Wednesday, 26th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

جان جوشو کیٹلر – اردو زبان کی پہلی مطبوعہ کتاب کے مصنف

September 10, 2019 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12مئی 2011ء میں اردو زبان کی پہلی مطبوعہ کتاب کے مصنف جان جوشو کیٹلر کا تعارف شائع ہوا ہے۔
یورپ میں فارسی رسم الخط کی کتب شائع کرنے کا سلسلہ 1639ء میں شروع ہوچکا تھا لیکن اردو کی طباعت کا آغاز جنوری 1743ء میں ہوا جب جان جوشو کیٹلر کی کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب کا نام ہے: ’’ہندوستانی اور فارسی زبان سیکھنے کے لئے ہدایات اور سبق، فعلوں کے مختلف صیغوں کی گردانیں ، ہندوستان کے ناپ تول کے پیمانوں سے متعلق الفاظ اور ان کے ولندیزی متبادل اور مسلمانوں کے مختلف ناموں کے معنی‘‘۔
اس کتاب میں چند اردو الفاظ ٹائپ میں اور بیشتر الفاظ رومن رسم الخط میں ولندیزی زبان کے تلفظ کے مطابق دیئے گئے ہیں ۔ اس کے بعد ہندوستانی زبان کے قواعد بھی بیان کئے گئے ہیں اور مثالوں کے ساتھ گرائمر کے اصولوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
جان جوشو کیٹلر جرمنی کے شہر Elbing میں 25 دسمبر 1659ء کو پیدا ہوا۔ مختلف جگہوں پر ملازمتیں کرتا ہوا 1682ء میں ایمسٹرڈم (ہالینڈ) پہنچا جہاں اُس نے ڈَچ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس ملازمت کے سلسلہ میں وہ ہندوستان آگیا اور ترقی کرتے کرتے 1700ء میں آگرہ کی فیکٹری کا اور پھر 1710ء میں سورت کی فیکٹری کا ڈائریکٹر مقرر ہوا۔ 1711ء میں حکومت ہالینڈ نے اُسے ہندوستان میں اپنا سفیر مقرر کیا اور وہ شاہ عالم، بہادر شاہ اور جہانداد شاہ کے درباروں سے وابستہ رہا۔ 1715ء میں اُسے شاہ ایران کے دربار میں سفیر مقرر کیا گیا۔ 12مئی 1718ء کو اُس نے بندرعباس (ایران) میں وفات پائی اور وہیں دفن کیا گیا۔
مذکورہ کتاب اُس نے لکھنؤ میں قیام کے دوران 1698ء میں مکمل کی تھی۔ اس کا قلمی نسخہ دی ہیگ (ہالینڈ) میں محفوظ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *