Sunday, 16th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ
فونٹ سائز:

محترم قاضی محمد نذیر صاحب – راولپنڈی

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 12؍جنوری2026ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍مارچ 2014ء میں مکرم ماسٹر خورشید احمد صاحب کے قلم سے اپنے سُسر محترم قاضی محمد نذیر صاحب کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم قاضی صاحب 1911ء میں تحصیل شکرگڑھ میں رتوچک میں بابو محمد حنیف صاحب (مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) کے ہاں پیدا ہوئے۔ قاضی صاحب پیدائشی احمدی تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جی پی او صدر راولپنڈی میں تقرری ہوگئی۔ خدمت دین میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ملازمت کی ڈیوٹی کے بعد آدھی رات تک کا وقت مسجد میں گزارتے۔ تہجد کی ادائیگی کے لیے بھی مسجد ہی جاتے۔ جماعتی حساب کتاب اور ڈاک وغیرہ کا کام بھی کرتے۔ خاکسار سے 1957ء میں تعارف ہوا۔ بہت مہمان نواز تھے۔ خدام کی مدد سے سالن کے پتیلے اور روٹیاں مسجد بیت الحمد مری روڈ میں لے جایا کرتے تھے۔
مسجد کی تعمیر کے دوران جمعہ محترم میاں عطاءاللہ صاحب کی کوٹھی میں پڑھا جاتا تھا۔ بعد میں میاں صاحب کا خاندان بیرونِ ملک چلا گیا تو کرایہ دار نے کوٹھی پر قبضے کی کوشش کی جو محترم قاضی صاحب نے بطور مختارعام ناکام بنانے میں حصہ لیا۔ جب کوٹھی محترم میاں صاحب کو مل گئی تو انہوں نے اسے جماعت احمدیہ کو دے دیا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار لڑکیاں اور دو لڑکے عطا فرمائے جن کی اولاد مختلف ممالک میں مقیم ہے۔ محترم قاضی صاحب نے 4؍جنوری2000ء کو راولپنڈی میں وفات پائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *