آنحضرت ﷺ مذہبی رواداری کے علمبردار

August 29, 2026 7 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اگست 2026ء)

اسلام نے محض عدل کی ہی تعلیم نہیں دی بلکہ اس کے آگے بڑھ کر احسان کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (النحل:91)۔ نیز اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: جن لوگوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائی نہیں کی اور تمہیں جِلاوطن نہیں کیا، اُن کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا۔ (الممتحنۃ:9)۔ پس اسلام غیراقوام سے تمدّنی تعلقات قائم کرنے، انصاف اور نیکی کا سلوک کرنے کی ہدایت فرماتا ہے۔ آنحضور ﷺ کی مذہبی رواداری کے حوالے سے واقعات کا ایک انتخاب ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر 2012ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے شاملِ اشاعت ہے۔

حافظ مظفر احمد صاحب

آنحضورﷺ نے غیرحربی مشرکین سے ہمیشہ حُسنِ معاملہ کا طریق اختیار فرمایا۔ چنانچہ بنوثقیف کا وفد جب طائف سے آیا تو نبی کریمﷺ نے اُن کو مسجد میں ٹھہرایا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ مشرکین کو قرآن کریم نے نجس قرار دیا ہے اس لیے ان کو مسجد میں نہ ٹھہرایا جائے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس آیت میں دل کی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے، جسموں کی ظاہری گندگی مراد نہیں۔
بنوثقیف کے وفد کے اکثر لوگ بعض جاننے والوں کے گھروں میں ٹھہر گئے جبکہ بنی مالک کے لیے نبی کریم ﷺ نے خیمہ لگاکر انتظام کروایا اور روزانہ نماز عشاء کے بعد آپؐ اُن کے ساتھ مجلس بھی فرماتے تھے۔
ایک موقع پر آنحضورﷺ نے ایک مشرک مہمان کی خود مہمان نوازی کی اور اُسے سات بکریوں کا دودھ پلایا۔
جنگ بدر میں جب ستّر کفار مکّہ قیدی ہوئے تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں پر انتہائی مظالم کیے تھے اور ان مظالم کی وجہ سے ہی مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور ہونا پڑا تھا بلکہ مدینہ میں بھی پیچھا کیا اور نہتّے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ تاہم نبی کریم ﷺ نے ان قیدیوں کے ساتھ بھی حُسن سلوک کی تعلیم دی۔ آپؐ نے مختلف گھرانوں میں بدر کے قیدی تقسیم کرتے ہوئے فرمایا: دیکھو ان قیدیوں کا خیال رکھنا۔ چنانچہ ابوعزیز بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ مَیں انصار کے ایک گھرانے میں قید تھا۔ جب وہ صبح یا شام کا کھانا کھاتے تو مجھے خاص طور پر روٹی مہیا کرتے اور خود کھجور پر گزارہ کرلیتے۔ اُن کے خاندان میں کسی فرد کو روٹی کا کوئی ٹکڑا ملتا تو وہ مجھے پیش کردیتا۔ مَیں شرم کے مارے واپس کرتا مگر وہ مجھے ہی لَوٹادیتے۔
انہی قیدیوں میں حضرت عباسؓ بھی تھے جن کے جسم پر کوئی قمیص نہ تھی۔ رسول کریمﷺ نے اُن کے لیے قمیص تلاش کروائی۔ چونکہ وہ لمبے قد کے تھے بالآخر عبداللہ بن اُبی کی قمیص اُن کو پوری آگئی۔
اُس زمانے میں دستور کے مطابق جنگی قیدیوں کی سزا موت تھی۔ یہودونصاریٰ کو بھی اُن کی مذہبی کتاب استثناء میں یہی تعلیم دی گئی تھی کہ جس قوم پر فتح پاؤ اُس کے مَردوں کو قتل کردو اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالو۔ حضرت عمرؓ بھی یہ رائے پیش کرچکے تھے کہ سرکردہ قریش اس لائق ہیں کہ قتل کردیے جائیں۔ اس پر رسول کریمﷺ نے اُن کے رحم کے جذبات ابھارنے کے لیے فرمایا: ’’اب اللہ نے تم لوگوں کو اِن پر قبضہ اور اختیار دے دیا ہے اور یہ کل تک تمہارے بھائی تھے۔‘‘ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! آپ ان کو معاف کرکے فدیہ قبول فرمائیں۔ رسول کریم ﷺ یہ مشورہ سُن کر بہت خوش ہوئے اور قیدیوں سے فدیہ قبول فرمالیا۔
آنحضورﷺ کے جنگی قیدیوں سے حُسن سلوک کے بارے میں سرولیم میور لکھتا ہے: محمدؐ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اہالیانِ مدینہ اور وہ مہاجرین جنہوں نے یہاں اپنے گھر بنالیے تھے، کے پاس جب بدر کے قیدی آئے تو انہوں نے اُن سے نہایت عمدہ سلوک کیا۔ ایک قیدی بعد میں خود کہا کرتا تھا کہ اللہ رحم کرے مدینہ والوں پر کہ وہ ہمیں سوار کرتے تھے اور خود پیدل چلتے تھے، ہمیں کھانے کے لیے گندم کی روٹی دیتے تھے جس کی اُس زمانے میں بہت قلّت تھی اور خود کھجوروں پر گزارہ کرتے تھے۔ اس لحاظ سے یہ بات تعجب خیز نہیں ہونی چاہیے کہ بعد میں جب ان قیدیوں کے لواحقین فدیہ لے کر اُنہیں آزاد کروانے آئے تو ان میں سے کئی قیدیوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا اور ایسے تمام قیدیوں کو محمد (ﷺ) نے فدیہ لیے بغیر آزاد کردیا۔ (لائف آف محمدؐ جلد1 صفحہ242)
رسول کریم ﷺنے ہر قیدی کی توفیق کے مطابق آسان فدیہ مقرر کرکے اُن کو آزاد فرمادیا۔ جو قیدی لکھنا پڑھنا جانتے تھے اُن پر صرف یہ فدیہ عائد کیا گیا کہ وہ دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں۔ یہ بھی آپؐ کی طرف سے ایک احسان تھا ورنہ اُس زمانے میں قیدیوں سے مفت خدمت لی جاتی تھی۔
حضرت حسن اسودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ کے موقع پر مقتولین میں کچھ بچوں کی نعشیں بھی پائی گئیں۔ آنحضور ﷺ نے دیکھیں تو فرمایا کہ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے جنگجو مردوں کے ساتھ معصوم بچوں کو بھی قتل کرڈالا؟ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مشرکوں کے بچے ہی تو تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آج تم میں سے بہترین لوگ بھی کل مشرکوں کے بچے ہی تو تھے۔ یاد رکھو پیدا ہونے والا ہر بچہ نیک فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کے بعد اس کے ماں باپ اُسے یہودی یا عیسائی بنادیتے ہیں۔
مشہور مستشرق سٹینلے پول نے تسلیم کیا ہے کہ جب آپؐ نے قریش کے سالہاسال کے ظالمانہ مصائب سے درگزر کرتے ہوئے عام معافی کا اعلان فرمادیا تو اس عفو عام کے نتیجے میں آپؐ نے اپنے دشمنوں اور نفس پر ہی فتح حاصل نہیں کی بلکہ اُن کے دلوں پر بھی فتح حاصل کرلی۔
سرولیم میور بھی لکھتا ہے: محمد(ﷺ) نے جلد ہی اس کا انعام بھی پالیا اور وہ یوں کہ آپؐ کے وطن کی ساری آبادی صدق دل سے آپؐ کے ساتھ ہوگئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم چند ہفتوں میں دو ہزار مکہ کے باسیوں کو مسلمانوں کی طرف سے (حنین میں) لڑائی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے یہود، مشرکین اور دیگر قبائل کے ساتھ جو معاہدہ ’’میثاق مدینہ‘‘ کیا، یہ معاہدہ انسانی حقوق، آزادیٔ مذہب اور حرّیت ضمیر کی بہترین ضمانت ہے۔
مدینہ میں ایک موقع پر ایک مسلمان اور یہودی کے مابین رسول اللہﷺ اور حضرت موسیٰؑ کی فضیلت کا تنازعہ کھڑا ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے موسیٰؑ پر فضیلت مت دو۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ کچھ یہودی آئے۔ انہوں نے السّام علیک کہہ کر نبی کریم ﷺ کو طعن کیا۔ مَیں بول پڑی کہ اے یہودیو! تم پر لعنت اور ہلاکت ہو۔ نبی کریم ﷺ نے یہود کو کچھ کہنے کی بجائے مجھے سمجھایا اور فرمایا: ٹھہرو اے عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر بات میں نرمی پسند کرتا ہے۔ مَیں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپؐ نے سنا نہیں کہ انہوں نے آپؐ کو کیا کہا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: مَیں نے بھی تو علیکم کہہ دیا تھا کہ تم پر۔
ایک دفعہ مدینہ میں یہودی کا جنازہ آرہا تھا۔ نبی کریم ﷺ جنازے کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ کسی نے عرض کیا: حضورؐ! یہ یہودی کا جنازہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اس میں جان نہیں تھی، کیا وہ انسان نہیں تھا! گویا آپؐ نے شرفِ انسانی کو اس پہلو سے بھی قائم فرمایا۔
حضرت یعلیٰ ؓ بن مروہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ کئی سفر کیے۔ کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ آپؐ نے کسی انسان کی نعش پڑی دیکھی ہو اور اُسے دفن نہ کروایا ہو۔ آپؐ نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ یہ مسلمان ہے یا کافر ہے؟ چنانچہ بدر میں ہلاک ہونے والے مشرک سرداروں کو بھی آپؐ نے میدانِ بدر میں ایک گڑھے میں دفن کروایا جسے قلیبِ بدر کہتے ہیں۔
رسول کریم ﷺ نے ہمیشہ غیرمذاہب کے لوگوں سے خوشگوار تعلقات رکھے۔ آپؐ نے مدینہ میں ایک یہودی لڑکے کو اپنی گھریلو خدمت کے لیے ملازم رکھا ہوا تھا۔ اُس کی بیماری میں آپؐ نے اُس کے گھر جاکر عیادت فرمائی۔ اسی طرح ایک یہودی کی معمولی دعوت قبول فرمائی جس میں اُس نے جَو اور چربی پیش کیے۔

مسجد نبوی مدینہ منورہ

نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تو بحث کے دوران اُن کی عبادت کا وقت آگیا۔ نبی کریمﷺ نے انہیں مسجد نبوی میں ہی اپنے مذہب کے مطابق مشرق کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرنے کی اجازت فرمائی۔ بعدازاں اہلِ نجران سے جو معاہدہ ہوا اُس میں اُنہیں مذہبی آزادی کے مکمل حقوق عطا کیے گئے۔ معاہدے میں یہ بھی طے تھا کہ اہلِ نجران جزیہ دیں گے اور بدلے میں مسلمان اُن کی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے نیز اُن کی حکومت و ملکیت اور دین کے حقوق میں بھی کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ مسٹر کرینسٹن اپنی کتاب ’’World Faith‘‘ میں اس معاہدے کے حوالے سے لکھتے ہیں: کیا دنیا میں کسی فاتح قوم یا مذہب نے اپنی مفتوح قوموں کو اس سے بڑھ کر تحفّظات کی ضمانت دی ہے جو ہادیٔ اسلام ﷺ کے ان الفاظ میں موجود ہے۔ دنیا کے کسی مذہب میں اس سے زیادہ روادارانہ اور حقیقی طور پر برادرانہ تعلیم تلاش کرنا مشکل ہے۔ اٹلانٹک چارٹر سے بھی تیرہ سو سال پیشتر محمد ﷺ نے یہودی اور عیسائی قبیلوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد اُن سے جو معاہدات کیے اُن کی مذہبی آزادی اور مقامی لحاظ سے اُن کی خودمختاری کو تسلیم کیا گیا تھا۔
اطالوی مستشرقہ پروفیسر ڈاکٹر وگلیری اسلامی رواداری کے حوالے سے اپنے مضمون An Interpretation of Islam میں لکھتی ہیں: قرآن شریف فرماتا ہے کہ اسلام میں جبر نہیں۔ محمدﷺ ہمیشہ ان خدائی احکام کی پیروی کرتے تھے اور سب مذاہب کے ساتھ عموماً اور توحید والے مذاہب کے ساتھ خصوصاً بہت رواداری برتتے تھے۔ آپؐ کفار کے مقابلے میں صبر اختیار کرتے۔ آپؐ نے نجران کے عیسائیوں کے متعلق یہ ذمہ لیا کہ اُن کے ادارے محفوظ رکھے جائیں اور یمن کی مہم کے سپہ سالار کو حکم دیا کہ کسی یہودی کو اُس کے مذہب کی وجہ سے دکھ نہ دیا جائے۔ آپؐ کے خلفاء بھی اپنے سپہ سالاروں کو محمدﷺ کے نمونے اور ہدایات پر کاربند رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ مذہبی آزادی کے ساتھ صرف ایک شرط تھی کہ جو لوگ اسلام قبول نہ کریں وہ ایک معمولی سا ٹیکس (جزیہ) ادا کریں جو مسلمانوں پر اسلامی حکومت میں عائد کیے جانے والے ٹیکسوں سے بہت کم تھا لیکن اس کے بدلے میں ذمّی لوگ بھی ایسے ہی مامون ہوجاتے تھے جیسے کہ خود مسلمان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *