رسول اللہﷺ کا عظیم حوصلہ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن 2026ء)


آنحضورﷺ نے جب دعویٔ نبوت فرمایا تو آپؐ کو کذاب، جادوگر، دیوانہ اور نہ جانے کیا کیا نام دیا گیا اور مخالفت میں شدید جسمانی اذیتیں دینے کا لامتناہی سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ لیکن ایسے میں بھی آپؐ اپنے مولا سے یہی عرض کرتے: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کہ یہ سب کچھ لاعلمی میں کررہے ہیں۔ (بخاری)
رسول اللہﷺ کے عظیم الشان حوصلے اور فقیدالمثال قوّت برداشت کی چند جھلکیاں روزنامہ ‘‘الفضل’’ ربوہ 10؍جنوری2014ء میں مکرم عبدالقدیر قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔
آنحضورﷺ اپنے مقام سے آشنا ہونے کے باوجود غیرقوموں کی دلداری کا خاص خیال رکھتے۔ چنانچہ جب کسی شخص نے آپؐ کو خَیْرُالْبَرِیَّۃ (مخلوق میں سے بہترین وجود) کہا تو آپؐ نے فوراً فرمایا: ذَاکَ اِبْرَاہِیْم (وہ تو ابراہیمؑ تھے)۔ اسی طرح ایک مسلمان نے کسی یہودی کو اُس وقت تھپڑ مار دیا جب اُس نے خریدوفروخت کے دوران یوں قسم کھائی کہ وہ جس نے موسیٰؑ کو سب انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ یہودی نے آنحضورﷺ سے شکایت کی تو آپؐ نے واقعہ معلوم ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیااور فرمایا: ’’اللہ کے انبیاء کے مابین فضیلتوں کی بات نہ کیا کرو۔‘‘ ایک دوسری روایت میں فرمایا: ’’مجھے موسیٰؑ پر فضیلت مت دو۔‘‘ (مسلم)
ایک موقع پر آپؐ نے مسلمانوں کو یہ کہنے سے منع فرمایا کہ آنحضرتﷺ حضرت یونسؑ سے افضل ہیں۔ (بخاری)
رسول اللہﷺ نے کبھی کسی سے اپنی اہانت یا اذیّت کا بدلہ نہیں لیا بلکہ اپنا معاملہ ہمیشہ خدا پر چھوڑ دیا۔ چنانچہ ایک بار جب آپؐ خانہ کعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے تو ابوجہل نے کسی سے ایک ذبح شدہ اونٹنی کی اوجھڑی منگوائی اور اُس وقت آپؐ کی پشت پر رکھوادی جب آپؐ سجدہ کی حالت میں تھے۔ جب آپؐ اُس کے بوجھ تلے سر نہ اٹھاسکے تو بدبخت قہقہے لگانے اور ٹھٹھہ اڑانے لگے۔ ایسے میں حضرت فاطمہؓ کو خبر ہوئی تو وہ آئیں اور آپؐ کی پشت سے اس اوجھڑی کو اُتارا۔ آپؐ نے نماز ختم کرکے صرف اپنے ربّ سے یہ عرض کیا کہ اے اللہ! ان قریش سے تُو ہی نپٹ سکتا ہے۔ اے اللہ! تُو ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ اور ولید اور امیہ اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت کر اور ان کا مواخذہ کر۔ چنانچہ یہ سب غزوہ بدر میں قتل ہوکر ایک کنوئیں میں ڈال دیے گئے۔ (بخاری)
آنحضورﷺ کی بددعا کے نتیجے میں جب اہل مکہ کو شدید قحط نے جکڑ لیا اور وہ چمڑا، ہڈیاں وغیرہ کھانے پر مجبور ہوگئے تو ایسے میں اپنے دکھوں کا مداوا، اُنہیں آپؐ کی ذات میں نظر آیا۔ چنانچہ ابوسفیان نے خدمتِ رسالتؐ میں حاضر ہوکر باران رحمت کے لیے دعا کی درخواست کی۔ تب آپؐ نے دعا کی تو سات دن مسلسل بارش ہوتی رہی اور اہل مکہ کی خشک سالی ختم ہوگئی۔
ایک غزوے سے واپسی پر دوپہر کے وقت جب سارا لشکر درختوں کے سائے تلے آرام کررہا تھا تو اچانک صحابہؓ نے آنحضورﷺ کی آواز سنی تو وہ تیزی سے اُدھر لپکے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدوی آپؐ کے پاس بیٹھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مَیں سو رہا تھا کہ یہ شخص آیا اور اس نے میری تلوار درخت سے اتاری اور میرے پر سونت لی اور مجھے کہنے لگا کہ تمہیں اب میرے ہاتھ سے کون بچاسکتا ہے؟ مَیں نے اللہ کا نام لیا تو تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ پھر مَیں نے تلوار پکڑکر پوچھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ آپؐ ہی مہربانی فرمائیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ ایک ہے اور مَیں اللہ کا رسول ہوں۔ اُس نے کہا: نہیں۔ لیکن مَیں عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپؐ کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لوں گا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اسے جانے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہﷺ ایک گدھے پر سوار ہوکر حضرت سعد بن عبادہ ؓکی عیادت کے لیے تشریف لے جارہے تھے۔ آپؐ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زیدؓ بیٹھے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ سرِِ راہ ایک مجلس کے پاس سے ہمارا گزر ہوا جس میں عبداللہ بن سلول بھی تھا جو ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی اس مجلس میں تھے۔ جب گدھے کی گرد اُڑی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک اپنی چادر سے ڈھانپ کر کہا: ہم پر گرد نہ اُڑاؤ۔ …نبی کریمﷺ سواری سے نیچے اُترے۔ السلام علیکم کہا اور انہیں اللہ کی طرف بلایا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔ عبداللہ بن ابی کہنے لگا: اے شخص! تم بڑی اچھی باتیں کرتے ہو لیکن ہماری مجالس میں آکر ہمیں تکلیف کیوں دیتے ہو، اپنے ٹھکانے پر واپس جاؤ اور جو تمہارے پاس آئے اُسے تبلیغ کرو۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ ضرور ہماری مجالس میں تشریف لاکر ہمیں یہ باتیں سنایا کریں کیونکہ ہمیں یہ باتیں سننا اچھا لگتا ہے۔ اس پر مسلمان، یہودی اور مشرک باہم جھگڑنے لگے۔ رسول اللہﷺ کے باربار منع کرنے پر وہ رُک گئے تو آپؐ اپنی سواری پر روانہ ہوگئے۔
عبداللہ بن ابی نے ہر نازک موقع پر انتشار پیدا کرنا چاہا اور آنحضورﷺ کی ذات کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں رہا۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوے میں مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے کسی کی کمر پر ہاتھ مارا تو اُس انصاری نے انصار کو اپنی مدد کے لیے پکارا۔ مہاجر نے بھی مہاجرین کو آواز دی۔ آنحضورﷺ نے یہ آوازیں سنیں تو پوچھا کہ یہ جاہلیت کی طرح کیوں پکارا جارہا ہے؟ جب وجہ بتائی گئی تو آپؐ کے سمجھانے پر بات ختم ہوگئی۔ لیکن عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ ہمیں مدینہ واپس جا لینے دو تو وہاں کا معزز ترین شخص وہاں کے بدترین شخص کو نکال باہر کرے گا۔ یہ سن کر ایک صحابیؓ نے آنحضورﷺ سے عبداللہ بن ابی کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: مَیں لوگوں کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ کہیں کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔
ان زیادتیوں کے باوجود جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اُس کے بیٹے کی درخواست پر آنحضورﷺ نے نہ صرف اُس کا جنازہ پڑھایا بلکہ کفن کے لیے اپنا قمیض بھی عطا فرمایا۔
ایک بار کچھ یہود نے آپؐ کو کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ یعنی تجھ پر ہلاکت ہو۔ حضرت عائشہؓ نے یہ بات سنی تو فرمایا: تم پر لعنت ہو، تم پر ہلاکت ہو۔ آنحضورﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔ وہ کہنے لگیں کہ آپؐ نے اُن کی بات نہیں سنی؟ فرمایا: مَیں نے انہیں عَلَیْکُمْ کہا ہے یعنی جو تم کہہ رہے ہو وہ تم پر ہو۔
ایک بار آپؐ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپؐ کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ یہ یہودی کا جنازہ ہے۔ فرمایا: کیا یہودی انسان نہیں ہیں!
ایک یہودی لڑکا نبی کریمﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہوا تو آپؐ اُس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اُسے فرمایا کہ اسلام قبول کرلے۔ اُس نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ والد نے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لو۔ چنانچہ اُس لڑکے نے اسلام قبول کرلیا۔ جب آنحضورﷺ اُس کے پاس سے اُٹھے تو فرمایا: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اسے آگ سے بچالیا ہے۔
ایک دن ایک دیہاتی نے آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ مَیں نے فلاں قبیلے کو تبلیغ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اُن پر غیرمعمولی فضل نازل کرے گا۔ وہ مسلمان تو ہوگئے لیکن ابتلا یہ آیا کہ بارشیں نہ ہونے سے قحط ہونے لگا ہے۔ مجھے اُن کے ارتداد کا ڈر ہے۔ آپؐ اُن کی دلداری کے لیے کچھ مدد فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا میرے پاس تو کچھ نہیں ہے جو مَیں اُن کی طرف بھجواؤں۔ ایک مالدار یہودی زید بن سعنہ یہ گفتگو سُن رہا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ مجھ سے کھجوریں لے کر اُنہیں بھجوادیں اور اتنی مدت میں مجھے کھجوریں واپس کردیں۔ چنانچہ آپؐ نے معاہدہ کرلیا۔ لیکن ابھی مقررہ مدّت میں دو تین دن باقی تھے کہ زید نے آکر بڑے غصّے سے کہا کہ اے محمد! میرا حق مجھے کیوں نہیں دیتے؟ خدا کی قسم! تم بنوعبدالمطلب قرض کی ادائیگی کے معاملے میں بہت بُرے ہو اور تمہاری اس عادت کو مَیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ حضرت عمرؓ اُس کی گستاخانہ گفتگو کو برداشت نہ کرسکے اور سخت جواب دیا۔ اس پر آنحضورﷺ نے حضرت عمرؓ کو روکا اور فرمایا کہ اگر کچھ کہنا ہی ہے تو مجھے حُسنِ ادائیگی کے لیے کہو اور اُسے حُسنِ تقاضا کے لیے۔ اب اسے لے جاؤ اور بیس صاع کھجوریں اس کے حق سے زیادہ دے دو۔ جب حضرت عمرؓ نے اُس کو زاید کھجوریں دیں تو اُس نے پوچھا: یہ کس لیے؟ حضرت عمرؓ کہنے لگے کہ جو سختی مَیں نے کی تھی اُس کے بدلے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ دی ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ دراصل مَیں یہود کا عالم ہوں۔ جتنی بھی علاماتِ نبوت تھیں اُن کا مَیں آپؐ کی ذات میں مشاہدہ کرچکا تھا۔ صرف یہ علامت رہتی تھی کہ اس نبیؐ کا حلم اس کے غصے پر غالب رہے گا۔ اس کی آزمائش مَیں نے آج کرلی ہے۔ عمر! گواہ رہنا مَیں مسلمان ہوتا ہوں۔ پھر آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر زید بن سعنہ نے اسلام قبول کرلیا۔
ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ایسا بغض آنحضورﷺ کی ذات سے رکھتا تھا کہ فتح کے بعد مکہ چھوڑ کر چلاگیا۔ اُس کے مظالم کی وجہ سے اُس کے قتل کرنے کا حکم جاری ہوچکا تھا کہ اُس کی بیوی آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اُس کی معافی کے لیے یوں درخواست گزار ہوئی کہ کیا یہ بہتر ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں ذلیل ہوکر رہے یا یہ بہتر ہے کہ آپؐ کے ملک میں آپؐ کی رعایا بن رہے اور آپؐ کا عفو اُس کے سر کو نیچا رکھے۔ آپؐ کو یہ بات پسند آئی اور آپؐ نے عکرمہ کو معاف کردیا۔ چنانچہ عکرمہ کی بیوی اُس کی تلاش میں نکلی اور اُسے حبشہ جانے کے لیے ایک کشتی میں بیٹھتے ہوئے پایا۔ بیوی نے اُسے ساری بات بتائی تو عکرمہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ اُس کے مظالم کیسے معاف کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن پھر بیوی کے ساتھ آنحضورﷺ کے حضور چلا آیا اور عرض کیا کہ کیا آپؐ نے مجھے معاف فرمادیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہم نے تمہیں سچے دل سے معاف کردیا ہے۔ اُس نے عرض کی: کیا مَیں کافر ہونے کی حالت میں مکہ میں رہ سکتا ہوں؟ فرمایا: ہاں۔اس پر اُس نے کلمہ پڑھ لیا اور بعد میں حضرت عمرؓ کے دَور میں میدان جہاد میں شہادت پائی۔
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک بدوی نے آنحضورﷺ کی چادر کو اس زور سے کھینچا کہ آپؐ کی گردن پر نشان پڑگئے۔ پھر وہ بولا کہ اے محمد! اللہ کے مال میں سے میرے دو اونٹوں پر لاد دو کیونکہ آپ اپنے یا اپنے والد کے مال میں سے مجھے کچھ نہیں دیں گے۔ پہلے تو نبی کریمﷺ خاموش رہے اور پھر فرمایا: مال تو اللہ ہی کا ہے مگر مَیں اُس کا بندہ ہوں۔ جو تکلیف تم نے پہنچائی ہے اس کا بدلہ تم سے لیا جائے گا۔ وہ بولا: نہیں، کیونکہ آپؐ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔ اس پر آنحضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے ایک اونٹ پر جَو اور دوسرے پر کھجور لاد دو۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام
حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام

سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے فرماتے ہیں:
’’مَیں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لیے خدانے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین وآخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔‘‘
(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد22صفحہ118)

اپنا تبصرہ بھیجیں