لڑکیوں کو حق وراثت سے محرومی کیوں؟

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ جون 2006ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں قرآن و حدیث کے حوالہ سے قانون وراثت کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور مثالیں دے کر واضح کیا گیا ہے کہ احمدیت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس معاشرتی برائی کے خلاف باقاعدہ جہاد کیا گیا ہے۔ چنانچہ مضمون نگار اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک شخص کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں تھیں۔ تھوڑی سی زرعی زمین تھی جسے اگر تقسیم کیا جاتا تو کسی کو کچھ خاص حصہ نہ ملتا۔ بہنوں نے بھائی کی محبت میں اپنا حصہ چھوڑ دیا۔ لیکن بیٹا بہت سعید فطرت تھا، اُس نے فوج کی سروس میں اقساط پر ایک پلاٹ خریدا ہوا تھا جس کی قیمت کئی گُنا بڑھ گئی۔ اُس نے وہ پلاٹ پچاس لاکھ روپے میں بیچ کر ساری رقم اپنی بہنوں کو دیدی جو اُس زمین میں اُن کے حصہ سے کئی گنا زیادہ تھی۔
اسی طرح ایک متموّل خاندان کے سربراہ فوت ہوئے تو ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے۔ باپ نے اپنی زندگی میں کچھ رقم بیٹی کو دی تھی۔ جب بیٹی نے والد کی باقی رقم میں سے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا تو ماں اور بیٹے نے کہا کہ تمہارا والد پہلے ہی تمہیں تمہارے حصہ سے زیادہ دے گیا ہے۔ لیکن وہ مطمئن نہ ہوئی اور قضاء میں شکایت کردی۔ قضاء نے جانبین کا مؤقف سن کر بیٹی کو اُس کا حق دلوایا جو ماں اور بیٹے کو دینا پڑا۔
ورثہ کی تقسیم کے احکامات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کرکے ان کی اہمیت واضح کردی ہے۔ ایک طرف لڑکیوں کو وراثت میں جائز حصہ دینے کی تلقین کی ہے اور دوسری طرف اُن کے جائز حصہ کو ناجائز طور پر روکنے کی مناہی بھی فرمادی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں