Friday, 16th October, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

ہیں دُھند میں ڈوبے سبھی منظر ، اُسے کہنا … نظم

December 22, 2022 • 11 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 23؍دسمبر 2022ء)
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 7؍دسمبر 2013ء میں مکرم انورندیم علوی صاحب کی نظم شامل اشاعت ہے جو جلسہ سالانہ ربوہ کی یادوں کے حوالے سے کہی گئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

ہیں دُھند میں ڈوبے سبھی منظر ، اُسے کہنا
بےکیف سا گزرا ہے دسمبر ، اُسے کہنا
دامن سے لپٹتے ہیں کئی یاد کے جگنو
ساون سا برستا ہے یہ اکثر ، اُسے کہنا
کل تُو بھی جو مل جائے مرے چاند سے اے چاند!
کرتا ہے کوئی یاد یہ شب بھر ، اُسے کہنا
پوچھے جو مرا حال تو اے دُور کے راہی!
’’آنکھوں میں جھلکتا ہے سمندر‘‘ اُسے کہنا
جب سے ہے وہ بچھڑا تو یہ درد کے مارے
روتے ہیں سدا رات کو اُٹھ کر اُسے کہنا
مایوس تو ہرگز نہیں ، اُمید کے دیپک
روشن ہیں منڈیروں پہ یہ گھر گھر اُسے کہنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *