محترمہ امۃالحئی صاحبہ آف ملتان

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 31 جولائی 2020ء)

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ فروری 2012ء میں محترمہ امۃالحئی صاحبہ اہلیہ چودھری محمد اکرام اللہ صاحب مرحوم (سابق امیر جماعت احمدیہ ملتان)کا ذکرخیر مرحومہ کی بیٹی کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔مرحومہ حضرت محمد بشیر چغتائی صاحبؓ کی بیٹی، حضرت بابو روشن دین صاحبؓ بانی مدرسہ احمدیہ سیالکوٹ کی پوتی، حضرت شیخ نیاز محمد صاحبؓ کی نواسی اور حضرت بابو اکبرعلی صاحبؓ آف سٹارہوزری قادیان کی بہو تھیں۔ 15؍جولائی 2011ء بروز جمعہ کو 81؍سال کی عمر میں وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔
مکرمہ امۃالحئی صاحبہ مرحومہ بے حد دعاگو اور سادہ مزاج تھیں۔ پنجگانہ نماز کے علاوہ نماز تہجد و اشراق کا التزام بھی کرتیں۔ روزہ، زکوٰۃ اور متفرق چندوں کی ادائیگی کا بہت خیال رکھتیں۔ شادی سے قبل 16 سال کی عمر میں نظام وصیت میں شامل ہوگئی تھیں۔ ایک بار حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؓ نے یورپ کی کسی مسجد کے لیے چندے کی تحریک کی تو آپ کے پاس صرف ایک طلائی انگوٹھی تھی جو آپ نے پیش کردی۔ طوعی چندہ جات اپنے والد کی طرف سے بھی دیا کرتیں۔ وفات سے قبل ہمیں ترغیب دی کہ ہم لاہور اور ملتان میں اپنے فلیٹس اور کوٹھی کا سارا سامان طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کو بطور ہدیہ پیش کردیں۔
آپ نے اپنی وفات تک پردے کا خاص خیال رکھا۔ 25سال تک لجنہ امائاللہ ملتان کی مختلف حیثیتوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ چار سال تک بہت فعّال صدرلجنہ بھی رہیں اور اس دوران لجنہ ملتان پہلی مرتبہ اوّل قرار پائی۔
آپ اپنے شوہر کا غیرمعمولی احترام اور اُن کی بھرپور معاونت کرتیں۔ اگر انہوں نے کبھی کسی بات سے منع کیا تو اُن کی وفات کے بعد بھی اُن کی ہدایت کا خیال رکھا۔ بچوں کی تربیت کے لیے آپ نے اپنی دیگر مصروفیات کو قریباً ختم کردیا۔ فجر، مغرب اور تہجد کی نمازیں اکثر گھر میں باجماعت ادا کرواتیں۔ربوہ میں ہونے والے تربیتی پروگراموں میں شامل ہونے کے لیے اپنے بچوں کو ضرور بھجواتیں۔ تربیت کا اپنا ہی انداز تھا۔ اگر بچے کبھی جائز ضرورت کے لیے پیسے مانگتے تو جواب ملتا: اللہ میاں سے مانگو، قادر ذات صرف خدا کی ہے۔
بچوں سے بہت دوستانہ تعلق رکھا۔ ہر بچہ بلاتکلّف ہر موضوع پر آپ سے بات کرلیتا۔اگلی نسل سے بھی ایسا ہی تعلق رکھا ہوا تھا۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم انس احمد چودھری صاحب کو 1980ء میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں شہید کردیا گیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ یہ پندرھویں صدی ہجری کا پہلا شہید ہے۔ جوان بیٹے کی شہادت پر مرحومہ نے کمال کا صبر دکھایا۔ ایک دفعہ تعزیت کے لیے آنے والے چند مہمانوں کے سامنے مَیں جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور بے ساختہ رونے لگی تو آپ نے مجھے کمرے سے باہر بھیج دیا اور بعد میں بہت ناراض ہوئیں کہ آنسو صرف خداتعالیٰ کے حضور بہاتے ہیں جس کے پاس ہر درد کا مداوا ہے۔
آپ کے تمام بچے بچیاں موصی ہیں اور مختلف حیثیت میں خدمت دین کی توفیق پارہے ہیں۔ مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پردے میں رہتے ہوئے.Ph.D کرنے کی توفیق ملی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر تمغہ عطا فرمایا اور تمغہ پہنانے کے لیے اہتمام سے والدہ مرحومہ کا انتخاب فرمایا کہ جن کی اعلیٰ تربیت کی وجہ سے مجھے یہ نمونہ قائم کرنے کی توفیق ملی تھی۔
آپ بہت شفیق تھیں۔ گھریلو ملازمین سے ناراضگی بھی ہوتی تو خیال رکھتیں کہ وہ کھانا کھائے بغیر نہ جائیں۔ اگر کبھی ملازمہ کو تھکا ہوا محسوس کرتیںتو جلدی گھر بھیج دیتیں۔
آپ کی وفات بہت اچانک ہوئی۔ آپ اپنے نواسے کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان گئی تھیں۔ گھر سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے مجھے تاکید کی کہ اُن کی وصیت کی فائل رکھنا نہ بھولوں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں