Monday, 24th August, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

مکرم بشیر احمد صاحب

March 16, 2019 3 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍جون 2000ء میں مکرم منصور احمد ناصر صاحب اپنے والد محترم بشیر احمد صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اپنی شادی کے کچھ عرصہ بعد آپ نے محترم ابراہیم شاد صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کرلی (جو محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کے سسر تھے)۔ کچھ عرصہ بعد آپکی بیوی بھی احمدی ہوگئیں۔ جب باقی خاندان کو اس بات کا علم ہوا تو سارے اکٹھے ہوکر آپ کے پاس آئے اور اپنے ساتھ ایک مولوی بھی لائے۔ ایک ناکام لمبی بحث کے بعد وہ سارے ناراض ہوکر واپس چلے گئے۔ اسی طرح کئی بار مختلف عزیزوں نے اپنی سی کوشش کردیکھی۔ آپ نے بڑی کوشش کی کہ آپ کے خاندان یا آپ کے سسرال میں سے کوئی احمدی ہوجائے لیکن کسی نے آپ کی بات پر کان نہ دھرا۔ آپ نے اُن کے نام اخبار الفضل بھی جاری کروایا لیکن جب بھی اُن سے ملاقات ہوتی تو وہ یہی کہتے کہ ہم تمہارے رسالے کھولنے سے پہلے ہی چولہے میں ڈال دیتے ہیں، تم تکلیف نہ کیا کرو۔
آپ دین سے محبت کرنے والے مخلص احمدی تھے۔ آپ نے اپنے بچوں کی کوشش کرکے اچھی تربیت کی۔ بچوں کو باجماعت نماز پڑھایا کرتے۔ سب بچوں کو خود قرآن کریم بھی پڑھایا۔ جہاں بھی رہے مساجد کی تعمیر اور بعد میں صفائی کرنے میں ہمیشہ قابل ذکر خدمت کی توفیق پاتے رہے اور اس بارہ میں اپنی بیماری کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ 18؍فروری 1997ء کو 76؍سال کی عمر میں ربوہ میں وفات پائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *