صحابہؓ حضرت مسیح موعودؑ کی نماز تہجد

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:-
’’مَیں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقویٰ ترقی پذیر ہے … مَیں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں‘‘۔ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد11۔ صفحہ 315)
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے بیٹے محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کو حصول تعلیم کے لئے مصر روانہ فرمایا تو اپنی قلم سے انہیں یوں نصیحت فرمائی: ’’تہجد غیرضروری چیز نہیں، نہایت ضروری نماز ہے۔ جب میری صحت اچھی تھی اور جس عمر کے تم اب ہو، اس سے کئی سال پہلے سے خدا تعالیٰ کے فضل سے گھنٹوں تہجد ادا کرتا تھا۔ تین تین چار چار گھنٹہ تک اور رسول کریمﷺ کی اس سنّت کو اکثر مدّنظر رکھتا تھا کہ آپؐ کے پاؤں کھڑے کھڑے سوج جاتے تھے‘‘۔
حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے ارادہ کیا کہ آج کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا اور تنہائی میں اپنے مولیٰ سے جو چاہوں گا، مانگوں گا۔ مگر جب مسجد مبارک میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدے میں پڑا ہوا ہے اور الحاح سے دعا کر رہا ہے۔ اس کے الحاح کی وجہ سے مَیں نماز بھی نہ پڑھ سکا اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ پر بھی طاری ہوگیا اور مَیں بھی دعا میں محو ہوگیا کہ یا الٰہی! یہ شخص تیرے حضور سے جو کچھ بھی مانگ رہا ہے، وہ اس کو دے دے ۔ اور مَیں کھڑا کھڑا تھک گیا کہ یہ شخص سر اٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے۔ مَیں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آئے ہوئے تھے مگر جب آپ نے سر اٹھایا تو دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں۔ مَیں نے السلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا اور پوچھا: میاں! آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا؟ تو آپؓ نے فرمایا: مَیں نے تو یہی مانگا ہے کہ الٰہی! مجھے میری آنکھوں سے دین کو زندہ کرکے دکھا۔
حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک رات قادیان میں گرمیوں کے موسم میں میری آنکھ دل ہلادینے والی کرب میں ڈوبی ہوئی آواز سے کھل گئی اور مجھے خوف محسوس ہوا۔ جب مَیں نیند سے بیدار ہوا تو احساس ہوا کہ حضرت مصلح موعودؓ تہجد کی نماز ادا فرما رہے تھے۔ آپؓ بار بار اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم کو اتنے گداز سے پڑھ رہے تھے کہ یوں معلوم دیتا تھا کہ ہانڈی ابل رہی ہو اور مجھے یوں لگا کہ آپ نے اس دعا کو اتنی مرتبہ پڑھا جیسے کبھی ختم نہ ہوگی۔
ایک دفعہ ایک نوجوان نے حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ سے کہا کہ یورپ میں فجر کی نماز اپنے وقت پر ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ آپؓ نے جواباً فرمایا کہ اگرچہ مجھے اپنی مثال پیش کرنے میں سخت حجاب ہوتا ہے لیکن آپکی تربیت کیلئے بتاتا ہوں کہ خداکے فضل سے نصف صدی کا عرصہ یورپ میں گزارنے کے باوجود فجر تو فجر مَیں نے کبھی نماز تہجد بھی قضا نہیں کی۔ یہی حال باقی پانچ نمازوں کا ہے۔
حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحبؓ سے آپ کی صاحبزادی نے پوچھا کہ آپؓ نے کس عمر میں نماز باجماعت پڑھنی شروع کی تو آپؓ نے فرمایا کہ نماز کا تو مجھے یاد نہیں البتہ تہجد کی نماز مَیں نے پندرہ سال کی عمر سے پڑھنی شروع کردی تھی۔
حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں نے تہجد کی نماز چھوٹی عمر سے پڑھنی شروع کردی تھی اور اللہ کے فضل سے کبھی ناغہ نہیں کیا۔
حضرت مولوی غلام رسول راجیکی صاحبؓ شب بیدار تھے۔ اگر کبھی تہجد کے وقت اٹھنے میں دیر ہوجاتی تو ایک فرشتہ آپؓ کو اٹھادیا کرتا تھا۔
حضرت حافظ نور محمد صاحبؓ اور حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔ دونوں قادیان جایا کرتے اور حضورؑ کے پاس ایک تخت پوش پر سو رہتے تاکہ حضورؑ تہجد کے لئے اٹھیں تو آپ دونوں بھی شریک ہوسکیں۔
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ اپنے شوہر حضرت نواب محمد علی خانصاحبؓ کے بارہ میں گواہی دیتی ہیں کہ آپؓ بہت دعائیں کرتے تھے۔ رات کو تہجد میں دعائیں کرتے تو یوں معلوم ہوتا کہ خدا تعالیٰ کا نُور کمرہ میں نازل ہورہا ہے۔ بہت دعائیں کرتے اور گریہ و زاری کرتے۔
حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحبؓ بھی تہجد کی اس قدر پابندی اور التزام فرماتے کہ آپؓ کے ایک فرزند کہتے ہیں کہ مَیں عرصہ تک سمجھتا رہا کہ نماز تہجد بھی فرض ہے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ جس روز تہجد کا ناغہ ہوجائے، اُس روز مَیں اشراق کے وقت بارہ نوافل ادا کرتا ہوں۔
حضرت حافظ حامد علی صاحبؓ کے بارہ میں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ گواہی دیتے ہیں کہ باوجود یکہ آپؓ بے حد مصروف رہتے تھے مگر یہ حیرت انگیز امر ہے کہ ایک شخص جو دن بھر کام کرتے کرتے چُور ہوگیا ہو، وہ رات کی آخری گھڑیوں میں تہجد کی نماز میں مصروف دیکھا جاتا ہے اور اس قدر خشوع و خضوع اور گریہ و زاری سے وہ آستانہ الٰہی پر گرا ہوا ہے جیسے کہ کوئی مجروح انسان دردوں سے چلاّتا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اس قدر قوت یہ شخص کہاں سے پاتا ہے اور رات کو کس وقت سوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا رنگ حضرت صاحب کی پاک صحبت میں چڑھ گیا تھا۔
حضرت ملک غلام فرید صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرت ملک نورالدین صاحبؓ تہجد کے سخت پابند تھے۔ مَیں نے اپنی ساری عمر میں ایک دفعہ بھی اپنے والد کی تہجد کی نماز ضائع ہوتے نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ وہ ایسے سخت بیمار ہوں کہ ان کے ہوش قائم نہ رہے ہوں۔ نماز تہجد بڑے التزام سے ادا کرتے۔ آدھی رات کے قریب اٹھ کر مسواک کرتے اور کئی دفعہ دونوں ہاتھ اٹھاکر لمبے عرصہ تک دعا کرتے۔
حضرت سید حامد علی شاہ صاحبؓ سیالکوٹی بیان فرماتے ہیں کہ حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحبؓ پولیس انسپکٹر تھے لیکن باوجود سرکاری مصروفیات کے پچھلی رات کو پاک و صاف ہوکر نماز میں کھڑے ہونا قضا نہیں کرتے تھے۔
حضرت حاجی غلام احمد صاحب ؓ کے بارہ میں مکرم میاں عطاء اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپؓ باقاعدگی سے نماز تہجد پڑھتے تھے۔ ایک دفعہ دعوت الی اللہ کے لئے مجھے بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔ وہاں رات کے دو بجے تک گفتگو ہوتی رہی اور کوئی اڑہائی بجے ہم بستروں میں لیٹے۔ تین سوا تین بجے میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ آپؓ تہجد پڑھ رہے تھے۔ پھر صبح کی نماز کے لئے بھی سب سے پہلے جاگنے والوں میں سے تھے نیز ضحیٰ اور اشراق کے نوافل بھی باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔
حضرت مولوی ابوالمبارک محمد عبداللہ صاحبؓ فرماتے ہیں کہ نماز تہجد کی عادت مجھے حضرت اماں جان کی پاک شفقت کی بدولت نصیب ہوئی جو بعد میں دوام اختیار کرگئی۔
حضرت حافظ معین الدین صاحب کو حضرت مسیح موعودؑ کی برکت سے عبادت الٰہیہ میں اس قدر شوق تھا کہ کثرت سے نوافل ادا کرتے۔ سوتے کم اور جاگتے زیادہ تھے۔ حتیٰ کہ پاؤں سوج جاتے۔
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ پر حضورؑ اور حضرت اماں جانؓ کی پاکیزہ صحبت کا ایسا اثر تھا کہ بہت چھوٹی عمر سے تہجد شروع کردی۔ چار سال کی تھیں جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی بیوی کو کہا ہوا تھا کہ مجھے تہجد کے لئے اٹھا دیا کریں۔
حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ کی والدہ حضرت حسین بی بی صاحبہؓ کی غذا ہی نماز اور استغفار تھی۔ اگر تہجد کے وقت جسمانی عوارض اٹھنے نہ دیتے تو اس کی کمی نماز چاشت سے پوری کرتیں۔
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں:

جب سے مَیں بیعت میں داخل ہوگیا
تارکِ جملہ رذائل ہو گیا
تھا کبھی جو تارکِ فرض و سنن
اب وہ پابندِ نوافل ہو گیا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍مارچ 2002ء میں شامل اشاعت مضمون میں مکرم عبدالسمیع خانصاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے کئی اصحاب کا ذکر کیا ہے جنہوں نے نماز تہجد کی ادائیگی عملاً خود پر فرض کر رکھی تھی ان میں سے چند ایک کا بیان یہاں کیا جاسکا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں