حضرت کعب بن زہیرؓ اور قصیدہ بردہ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن 2026ء)

دربار نبوی ﷺ کے شاعر حضرت کعب بن زہیر ؓ  کے بارے میں ایک مضمون لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (جلد2014ء) میں محترم صوفی محمد اسحٰق صاحب کی کتاب ’’عربی ادب کے شہ پارے‘‘ سے منقول ہے۔

صوفی محمد اسحاق صاحب

حضرت کعبؓ کے والد بھی شاعر تھے اور بھائی بھی بلکہ یہ کہنا بعید از حقیقت نہ ہوگا کہ یہ سارا گھرانہ ہی شاعروں کا تھا۔ چنانچہ اُن کا ذکر بھی کتب سیئرو تواریخ میں موجود ہے۔کعبؓ کے والد زمانہ جاہلیت ہی میں فوت ہوگئے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے بجیر کو بتلا دیا تھا کہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا زمانہ قریب ہے لیکن پھر بھی یہ دونوں بھائی آنحضرت ﷺ کے قیامِ مکہ کے دوران اور بعد میں بھی مسلمان نہ ہوئے بلکہ جب فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے حکومت کے باغیوں بالخصوص باغی شعراء کے قتل کا اعلان کردیا تو پھر ان دونوں کو فکر لاحق ہوئی اور یہ روپوش ہوگئے۔
آخر ایک دن دونوں نے باہم مشورہ کیا اور بجیر نے اپنے بھائی کعبؓ سے کہا کہ تُو ذرا ٹھہر میں اس آدمی کا (یعنی آنحضرت ﷺ) کا پتہ کر کے آتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کس وجہ سے لوگ اُس کے گرویدہ ہورہے ہیں۔ چنانچہ وہ مدینہ آیا اور آنحضرت ﷺکا کلام سنتے ہی مسلمان ہو گیا اور پھر کعب کو لکھا کہ آپؐ کی دعوت سچی ہے اور میں ایمان لے آیا ہوں، تُو بھی آکر اسلام قبول کرلے اور خط میں شعر بھی لکھے جن کا ترجمہ یہ تھا: ’’…کون میری طرف سے کعبؓ کو یہ پیغام پہنچائے گا کہ کیا تُو کلمہ شہادت (جس پر تو مجھے ملامت کرتا ہے) پڑھنا چاہتا ہے یا نہیں؟ عقل مندی اسے قبول کرنے میں ہے اگر تمہارے بچاؤ کی کوئی صورت ہے تو تُولات و عزیٰ کو چھوڑ کر صرف خدائے واحد کی طرف لَوٹ آ۔ ہمارے باپ ابوسلمیٰ (زہیر کی کنیت) کا دین بالکل لایعنی چیز ہے اس لیے اب وہ مجھ پر حرام ہے۔‘‘
ان ا شعار کے ساتھ بجیر نے کعب کو لکھا کہ تمہاراخون بھی مباح قرار دیا جاچکا ہے اس لیے تم جلد یہاں آکرتوبہ کرلو کیونکہ آنحضرت ﷺ کسی توبہ کرنے والے کی توبہ ردّ نہیں کرتے بلکہ اسے معاف کر دیتے ہیں اور اگر تمہیں یہ صورت حال منظور نہ ہو تو پھر اپنے بچاؤ کی کوئی اَور صورت کرلو۔ بجیر کی تحریر دیکھتے ہی کعب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور زمین باوجود اپنی فراخی کے اُسے تنگ نظر آنے لگی۔ اُس نے بہت سوچا لیکن سوائے اسلام قبول کرنے کے اُسے بچاؤ کی کوئی اَور صورت نظر نہ آئی۔ اس لیے وہ ناچار مدینہ کی طرف روانہ ہو پڑا۔ مدینہ پہنچ کر کعب جہینہ قبیلہ کے ایک فرد کے ہاں قیام پذیر ہوا اور اُسے اپنی کہانی سنائی۔ وہ شخص دوسرے دن صبح کی نماز میں کعب کو اپنے ساتھ لے گیا اور جب حضورﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اس جہینی نے کعب سے کہا ’’آگے بڑھ کر رسول مقبولؐ سے امان طلب کرو‘‘ کعبؓ فوراً حضورﷺ کے روبرو جا بیٹھے اور اپنا ہاتھ حضور ﷺ کے دست مبارک پر رکھ کر عرض کی کہ ’’یارسول اللہﷺ! کعب بن زہیر آپؐ کی خدمت میں امان مانگنے آیا ہے اگر مَیں اُس کو لے آؤں تو حضورؐ اس کی توبہ قبول فرمالیں گے؟ آنحضرتﷺ تو مجسم عفو و رحمت تھے۔ آپؐ نے فرمایا:ہاں۔ اس پر کعب کہنے لگا: یا رسول اللہ! مَیں ہی کعب بن زہیر ہوں۔ اَشْھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُولُ اللّٰہِ۔
پھر کعب نے آنحضرت ﷺ کے سامنے اپنا وہ قصیدہ پڑھا جو اُس نے اپنی معافی سے قبل ہی تیار کر رکھا تھا اور جواسلامی اور عربی ادب (دونوں ) کی تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے اس کے چند اشعار کا ترجمہ یوں ہے: مجھے بتادیا گیا کہ رسولؐ خدا نے مجھے دھمکی دی ہے حالانکہ رسول خدا سے توعفو کی امید کی جاتی ہے اور مَیں رسولِ خدا کے پاس عذر خواہ ہو کر آیا ہوں اور رسولِ خدا کی شان یہ ہے کہ وہ عذر قبول فرماتے ہیں۔ مجھے مہلت عطاہو کہ مَیں اپنا حال بیان کروں۔ وہ خدا جس نے اَور علوم کے علاوہ آپؐ کو قرآن کریم جیسا عطیہ دیا ہے جو وعظ و نصیحت سے معمور ہے وہ میری عفو کے لیے راہنمائی کرے۔ چغل خوروں اور غمازوں کی باتوں پر اعتبار کرکے مجھ سے مؤاخذہ نہ فرمائیے کیونکہ انہوں نے بےحقیقت باتیں کی ہیں۔ میں ان گناہوں کا ہرگز مرتکب نہیں ہوا جو وہ میری طرف منسوب کرتے ہیں۔
جب کعب اپنا قصیدہ سناتے سناتے اس شعر پر پہنچا کہ

اِنَّ الرَّسُولَ لَسَیفٌ یُستَضَاءُ بِہٖ
مُھَنَّدٌ مِن سُیُوفِ الھِندِ مَسلُوْلَ

یعنی رسول خدا ایک ایسی چمکتی تلوار ہیں کہ جس سے راہِ حق کے لیے روشنی طلب کی جاتی ہے اور ایک عمدہ برہنہ شمشیر ہندی ہیں۔
تو آنحضرت ﷺ نے بطور ’صلہ‘ کعب کی طرف اپنی ردائے مبارک پھینکتے ہوئے اس شعر کی اصلاح یوں فرمائی کہ ’’سُیُوفِ الھِندِ مَسْلُوْلَ‘‘ مسلول کی بجائے ’’سُیُوفِ اللہِ مَسْلُوْلَ‘‘ کہو۔ چنانچہ مطبوعہ قصائد میں یہ شعر اسی طرح مرقوم چلا آرہا ہے۔
کعب کو جو ردائے مبارک آنحضرتﷺ نے عطا فرمائی تھی اس چادر کے باعث ہی اس قصیدہ کا نام ’’قصیدۃالبردَۃِ‘‘ مشہور ہو گیا یعنی ’’قصیدۂ چادر‘‘۔ یہ چادر تا عمر اس کے پاس رہی۔ امیر معاویہ نے کعب سے دس ہزار درہم کے عوض یہ چادر خریدنا چاہی مگر کعب نے کہا کہ مَیں اپنی زندگی میں کسی کو اس چادر کے لیے اپنے آپ پر ترجیح نہیں دوں گا۔
کعب کی موت کے بعد امیر معاویہ نے اس چادر کو اس کے وارثوں سے بیس ہزار در ہم کے عوض خرید لیا جسے خلفائے بنی امیہ یکے بعد دیگرے عیدین کے موقع پر اوڑھتے رہے۔ بعد ازاں یہ چادر بنو عباس کے قبضے میں آئی اور اس کے بعد سلاطین آل عثمانؓ کے توشہ خانے میں پہنچی اور اغلباً اب یہ ترکی میں موجود ہے لیکن بعض کہتے ہیں کہ تاتاریوں کے حملے کے وقت ضائع ہو گئی تھی۔
بعض لوگ ناواقفیت کے باعث ’’بوصیری‘‘ کے قصیدہ کو ’’قصیدہ بردہ‘‘ کا نام دیتے ہیں لیکن اس کا نام ’’قصیدۃالبرأۃ‘‘ ہے جس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ بوصیری کو فالج ہو گیا تھا اور اطباء و حکماء اُس کا علاج کرنے میں ناکام رہے تھے اس پر علامہ موصوف نے اپنا یہ مشہور قصیدہ لکھا جس کے بارے میں ادباء و محققین کی متفقہ رائے ہے کہ کعب کے قصیدہ کے بعد بوصیری کا قصیدہ آنحضرتﷺ کی بہترین مدح ہے۔ جب بوصیری نے آنحضرتؐ کے عشق میں ڈوب کر علیل ہونے کے باوجود یہ قصیدہ کہا تو خواب میں انہیں آنحضرت ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ حضورﷺ نے خوش ہو کر آپ کے جسم پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ پھر جب بیدار ہوئے تو اپنے آپ کو کاملًا صحت یاب پایا جس پر انہوں نے اپنے اس قصیدے کا نام ’’قصیدۃالبرأۃ‘‘ یعنی ’’قصیدہ شفاء‘‘ رکھ دیا اور بعض لوگوں نے اس پس منظر سے ناآگہی کے باعث ’ء‘ کو ’د‘ سمجھ کر اسے ہی قصیدہ بردہ سمجھ لیا۔
فن شعر کے اعتبار سے کعبؓ کا مقام بہت بلند ہے لیکن آپؓ کے اشعار میں غیرمعروف الفاظ اور پیچیدہ تراکیب بہت آتی ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو یہ یقیناً اپنے والد زہیر کے ہم پلّہ سمجھے جاتے۔ لیکن کعب کے لیے یہ فخر کیا کم ہے کہ حطیہ جیسے مشہور معروف شاعر نے ان سے یہ درخواست کی کہ اپنے شعروں میں اس کا ذکر کریں۔ جسے کعبؓ نے قبول کرلیا اور پھر کئی اشعار میں ذکر کیا۔
حضرت کعبؓ نے 9 ہجری میں اسلام قبول کیا اور امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں