Wednesday, 26th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

سیارہ نیپچون (Neptune)

January 21, 2021 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 22؍جنوری 2021ء)

نظام شمسی کا آٹھواں سیارہ نیپچون ہے جو یورینس سے مشابہت کی وجہ سے اس کا جڑواں بھی کہلاتا ہے۔

اگرچہ یہ نظام شمسی کا سب سے بڑا دیوقامت گیسی سیارہ ہے لیکن بہت زیادہ دُور ہونے کی وجہ سے رات کے وقت آسمان پر بمشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ نیپچون سیارہ سورج سے حاصل ہونے والی حرارت سے 2.6 گُنا زیادہ حرارت خود خارج کرتا ہے یعنی اس کے اندرون میں زبردست توانائی موجود ہے۔ اس سیارے کی خصوصیات کے بارے میں ایک مختصر معلوماتی مضمون ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ دسمبر 2012ء کی زینت ہے۔
سیارہ نیپچون کا سورج سے فاصلہ قریباً ساڑھے چار ہزار ملین کلومیٹر ہے۔ اس کی سطح کا درجہ حرارت منفی 220 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ زمینی وقت کے مطابق یہ 164.7سال میں سورج کے گرد ایک چکر لگاتا ہے۔ جبکہ اپنے محور کے گرد 16.4گھنٹے میں گھوم جاتا ہے۔ زمین کی نسبت اس کی کشش ثقل 1.6 ہے۔
نیپچون کا مشاہدہ پہلی مرتبہ 1846ء میں کیا گیا۔ اس کی فضا بہت پتلی اور مرکزی طور پر نائیٹروجن پر مشتمل ہے۔ میتھین گیس کی کثیر مقدار کی وجہ سے اس کی فضا کا رنگ بھی نیلا ہے۔ نیپچون کی جنوبی قطبی ٹوپی جو تصاویر میں گلابی نظر آتی ہے اور یہ بھی میتھین کی برف پر مشتمل ہے۔
تحقیقاتی جہاز وائیجر ٹو (Voyager 2) ایسا واحد خلائی مشن تھا جو یورینس اور نیپچون سیاروں تک گیا۔ نیپچون تک کا یہ خلائی سفر بارہ سال میں مکمل ہوا۔ نیپچون کے بارے میں اس خلائی جہاز کے ذریعے بھجوائی جانے والی معلومات چار گھنٹے میں زمین تک پہنچتی ہیں۔ اس کی لی ہوئی تصاویر نیپچون کی فضا میں عظیم تاریک دھبوں سمیت متعدد واضح نقوش دکھاتی ہیں۔ یہ دھبے دراصل بہت بڑے چکر کھاتے ہوئے طوفان ہیں۔ سب سے بڑے دھبے کا سائز کرۂ ارض جتنا ہے۔ اس سیارے کی فضا میں دو ہزار کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے آندھیاں مسلسل چلتی ہیں۔
نیپچون کے آٹھ چاند ہیں۔ سب سے بڑا چاند ٹرائیٹن ہے جو نظام شمسی کا سرد ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سطح کا درجہ حرارت منفی 235 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ یہ نظام شمسی کا واحد چاند ہے جو اپنے سیارے سے برعکس سمت میں حرکت کرتا ہے۔ دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سیارے کے اندرونی چار چاند ایک ہی دائرے میں گردش کرتے ہیں۔
وائیجر ٹو سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیپچون کے چاندوں پر آتش فشاں پہاڑ بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *