رسول اللہﷺ کی جانوروں پر شفقت

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ
طارق احمد حیات صاحب

آنحضورﷺ کے جانوروں پر احسانات کے چند واقعات رسالہ ’’انصارالدین‘‘ جولائی اگست 2014ء میں مکرم طارق حیات صاحب کے قلم سےشامل اشاعت ہیں۔
ہمارے محسن، نبیٔ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کے وقت صورت حال یہ تھی ایک طرف تو انسان کو ہی انسان نہیں سمجھا جارہا تھا وہاں کسی جانور پر شفقت تو محض ایک نادر عمل تھا۔ مختلف معاشروں میں کسی بے زبان جانور کو باندھ کر اس پر چاندماری کرنا شجاعت اور مردانگی کا وصف شمار کیا جاتا تھا، اہل عرب زندہ جانور کے گوشت کا ٹکڑا کاٹ لینا برا نہ سمجھتے تھ ے۔ظلم کا ایک نقشہ یہ تھا کہ (ملک عرب کے) بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی آدمی مر جاتا تھا تو اس کی قبر کے پاس اس کے اونٹ کو باندھ دیتے تھے حتیٰ کہ وہ بھوک پیاس سے مرجاتا تھا۔ اور دوسری طرف دنیا میں جانوروں کی عبادت کرنے والے بھی موجود تھے مثلاً برصغیر ہندوستان میں جانوروں اور پودوں کی پرستش بھی کی جاتی تھی۔ ناگ اور بندر قبیلے کے اراکین کا خصوصی احترام کیا جاتا۔ زیادہ خطرناک جانوروں بالخصوص کوبرا سانپ کی پرستش عام تھی۔ ہندوستان کے طول وعرض میں بیل کو آج بھی مقدس مانا جاتا ہے۔ عظیم دیوتا ؤں کے جانوروں والے رتھ بذات خود خصوصی معروض پرستش ہیں۔ چنانچہ برہما کی مقدس مرغابی، گروڈ، وشنو کا افسانوی عقاب یا گدھ، نندن یا شیو کا بیل، اس کی بیوی درگا کا شیر، گنیش کا چوہا اور دیوتائے محبت کام دیو کا طوطا اپنے سے منسوب دیوتاؤں کی تعظیم میں حصہ دار ہیں۔ خطرناک درندوں سے بچنے کے لیے انہیں پرستش کے ذریعہ خوش کیا گیا۔ مگر کچھ جانورو ں کی مفید خدمات نے انہیں احترام دلایا۔
آنحضورﷺ کو رحمۃٌللعالمین کا عظیم خطاب دے کر بھیجا گیا اس ناتے آپؐ کی رحمت کا دائرہ ذی روح، اشرف المخلوقات سے بڑھ کر جانوروں کو بھی سمیٹے ہوئے ہے بلکہ بہت زیادہ وسعت پذیر ہے۔ چنانچہ آپؐ نے اپنی اُمّت کو انذار وتبشیر کے رنگ میں درس دیا کہ بنی اسرائیل کی ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس نے اس کو قید کردیا تھا۔ نہ توخود اس بلی کو کچھ کھانے پینے کو دیا اور نہ ہی اُسے آزادی دی کہ وہ زمین سے ہی کوئی چیز کھالیتی۔اس سبب سے وہ عورت آگ میں ڈالی گئی۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص سفر پر جارہا تھا اس نے پیاس محسوس کی۔ کنواں دیکھ پانی پیا۔ دیکھا کہ پاس ہی ایک کتا پیاس کی شدت کے باعث گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ وہ آدمی دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کر باہر آیا اور کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ ادا پسند آئی اوراسے بخش دیا۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں جانوروں سے حسن سلوک کا بھی اجرملے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں ہر ذی روح اور جاندار چیز کے ساتھ نیکی اور احسان کا بدلہ ملتا ہے۔
آپ ﷺ نے جانور کو لعنت ملامت کرنے اور اسے گالیاں دینے سے روکا۔ پھر ایک دفعہ یہ ہدایت بھی فرمائی کہ جانور کوبطور آرام کرسی نہ استعمال کرو۔ بعد سفر جانور کو بھی آرام و راحت کے لیے کھلا چھوڑ دیا کرو۔
دنیا کے دیگر معاشروں کی طرح عرب بھی اپنے ملکیتی جانوروں پر نشان لگانے کے لیے ان کے جسم پر گرم لوہے سے داغ لگایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے بعض جانوروں کے چہرے وغیرہ پر داغ کا نشان دیکھا تو ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان جانوروں کو آگ کی اذیت سے بچانا چاہیے اور ان کے منہ اور نرم گوشت والے حصوں پر گرم لوہے سے نشان نہیں لگانا چاہیے۔ دُم کے قریب پیٹھ کی ہڈی پر نشان لگانے سے جانور کو کم سے کم تکلیف ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے جہاں شرف انسانیت کی خاطر کسی کے چہرے پر مارنے سے منع کیا وہاں جانوروں پر بھی رحم کرتے ہوئے اور ان کے چہرے کی عزت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ جانوروں کے چہرے پر نہ مارا کرو کیونکہ ہر چیز منہ سے تسبیح کرتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا اور ایک انصاری کے باغ میں لے گئے۔ وہاں پرایک اونٹ نبی کریم ؐکو دیکھ کر بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے پانی بہ نکلا۔ حضورؐ اس کے پاس آئے اور اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا تو وہ پُرسکون ہوگیا۔ نبی کریمؐ نے پوچھا: یہ کس کا اونٹ ہے؟ ایک انصاری نوجوان آگے بڑھا اور کہا کہ میرا اونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اس جانور کے بارے میں تم اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کرتے جس کا خدا نے تجھے مالک بنایا ہے! اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے ۔
دور حاضر میں ماہر حیاتیات John Ray (وفات 1705ء)نے بطور خاص بڑی جدوجہد اور دیگر سائنسدانوں کی برس ہا برس کی محنت و تحقیق کے بعد جانوروں میں آٹھ اقسام یعنی Eight Phylemsکا سراغ لگایا تھا جبکہ بانی اسلام حضرت محمد ﷺ پر چودہ سو سال قبل نازل ہونے والے قرآن کریم کی سورۃالزمر کی آیت 7 میں یوں بیان ہے: ‘‘وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِنَ الْاَنعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ’’۔ (ترجمہ: اور اس نے تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے نازل کیے۔)
حضرت عبدالرحمٰنؓ کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ ایک سفر کے دوران ایک جگہ رُکے تو ایک شخص چڑیا کے گھونسلے سے انڈے نکال لایا۔ وہ چڑیا آکر حضورؐ اور صحابہؓ کے سر پر منڈلانے لگی۔ آپؐ کی نظر اس ننھی چڑیا پر پڑی تو فرمایا کہ اس پرندے کو کس نے دُکھ دیا ہے؟ اس آدمی نے بتایا کہ مَیں نے اس کے انڈے اُٹھائے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے انڈے واپس گھونسلے میں رکھ دو۔
آپؐ زمین پر رینگنے والی چیونٹیوں کے لیے بھی رحمت تھے۔ ایک دفعہ چیونٹیوں کی بل کو آتشزدگی کا شکار دیکھ کر فرمایا: مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا عذاب دینا ہرگزمناسب نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے جانوروں کو باندھ کر نشانہ بنانے سے بھی منع فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دفعہ وہ قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندے کو باندھ کر اس کے نشانے لے رہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو دیکھ کر وہ اِدھر اُدھر منتشر ہوگئے۔ آپؐ نے کہا کس نے پرندے کو باندھ کر نشانے بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو اس طرح جانداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓکی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شکاری پرندوں بلکہ چیونٹی، شہد کی مکھی اور ہدہد کو مارنے سے بھی روکاہے۔ دراصل پیغام یہ دیا گیا ہے کہ بلامقصد کسی جانور کی جان لینا منع ہے نیز بعض پرندوں کا حسن ماحول میں خوبصورتی کا موجب ہوا کرتا ہے اور یہ بھی کہ ایسا کرنے سے قدرتی نظام میں خلل آنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔
انہی اخلاق عالیہ کا اعادہ اس زمانہ کے امام حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بھی فرمایا جب ایک دفعہ آپؑ نے گھر میں کھڑکیاں دروازے بند کرکے پرندے پکڑنے والے برخوردار کو منع فرمایا۔ اور طوطا شکار کرکے لانے والے بچے کو یہ کہہ کر حسین نصیحت فرمائی کہ ہر پرندہ شکار کھیلنے اور بطور خوراک استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔
آنحضورﷺ کو جانور کے جسم کے اعضاء پر کسی بھی قسم کی تکلیف گوارا نہ تھی حتٰی کہ آپ کسی جانور کو گردن سے پکڑ کر گھسیٹنے سے بھی بے چین ہوجایا کرتے تھے۔ حتٰی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر (ذی روح) چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے۔ جب تم کوئی جانور ذبح کرو تو احسان کا دامن نہ چھوڑو۔ اور ذبح کرنے میں احسان یہ ہے کہ چھری تیز کرلو اور ذبح ہونے والے جانور کو اس کے ذریعے آرام پہنچاؤ۔ (یعنی کند چھری کی وجہ سے جانور کی جان دیر سے نکلے گی اور اُسے تکلیف ہوگی۔)
عیسائی راہبہ پروفیسر کیرن آرمسٹرانگ نے نبی کریم ﷺ کی جانوروں سے محبت کے ذکر میں لکھا: مغرب میں صدیوں تک ہم محمدؐ کو ناپسندیدہ شخصیت خیال کرتے رہے ہیں۔ ایک ظالم جنگجو اور ایک بےرحم سیاستدان۔ لیکن آپؐ ایک عظیم ہمدرد اور دوسروں کا احساس رکھنے والے انسان تھے۔آپؐ جانوروں سے بھی محبت کرتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر آپؐ نے ایک بلی کو اپنے کپڑے پر سوئے ہوئے پایا تو اسے وہاں سے اُٹھانا پسند نہیں کیا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی معاشرے کا ایک امتحان جانوروں کے ساتھ لوگوں کا رویہ ہوتا ہے۔ تمام مذاہب محبت کے رویے کی حوصلہ افزائی کرتے اور عالم قدرت کی عزت کرتے ہیں۔ محمدﷺ مسلمانوں کو یہی سبق دینا چاہتے تھے۔ جاہلیت میں عرب جانوروں سے بہت برا سلوک کرتے تھے۔ وہ زندہ جانوروں سے کھانے کے لیے گوشت کاٹ لینے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ وہ اونٹوں کی گردنوں میں تکلیف دہ حلقے ڈال دیتے تھے۔ محمدﷺ نے جانوروں کو داغنے کے ظالمانہ طریق اور جانوروں کی لڑائیوں سے روک دیا۔
بعض مسلمان محققین نے جانوروں کے حوالے سے گرانقدر تحقیق کی توفیق پائی ہے۔ مثلاً عباسی دَور میں بصرہ (عراق) میں جنم لینے والے مسلم نابغہ الجاحظؔ (ولادت 776ء وفات 869ء) نے بعد تحقیقات ومشاہدات ’’کتاب الحیوان‘‘ تحریر کی۔ اس مسلم سکالر نے Food Chainکا نظریہ درج کیا، نیز Animal Evolution and Natural Selection نیز Environmental determinism کے موضوعات پر بحث کی ہوئی ہے۔ الغرض یہ سات جلدوں پرمشتمل کتاب جانوروں کی 350؍اقسام کے متعلق تحقیقات، نظم ونثر اور محاورات سے بھرپور ہے جسے انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے۔
اسی طرح اہل مصر میں سے علامہ کمال الدین محمد بن موسیٰ الدمیری (ولادت:1344ء۔وفات1405ء) نے ’’کتاب الحیوان الکبریٰ‘‘ تصنیف فرمائی جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے 931 حیوانات کا ذکر کیا جن کے اسماء مصنف کو قرآن کریم، احادیث اور اہل عرب کی شاعری و محاورات میں میسر آئے۔ اس کتاب میں پانچ سو ادباء اور دو سو شعراء کے کلام سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ہر مذکور جانور کے نام کے درست ہجے، تلفظ اور معانی کا بیان ہے۔ الغرض جانوروں کے متعلق علوم اور مشاہدات سے پُر یہ کتاب متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور اہل اسلام کے جانوروں پر شفقت واحسانات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حضرت پروفیسر کلیمنٹ ریگ
Prof. Clement_Wragge,

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود ؑاس زمانہ کے حَکَم وعَدَل حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام سے جب ایک احمدی سائنسدان Dr Clement Lindley Wragge نے 18؍مئی 1908ء کو لاہور میں حاضر ہوکر حیوانات کے متعلق علمی دنیا میں گردش کرنے والے متفرق سوالات پیش کیے۔ سوالات یہ تھے:
٭…جب خدا محبت ہے۔ عدل ہے ۔انصاف ہے ۔تو کیا وجہ کہ نظام دنیا میں اس نے مخلوق میں سے بعض میں ایسی کیفیت اور قویٰ رکھ دیے ہیں کہ وہ دوسروں کو کھا جائیں حالانکہ مخلوق ہونے میں دونوں برابر ہیں؟
٭…خدا نے یہ خاصہ کیوں رکھ د یا کہ ادنیٰ اعلیٰ کا خادم ہو یا اس کی خوراک بنے اور اس کے سامنے ذلیل رہے؟
٭…کیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ حیوانات کو بھی آئندہ عالم میں کوئی بدلہ دیا جاوے گا؟
٭…تو پھر اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ وہ حیوانات جن کو ہم مارتے ہیں ان کومُردہ نہیں بلکہ زندہ یقین کریں؟
ان سوالات کے پُرمعارف جواب ’’ملفوظات جلد پنجم‘‘ (پانچ جلدوں والے ایڈیشن) میں پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں