Saturday, 29th August, 2026
»»
ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

ایک احمدی خاتون کا کردار

October 11, 2019 5 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 11 اکتوبر 2019ء)

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ مارچ 2011ء میں ایک تربیتی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں ایک احمدی خاتون کے کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت امّاں جانؓ کی سیرت کے چند پہلو بیان کیے گئے ہیں۔
قرآن کریم میں عورت کے فرائض کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے:
’’نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں اور غیب میں بھی اُن چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے۔‘‘ (سورۃالنساء:35)
یہ بہت وسیع مضمون ہے۔ دراصل جن چیزوں کی حفاظت کی جاتی ہے اُن میں عزت، اولاد اور مال کے علاوہ وہ نصائح بھی شامل ہیں جو اُس کے والدین، بزرگ اور خاوند نے کی ہوتی ہیں اور جن سے گھر جنت بنتا ہے۔ وہ اپنے خاندان کے لیے بھی گھر کو جنت بناتی ہیں اور خود بھی جنت کی وارث ٹھہرتی ہیں۔ آنحضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اُس کا خاوند اُس سے خوش اور راضی ہے تو وہ جنت میں جائے گی۔ اسی طرح آنحضورﷺ نے عورتوں کو خاص طور پر غیبت اور احسان فراموشی پر انذار فرمایا ہے کیونکہ ان گناہوں کی وجہ سے جہنم میں عورتیں زیادہ ہوں گی۔
حضرت امّاں جانؓ کی مثال اس زمانہ میں ہمارے سامنے ہے۔ آپؓ کی بے شمار خوبیاں سیرت کے مختلف پہلوؤں میں پوشیدہ تھیں۔ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی اہلیہ نے آپؓ کے بارہ میں لکھا کہ 1917ء کے جلسہ میں مَیں سیٹھ صاحب کے ہمراہ قادیان گئی۔ میری بچی گود میں تھی۔ حضرت امّاں جانؓ سے ملاقات ہوئی تو آپؓ نے نہایت شفقت سے اپنے گھر کا ایک کمرہ خالی کرادیا۔ وہاں قیام کے دوران میری بچی کی آیا بیمار ہوئی تو آپؓ نے معلوم ہوتے ہی دو لڑکیوں کو کام کے لئے بھجوا دیا۔ ہر طرح میرا خیال رکھا اور دل داری کرتی رہیں۔
حضرت سیٹھ عبداللہ صاحب کی بیٹی مکرمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ لکھتی ہیں کہ 1924ء کے جلسہ سالانہ پر مَیں اپنے والدین کے ہمراہ قادیان گئی تو ہم امّاں جانؓ کے مہمان ہوئے۔ ہزارہا عورتیں آپؓ کی زیارت کے لئے آتیں۔ آپؓ کی طبیعت بھی ناساز تھی۔ مگر اس کے باوجود ہمارا پورا پورا خیال رکھتی تھیں۔ میری والدہ بیمار ہوگئیں تو اُن کے لئے دوا کا انتظام فرمایا، بار بار اُن کی صحت کا پوچھتیں اور کھانے کے وقت ہمیں بلا بھیجتیں۔ مجھے پیاری بٹیا کہہ کر بُلاتیں۔ اپنے ہاتھوں سے کھانا ڈال کر دیتیں۔ خود بہت ہی کم خوراک تناول فرماتیں۔ سفر میں ہمارا سامان دہلی کے سٹیشن پر رہ گیا تھا اس لیے ہم کو بڑی تکلیف تھی۔ کپڑے میلے ہوگئے تھے اور مَیں شرم سے ہر وقت بُرقع پہنے رہتی۔ آپؓ نے وجہ دریافت فرمائی اور حالات معلوم کرکے بہت رنج ہوا اور سامان ملنے کے لئے دعا کرنے لگیں۔ دو دن بعد سامان آگیا تو ہم نے کپڑے بدلے۔ آپؓ نے ہمیں مبارک باد دی اور کہا کہ مَیں اپنی پیاری بیٹی کے لیے اُٹھتی بیٹھتی دعا کرتی تھی۔
پھر جلسے کے دوسرے دن آپؓ کے سر میں درد تھا۔ ہم پاس بیٹھی تھیں کہ خادمہ نے اطلاع دی کہ صحن میں بہت سی عورتیں زیارت کے لیے آئی ہیں۔ آپؓ اُسی وقت باہر تشریف لے گئیں۔ ہر ایک کو شرفِ مصافحہ بخشا اور اُن کی حالت دریافت کی۔ ہماری واپسی کے وقت ہمارے لیے اپنے ہاتھ سے توشہ تیار کرکے دیا، ہمارے سامان کی گنتی فرمائی اور اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *