Monday, 24th August, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

حضرت نوح علیہ السلام

December 2, 2017 8 مناظر الفضل ڈائجسٹ

حضرت نوح علیہ السلام اپنے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کی نویں پشت میں سے تھے۔ آپؑ کے والد کا نام ’’لمک‘‘ تھا اور سام، حام، یافث اور کنعان آپؑ کے چار بیٹے تھے جو دجلہ، نینوہ اور فرات کے درمیان ایک وادی میں آباد تھے۔
حضرت نوح علیہ السلام جدید تہذیب کے پہلے انسان اور پہلے شارع نبی کہلاتے ہیں۔ قرآن کریم میں 45 مقامات پر آپؑ کا ذکرآیا ہے اور ایک سورۃ کا نام بھی آپؑ کے نام پر ہے۔ آپؑ کی قوم مشرک تھی جس کے مشہور بتوں میں ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر شامل تھے۔
تقریباً ساری ہی قوم نے آپؑ کا انکار کیا اور شدید کفر اختیار کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو کشتی بنانے کا حکم دیا۔ جب آپؑ نے کشتی بنانی شروع کی تو قوم نے آپؑ سے تمسخر اور استہزاء میں انتہاء کردی اور خود بڑھ بڑھ کر عذاب مانگنے لگے۔ چنانچہ آپؑ کی قوم کے مکفرین کو پانی کے عذاب نے غرق کر دیا۔ مکذبین میں آپ کا بیٹا بھی شامل تھا۔
مومنین کشتی میں بچا لئے گئے جو طوفان کے بعد جودی نامی پہاڑ پر جاکر ٹھہر گئی تھی۔ بائبل کے مطابق اس پہاڑ کا نام ’’ اراراط‘‘ تھا۔
طوفان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد عراق میں آباد ہوئی اور ایک بیٹا ’’سام‘‘ بابل کا حاکم بھی ہوا۔ اولاد کو نبوت بھی عطا ہوئی۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں یہ معلومات روزنامہ’’ الفضل‘‘ ربوہ 27 جنوری 1996ء میں شائع ہوئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *