حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 5 ؍مارچ 2021ء)
آنحضور ﷺکے صحابہ جو کہ سب کے سب آسمان روحانی کے ستارے تھے اور اس بات کے اہل تھے کہ ان کی اقتدا کی جائے نیزعشرہ مبشرہ ان اصحاب میں سے بھی وہ دس عظیم الشان لوگ تھے جو آنحضور ﷺکی محبت میں فنا تھے۔ ان عظمت کے میناروں میں مستجاب الدعوات حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی شامل تھے، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت نعجہ بن ملیح الخزاعیہ تھا۔
مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ لندن مئی جون 2013ء میں حضرت سعید بن زیدؓ کی سیرت و سوانح پر مشتمل ایک مضمون مکرم داؤد احمد عابد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

داؤد احمد عابد صاحب

حضرت سعیدؓ کے والد ماجد زیدبن عمروحضرت عمر ؓکے چچا زاد بھائی تھے،انہوں نے بعثت سے قبل آنحضور ﷺکو دیکھا تھا مگر زندگی نے وفا نہ کی اور بعثت نبوی سے قبل وفات پا گئے، اس کے باوجود یہ توحید پرست تھے اور دین ابراہیمؑ پر قائم تھے، اس ضمن میں انہوں نے شام کا سفر کیا اور یہود ونصاریٰ سے ملے، مگر انہیں ان میں وہ بات نہ ملی جسے وہ تلاش کر رہے تھے، سو دعا کی:

اللّٰھُمَّ اِنِّی عَلیٰ دِینِ اِبرَاھِیم‘

اے اللہ میں دین ابراہیم پر قائم ہوں’۔
حضرت سعیدؓ نے ایک مرتبہ آنحضور ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جیسا کہ آپؐ نے دیکھا اور آپؐ میرے والد صاحب کوجانتے ہیں، اگر وہ آپؐ کے زمانہ نبوت کو پاتے تو ضرور آپؐ پر ایمان لاتے اور آپؐ کی پیروی کرتے، اس لیے ان کے لیے مغفرت طلب کرنے کی استدعا ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: ہاں! پھر آپﷺ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا کی اور فرمایا کہ وہ اکیلے ایک اُمّت کے طور پر اٹھائے جائیں گے۔
حضرت عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ میں زید بن عمرو سے مکہ کے باہر ملا۔ وہ غار حرا کو جا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا کہ دیکھو مَیں نے اپنی قوم کو چھوڑتے ہوئے دینِ ابراہیم کی پیروی اختیار کی ہے، مَیں بنی اسماعیل میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ایک نبی کے آنے کا منتظر ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ مَیں اسے پا سکوں اور اس پر ایمان لا کر اس کی تصدیق کرکے اس کے نبی ہونے کی گواہی دے پاؤں، لیکن اگر تم اسے پاؤ تو اس کو میرا سلام کہنا۔ عامر کہتے ہیں جب میں ایمان لایا تو آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ کو زید بن عمرو کا سلام پہنچایا۔ آنحضور ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور ان کے لیے رحمت کے نزول کی دعا کی اور فرمایا کہ مَیں نے انہیں جنت میں اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے دیکھا ہے یعنی بڑا فاخرانہ لباس وہاں ان کو عطا ہوا ہے۔
زید بن عمرو زندہ در گور کیے جانے والی لڑکیوں کو بچانے کی سر توڑ کوشش فرماتے، جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنا چاہتا تو اسے سمجھاتے بجھاتے، پھر کہتے کہ میں اس کا خرچہ اٹھانے کو تیار ہوں، اگر اس پر بھی نہیں مانتے تو بچی مجھے دے دو۔ آپ اس بچی کو پالتے اور پھر جب وہ بچی بڑی ہوتی تو اس شخص سے پوچھتے کہ اگر تم چاہو تو اپنی بچی واپس لے لو، ورنہ میں اس کا خرچہ جاری رکھتا ہوں۔
زید کے گھر میں بائیس سال قبل ہجرت کو ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اس کی قسمت اور فطرت کی طرح سعید رکھا گیا۔ پاک ماحول میں پروان چڑھنے والے حضرت سعیدؓ دار ارقم میں داخل ہونے سے قبل عین اپنے عنفوان شباب میں ایمان لائے، یعنی آپ السابقون الاولون میں سے تھے۔ بدر کے سوا تمام غزوات میں آنحضور ﷺکے ساتھ رہے اور داد شجاعت دی۔ بدر کی جنگ سے پہلے رسول اللہ ﷺنے آپؓ کو حضرت طلحہؓ سمیت قریش کے تجارتی قافلے کی خبر لانے کے لیے بھجوایا تھا اس لیے آپ دونوں کو بدر کے مال غنیمت میں سے حصہ دیا گیا۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ حضرت سعیدؓ کی عمر اس وقت صرف بائیس تئیس سال کے لگ بھگ تھی، آنحضور ﷺکا آپؓ پر اس عنفوان شباب میں اعتبار آپؓ کی علو مرتبت کا غماز ہے۔
حضرت سعیدؓ کی اہلیہ محترمہ فاطمہ بنت الخطاب اُمّ جمیل حضرت عمرؓ کی ہمشیرہ تھیں اور حضرت عمرؓ کی اہلیہ محترمہ آپؓ کی ہمشیرہ حضرت عاتکہؓ تھیں۔ حضرت عمرؓ بھی آپ ہی کے ذریعہ سے ایمان لائے تھے، حضرت مالک بن انسؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ ایک دن اپنی تلوار لٹکائے گھر سے روانہ ہوئے، آپ کو بنی زھرہ کا ایک شخص ملا اور پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟انہوں نے جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے جواب دیا کہ میں محمد (ﷺ)کو قتل کرنے جا رہا ہوں، اس شخص نے کہا کہ اگر تم نے محمد (ﷺ)کو قتل کر دیا تو تم بنو ہاشم اور بنو زھرہ سے کیسے امن میں رہو گے؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ تم بھی صابی یعنی مسلمان ہو گئے ہو اور اپنے دین کو چھوڑ دیا ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ اے عمر میں تمہیں اس سے بھی زیادہ تعجب انگیز بات نہ بتاؤں؟ تمہارے برادر نسبتی اور ہمشیرہ مسلمان ہو گئے ہیں اور انہوں نے تمہارے دین کو چھوڑ دیا ہے۔اس پر حضرت عمر وہاں سے اپنی بہن کے ہاں پہنچے، اس وقت وہاں حضرت خبابؓ بھی تھے، انہوں نے جب حضرت عمر کی آواز سنی تو چھپ گئے، حضرت عمر نے پوچھا کہ یہ کیا آوازیں آرہی تھیں؟!وہ لوگ اس وقت سورۂ طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے، حضرت عمر نے پوچھا کہ لگتا ہے تم صابی ہو گئے ہو۔ حضرت سعیدؓ نے فرمایا کہ اے عمر اگر حق تمہارے دین کے باہر ہو تو؟ اس پر حضرت عمر ان پر پل پڑے اور ان کو پکڑ کر رگیدا، حضرت عمر کی بہن بیچ بچاؤ کروانے آگے بڑھیں تو حضرت عمر نے اپنے ہاتھ سے انہیں دور کرنا چاہا مگر ہاتھ ان کو سختی سے لگا اور ان کے چہرہ سے خون بہنا شروع ہو گیا، اور انہوں نے پُررُعب آواز میں کہا کہ اے عمر! اگر حق تمہارے دین کے باہر ہو تو! اور ساتھ ہی کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔ ایک طرف بہن کا خون اور دوسری طرف ان دونوں کا عزم صمیم حضرت عمر کو نرم کر گیا۔ وہ جو گھر سے کچھ کر کے آنے کا ارادہ لے کر نکلا تھاکہ آج فیصلہ کر کے ہی لَوٹوں گا خود اس کی قسمت کا فیصلہ ہونے کو تھا۔حضرت عمر نے کہا کہ اچھا پھر مجھے دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے تاکہ میں بھی تو دیکھوں کہ وہ کیا ہے۔ اس پر آپ کی بہن نے کہا کہ وہ پاک کلام ہے اسے صرف پاک لوگ ہی پڑھ سکتے ہیں، اس لیے نہا دھو لو تو مل سکتا ہے۔ اب نہانے دھونے سے رہا سہا غصہ بھی کافور ہو گیا۔ حضرت عمر جو اس وقت کے چند پڑھے لکھے سرداروں میں سے تھے جب انہوں نے سورۂ طہٰ کی ابتدائی آیات کی تلاوت شروع کی جن میں خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ اے کامل قوّتوں والے مرد! ہم نے تجھ پر قرآن کریم اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو شقی ہو جائے بلکہ یہ تو اس کے لیے بطور یاددہانی کے ہے جو اللہ تعالیٰ کی خشیت اپنے دل میں رکھتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ میں اللہ ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں سو میری عبادت کرو اور مجھے یاد کرنے کو نماز قائم کرو۔ حضرت عمرؓ جو فصاحت وبلاغت کے دلدادہ تھے اس کلام کی لطافت سے گھائل ہو کر فوراً آنحضور ﷺکی خدمت میں جانے کو بیتاب ہو گئے، اور کہا کہ مجھے حضور ﷺکے حضور میں لے چلو! یہ سن کر حضرت خبابؓ نکلے اور فرمایا: اے عمر خوشخبری ہو! میں یہی امید کرتا تھا کہ تم آنحضور ﷺ کی دعا کا ثمرہ ہو گے جو آپؐ نے جمعرات کے دن کی تھی کہ اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام سے معزز فرمادے۔
سو حضرت عمرؓ اس حویلی کی طرف چلے جہاں آنحضورﷺاپنے اصحاب کے ساتھ موجود تھے جن میں سے چند جاںنثاران جن میں حضرت حمزہ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی شامل تھے پہرہ دے رہے تھے، حضرت حمزہ نے جب عمر کو دور سے آتے دیکھاتو فرمایا کہ اگر تو ارادہ نیک ہے کہ ایمان لا کر آنحضورﷺ کے پیرو کاروں میں داخل ہونا ہے تو ٹھیک، ورنہ اس کی آج خیر نہیں! آنحضور ﷺپر اس وقت وحی نازل ہو رہی تھی۔ جب وحی کی حالت جاتی رہی تو آپؐ باہر تشریف لائے اور عمر کے گریبان سے پکڑتے ہوئے پوچھا کہ عمر!کیا تم باز آؤگے یا تمہارا بھی وہی انجام ہو جو ولید بن مغیرہ کا ہوا تھا؟ پھر آپؐ نے دعا کی کہ اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب سے عزت بخش! اس پر حضرت عمرؓ نے کلمہ تشہد پڑھا اور ایمان لے آئے۔
سو وہ گھر جس سے اسلام کو عمر بن خطاب کے ایمان سے عزت ملی وہ حضرت سعید بن زید اور آپ کی اہلیہ محترمہ فاطمہ بنت خطاب اُمّ جمیل کا گھر تھا۔اور حضرت عمرؓ کا اسلام لانا کوئی معمولی بات نہیں تھی کیونکہ ایک تو آپ آنحضور ﷺکی استجابت دعا کا پھل تھے بلکہ حدیث میں آیا ہے کہ جب حضرت عمرؓ ایمان لائے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام آنحضور ﷺکے پاس تشریف لائے اور کہا کہ یا رسول اللہ خوش ہو جائیں کہ اہل سماء حضرت عمر کے اسلام سے خوش ہیں۔یہیں پر بس نہیں بلکہ مشرکین کو جب اس عظیم واقعہ کی خبر ملی تو انہوں نے بر ملا کہا کہ آج ہم نصف رہ گئے۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان جو اس سے قبل چھپ کر نماز ادا کرتے تھے، حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے بعد اعلانیہ عبادت کرنے لگ گئے۔
حضرت سعیدؓ نے اپنی اہلیہ محترمہ سمیت پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی توفیق پائی۔ آنحضور ﷺنے حضرت سعید اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی۔
حضرت سعیدؓ کو جملہ غزوات میں شمولیت اور بہادری کے جوہر دکھلانے کی سعادت ملی، آپ ﷺ کے بعد بھی خلفائے راشدین کے دَور میں بھی آپ اپنا تن من دھن اسلام کی ترقی اور نشرو اشاعت کے لیے لٹاتے رہے، جب حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سے آپ کے احوال کی نسبت پوچھا، تو انہوں نے جواباً لکھا:جہاں تک آپ کے بھائیوں سعید بن زید اور معاذ بن جبل کا تعلق ہے تو وہ ویسے ہی ہیں جیسا کہ آپ انہیں جانتے ہیں، بلکہ سرداری نے انہیں زہد وقناعت میں مزید بڑھا دیا ہے۔
فتح دمشق کے وقت جب حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو فتح کا یقین ہو گیا تو آپ نے حضرت سعیدؓ کو وہاں کا والی مقرر فرمادیا، اس اعتبار سے آپ دمشق کے پہلے مسلمان والی تھے، مگر آپ کو نہ مال کی طلب تھی نہ جاہ وجلال اور سلطنت وحکومت اور مناصب کی۔ چنانچہ جب حضرت ابوعبیدہؓ اردن میں جہاد کر رہے تھے تو حضرت سعیدؓ نے انہیں خط لکھا اور کہا کہ مجھے جہاد میں شامل ہونے کا شوق ہے، اگر آپ مجھے اس میں شامل ہونے کی اجازت دیں اور ولایت کا منصب کسی اور کے سپرد کر دیں تو مناسب ہوگا۔حضرت ابو عبیدہ نے آپ کی رائے کا احترام کیا اور آپ کو اپنے ساتھ جہاد میں پھر سے شامل فرما لیا۔
جنگ یرموک اسلامی فتوحات میں ایک بہت بڑی فتح تھی۔ حضرت سعیدؓ بیان فرماتے ہیں کہ یرموک کے دن ہم چوبیس ہزار کے قریب تھے جبکہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی، وہ اپنے بھاری بھر کم فوجی طمطراق سمیت یوں حرکت کر رہے تھے جیسے کوئی خفیہ ہاتھ انہیں دھیرے دھیرے ایک پہاڑ کی طرح آگے کو سرکا رہا ہو۔ان کے مقدمہ میں ان کے پادری، بشپ اور مذہبی لوگ تھے جو صلیبیں اٹھائے مذہبی کلمات دہراتے آگے بڑھ رہے تھے۔ اُنہی کلمات کو فوج ان کے پیچھے دہرا رہی تھی جس سے ایسی گونج پیدا ہو رہی تھی جیسے بجلی کا کڑکا ہو، مسلمانوں کے اوپر ان کی کثرت اور اس انداز سے بڑھے چلے آنے کی دھاک بیٹھ رہی تھی۔ اس پر حضرت ابو عبید اللہ نے مسلمانوں میں کھڑے ہوکر خطاب فرمایا اور انہیں جہاد کی ترغیب دلائی۔ مسلمان فوج میں سے ایک شخص نکلا اور حضرت ابو عبیدؓہ سے عرض کیا کہ میں نے ایک خاص عزم کیا ہے، اگر آپ نے آنحضور ﷺکو کوئی پیغام پہنچانا ہو تو بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! آنحضور ﷺ کو میرا اور مسلمانوں کا سلام عرض کرنا اور کہنا کہ یا رسول اللہ یقیناً ہم نے تمام وہ وعدے جو ہمارے ربّ نے ہم سے کیے تھے انہیں حق پایا ہے۔ حضرت سعیدؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات سنتے ہی دیکھا کہ حضرت ابوعبیدہؓ نے اپنی تلوار سونتی اور دشمن سے بھڑنے کو تیار ہوئے۔ اسی لمحہ مَیں زمین پر جھکا، اپنے گھٹنے زمین پر ٹکائے اور اپنے نیزے سے دشمن پر وار کرنے کے لیے دشمن کی طرف بھاگا اور حملہ کر دیا۔ بس پھر کیا تھا، جیسے اللہ تعالیٰ نے دشمن کا خوف ہمارے دلوں سے کھینچ باہر نکال دیا ہو۔ مسلمان فوج نے بے جگری سے حملہ کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے ہمکنار فرمادیا۔
اس واقعے سے کئی نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ خدانخواستہ صحابہ کو قتل وغارت گری کا شوق نہیں تھا اور نہ ہی انہیں جہاں بانی ستاتی تھی کیونکہ اگر سامنے پانچ گُنا فوج ہو تو انسان کے واہمہ میں بھی جہاں بانی نہیں آتی۔ دراصل اگر انہیں شوق تھا تو اعلائے کلمۃاللہ کا، اور جو اس راہ میں اپنی کثرت کے بل بوتے پر حائل ہوتا تھا تو پھر صحابہ اور سلف صالح اپنی بے سروسامانی کی پروا کیے بغیر جان جوکھوں میں ڈال کر اس کے مقابلے پر سینہ سپر ہوجاتے تھے۔
حضرت سعیدؓ مستجاب الدعوات بھی تھے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ ازدیاد ایمان کا باعث ہوگا، منافقین کی جیسا کہ عادت تھی عظیم لوگوں پر الزام لگا کر حکومت کو کمزور کرنا ان کا شیوہ تھا اور اس چیز نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا۔ یہی حرکت حضرت عثمانؓ کی شہادت کا باعث بنی جس کے بعد پھر اُمّت اسلامیہ ایک امام کے پیچھے نماز نہ ادا کرسکی۔ اسی قسم کے لوگوں میں سے ایک أروہ بنت قیس بھی تھی۔ اس نے حضرت سعیدؓ کے خلاف مروان بن الحکم کی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کیا کہ آپؓ نے میری زمین ہتھیالی ہے، مروان نے اپنے عمّال آپؓ کی خدمت میں بغرضِ تحقیق بھجوائے۔ آپ کو جب اس معاملے کی خبر ہوئی تو حیران رہ گئے۔ فرمایا:میں نے خود آنحضور ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے ظلم کی راہ سے کسی کی بالشت بھر زمین بھی ہتھیائی وہ اس کے گلے میں سات گنا بڑھا کر بطور طوق ڈالی جائے گی۔ مروان نے کہا مجھے بات سمجھ آ گئی ہے میں آپ سے کوئی اَور دلیل نہیں مانگتا۔ آپؓ نے اس پر دعا کی کہ اے اللہ! یہ (أروہ)سمجھتی ہے کہ مَیں نے اس پر ظلم کیا ہے۔ اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے اندھا کر دے اور اسے اسی کنویں میں گرا دے جس کی بابت یہ مجھ سے جھگڑ رہی ہے اور میرے حق میں وہ نور ظاہر فرما جس سے مسلمانوں پر ظاہر ہو جائے کہ میں نے اس پر کوئی ظلم روا نہیں رکھا۔
اس کے چند دن بعد مدینہ میں سخت سیلاب آیا جس سے ان کی زمینوں کی حد واضح ہو گئی اور سب کو پتہ چل گیا کہ آپ حق پر تھے، نیز ابھی مہینہ نہیں گزرا تھا کہ اس عورت کی بینائی جاتی رہی اورایک دن جب وہ اپنی زمین پر دیکھ بھال کے لیے گئی ہوئی تھی تو اسی کنویں میں گری اور موت کا شکار ہو گئی۔
اُمّ المومنین حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب فوت ہونے لگیں تو آپؓ نے وصیت فرمائی کہ میرا جنازہ حضرت سعید پڑھائیں گے۔یہ اُمّ المومنینؓ کے نزدیک آپؓ کے تقویٰ اور نیکی کی شہادت ہے۔
حضرت سعید بن زیدؓ کی وفات 51 ہجری میں ہوئی۔ آپؓ کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے آپ ؓکو غسل دیا اورتدفین مدینہ منورہ میں ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں