Friday, 28th August, 2026
»»
ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

حضرت منشی اروڑے خان صاحبؓ

December 10, 2017 5 مناظر الفضل ڈائجسٹ

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ فروری 1997ء میں حضرت منشی اروڑے خان صاحبؓ کپورتھلوی کے بارہ میں مکرم مقصود منیب صاحب اپنے مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک بار جماعت کپورتھلہ کے بارہ میں فرمایا: ’’کپورتھلہ کی مٹی میں خدا تعالیٰ نے وہ اثر رکھا ہے کہ یہاں جس قدر لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں کسی دلیل، کسی معجزہ، کسی نشان کی وجہ سے نہیں ہوئے اور نہ انہیں کسی کشف کرامت کی ضرورت ہے کہ ان کے ایمان کو قائم رکھے …اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی معجزانہ زندگی کو دیکھ کر بیعت ہی نہیں کی بلکہ عشق پیدا کیا ہے‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ حضرت منشی صاحبؓ کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ ’’ایک بات نے تو مجھ پر وہ اثر کیا کہ میری روح کو قول بلیٰ یاد آگیا … منشی محمد اروڑا صاحب جو حضرت صاحب کے نہایت پرانے مریدین میں سے ہیں اور حضرت اقدس ؑ سے خاص محبت جو شاید دوسری جگہ بہت کم ملے رکھتے ہیں، انہوں نے سنایا کہ ایک دفعہ حضرت اقدسؑ نے مجھ سے پوچھا کہ سب لوگ دعا کے لئے کہتے ہیں اور آپ بالکل نہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، میں آپ خدا سے مانگ لیتا ہوں اور اس وقت آپ ؑپر اس کے احسانات اورکرم ہیں ان کو زیر نظر رکھ لیتا ہوں اور وہ کام خود بخود ہو جاتا ہے۔ مجھے اس سے ایک تو ان کے ایمان پر خیال گیا کہ کیا ایمان ہے اور خدا تعالیٰ کے رحموں پر کس قدر بھروسہ ہے اور دوسرے حضرت اقدسؑ کی سچائی پر کیسا ایمان ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *