایک مشہور معروف طبیب مولوی حاجی حکیم نورالدین صاحب جو علوم دینیہ کے بھی متبحر عالم باعمل تھے اور جماعت احمدیہ کے محترم پیشوا۔ کچھ عرصہ عوارض ضعف پیری میں مبتلا رہ کر آخر جمعہ گزشتہ کو قریباً اسّی سال کی عمر پا کر رحلت فرما گئے۔ حکیم صاحب مغفور بلالحاظ احمدی وغیراحمدی یا مسلم یا غیر مسلم سب کے ساتھ شفقت علیٰ خلق اللہ کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے۔ آپ کے طریق علاج میں یہ چند باتیں خصوصیت سے قابل ذکر ہیں: یارواغیار ، مومن و کافر سب کو ایک نظر دیکھنا، طب یونانی وویدک کے علاوہ مناسب موقعہ پر ڈاکٹری مجربات سے بھی ابنائے ملک و ملت کو مستفید فرمانا، بعض خطرناک امراض کا علاج قرآن شریف سے استخراج کرنا، دوا کے ساتھ دعا بھی، علاج معالجہ کے معاملہ میں کسی کی دنیوی وجاہت سے مرعوب نہ ہونا، مریضوں سے مطلق طمع نہ رکھنا اور آپ کا اعلیٰ درجہ توکل و استغناء، نادار و مستحق مریضوں کا نہ صرف علاج مفت کرنا بلکہ اپنی گرہ سے بھی ان کی دستگیری و پرورش کرنا خصوصاً طلباء قرآن و حدیث و طب کی‘‘۔ (23مارچ 1914ئ)
٭ ’’علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ‘‘ نے لکھا: ’’قطع نظر اپنے مختص الفرقہ بعض خاص معتقدات کے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حکیم صاحب مرحوم ایک نہایت بلند پایہ عالم عامل اور علوم دینیہ کے بہت بڑے خادم تھے۔ اس پیرانہ سالی اور ضعف و مرض کی حالت میں بھی آپ کا بیشتر وقت تعلیم و تعلم میں صرف ہوتا تھا اور ایک طبیب حاذق ہونے کی حیثیت سے بھی آپ خلق اللہ کی بہت خدمت بجا لاتے تھے۔ اس لحاظ سے مرحوم کا انتقال واقعی سخت رنج و ملال کے قابل ہے۔‘‘ (حیات نور صفحہ 766)
٭ حضورؓ فرماتے ہیں:
’’میں کشمیر میں تھا ایک روز دربار کو جا رہا تھا۔ یار محمد خان ایک شخص میری اردلی میں تھا۔ اس نے راستہ میں مجھ سے کہا کہ آپ کے پاس جو یہ پشمینہ کی چادر ہے یہ ایسی ہے کہ میں اس کو اوڑھ کر آپ کی اردلی میں بھی نہیں چل سکتا۔ میں نے اس سے کہا کہ تجھ کو اگر بری معلوم ہوتی ہے تو میرے خدا کو تجھ سے بھی زیادہ میرا خیال ہے۔ میں جب دربار میں گیا تو وہاں مہاراجہ نے کہا کہ آپ نے ہیضہ کی وبا میں بڑی کوشش کی ہے آپ کو خلعت ملنا چاہئے۔ چنانچہ ایک قیمتی خلعت دیا۔ اس میں جو چادر تھی وہ نہایت ہی قیمتی تھی۔ میں نے یار محمد خان سے کہا کہ دیکھو ہمارے خداتعالیٰ کو ہمارا کیسا خیال ہے۔‘‘ (مرقاۃ الیقین صفحہ 250)
٭ حضورؓ فرماتے ہیں کہ میں جب بھوپال سے رخصت ہونے لگا تو اپنے استاد مولوی عبدالقیوم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ مجھ کو کوئی ایسی بات بتائیں جس سے میں ہمیشہ خوش رہوں۔ فرمایا کہ ’’خدا نہ بننا اور رسول نہ بننا‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ تم خدا کس کو کہتے ہو؟ میری زبان سے نکلا کہ خداتعالیٰ کی ایک صفت فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ فرمایا کہ بس ہمارا مطلب اسی سے ہے۔ یعنی تمہاری کوئی خواہش ہو اور وہ پوری نہ ہو تو تم اپنے نفس سے کہو کہ میاں تم کو ئی خدا ہو؟ رسول کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آتا ہے وہ یقین کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی سے لوگ جہنم میں جائیں گے۔ اس لئے اس کو بہت رنج ہوتا ہے۔ تمہارا فتویٰ اگر کوئی نہ مانے تو وہ یقینی جہنمی تھوڑا ہی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تم کو اس کا بھی رنج نہ ہونا چاہئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/R6eCf]

اپنا تبصرہ بھیجیں