فونٹ سائز:

محترم صوفی منظور احمد صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ‘‘الفضل انٹرنیشنل‘‘ 17؍اگست 2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍دسمبر2014ء میں مکرمہ ن۔ حفیظ صاحبہ نے اپنے والد محترم صوفی منظور احمد صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے نانا اور دادا ابو تین بھائی تھے جو چونڈہ ضلع سیالکوٹ کے قریبی گاؤں لبّے کے رہنے والے تھے۔ نانا ابو سب سے بڑے تھے۔ جب ان کی عمر قریباً اٹھارہ انیس برس تھی تو انہوں نے حضرت صوفی علی محمد صاحبؓ کی دعوت الیٰ اللہ کے نتیجے میں حضرت مصلح موعودؓ کی بیعت کرلی۔ چھوٹے دونوں بھائی بھی ان کے ساتھ ہی احمدی ہوئے مگر والدہ صاحبہ نے احمدیت قبول نہ کی۔ نانا ابّو کا نکاح اپنی ماموں زاد سے ہو چکا تھا۔ جب آپ احمدی ہو گئے تو آپ کے ماموں نے رخصتی کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن نانا ابو نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔ چھ ماہ کی خاموشی کے بعد انہوں نے خود ہی رخصتی کا پیغام بھجوادیا اور رخصتی کردی۔ اس کے بعد دادا ابو کی شادی بھی ان کی چھوٹی بیٹی سے ہو گئی مگر خود انہوں نے احمدیت قبول نہ کی جبکہ میری نانی امّاں اور دادی امّاں دونوں نے بیعت کرلی اور آخری دم تک وفا کے ساتھ اسے نبھایا۔ دونوں خدا کے فضل سے موصیہ تھیں۔
دادا ابو کی سب سے بڑی اولاد میرے والد محترم صوفی منظور احمد صاحب تھے جو 12؍مئی 1942ء کو پیدا ہوئے اور ان کے بعد چار بہنیں ہوئیں۔ ہماری چھوٹی پھوپھو جس دن پیدا ہوئیں اسی رات دادا ابّو بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اباجان اُس وقت نویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ گھر میں کمانے والا کوئی نہیں تھا۔ مجبوراً انہیں تعلیم چھوڑ کر دیگر ذمہ داریوں کو نبھانا پڑا جو انہوں نے انتہائی محنت اور اخلاص سے نبھائیں۔ بہت صابر و شاکر اور انتہائی محنتی انسان تھے۔ ایک باپ کی طرح اپنی بہنوں کو پالا، ان کی تربیت کی اور پھر شادیاں کیں۔ ہمیں کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم دونوں بہنیں ہی ان کی بیٹیاں ہیں بلکہ ہمیشہ ایسے ہی محسوس ہوتا کہ ابو جان کی پانچ بیٹیاں ہیں۔ ہماری ایک بہن چھوٹی عمر میں فوت ہوگئی تھی ۔
اللہ تعالیٰ نے ابو کی محنت کو نیک پھل عطا کیے اور دولت، شہرت اور عزت سب کچھ عطا کیا۔ آپ ایک انتہائی فرمانبردار بیٹے تھے جنہوں نے اپنی ماں کے سامنے کبھی اُف تک نہ کی۔ ہمیں صرف نماز میں سستی پر ڈانٹتے اور مثالوں سے سمجھاتے کہ ہماری پیدائش کا مقصد کیاہے۔ کئی دفعہ میرا چھوٹا بھائی ابو کی غیرموجودگی میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتا۔ ابو آتے تو دادی اماں انہیں ڈانٹتیں کہ تم اولاد کی تربیت نہیں کرتے۔ آپ خاموشی سے سنتے رہتے اور پھر بھائی سے صرف یہ کہتے یار تم کو شرم نہیں آتی بوڑھے باپ کو ڈانٹ پڑواتے ہو۔ یہ جملہ آج بھی جب یاد آتا ہے تو آنکھیں بےاختیار برستی ہیں اور دعا کرتی ہوں کہ خدا ہر کسی کو ایسا ہی شفیق باپ عطا فرمائے۔
آپ جماعتی غیرت بہت رکھتے تھے۔ آپ کا اصول تھا کہ کوئی ایسا کام نہ کرو کہ احمدیت پر حرف آئے۔ کبھی کسی کو بُرا نہ کہو کہ بدلے میں وہ جماعت کو برا بھلا کہے اور حضرت مسیح موعودؑ کو گالیاں دے۔ دیگر احمدیوں کو بھی سمجھاتے کہ اگر جماعت پر حرف آتا ہو تو وہاں اپنا حق بھی چھوڑ دو اور حضرت مسیح موعودؑ کے فرمان کے مطابق سچے ہو کرجھوٹے کی طرح تذلّل اختیار کرو، اس کا بدلہ خداتعالیٰ خود دے گا۔ یہی وجہ تھی کہ غیر از جماعت بھی آپ کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے فیصلوں میں آپ کو شریک کرتے، اپنی امانتیں اُن کے پاس رکھواتے حتیٰ کہ اپنی زمین کی رجسٹریاں تک آپ کے نام کروا دیتے۔ چنانچہ اپنے ہمسائے کی ایک رجسٹری اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے ان کے نام یہ کہہ کر کروائی کہ یار زندگی کا کیا بھروسہ ہے تم اپنی امانت کے بوجھ سے مجھے آزاد کردو۔
آپ اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے ۔امیرو غریب اور ہر کس و ناکس کی مہمان نوازی کرنے کے لیے ہر دم تیار رہتے۔ دن ہو یا رات مہمان آجاتے تو وہ تب تک سکون سے نہ بیٹھتے جب تک مہمان کے کھانے پینے،چائے اور بستر کا انتظام نہ ہوجاتا۔ احمدی یا غیر ازجماعت ہر قسم کے مہمان، مرکزی نمائندے سب ہمارے گھر میں ٹھہرتے۔ ایک دفعہ ایک مربی صاحب آئے ہوئے تھے وہ صبح ناشتے کے بعد جماعتی دورہ کے لیے کسی دوسری مجلس میں چلے گئے اور رات کو واپس آئے۔ ابو جان نے کھانے کا پوچھا تو بولے کہ کھانا تو میں کھاکر آیا ہوں البتہ چائے ضرور پیئوں گا۔ ابو جان نے گھر آکر چائے بنانے کے لیے کہا تو امی نے بتایا کہ دودھ نہیں ہے۔ مگرابو کو کہاں گوارا تھا کہ وہ مہمان سے کہیں کہ دودھ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو چائے نہیں مل سکتی۔ آپ نے برتن بڑے بھائی کو پکڑایا اور بولے جاؤ اللہ کا نام لے کر دودھ دوھ لاؤ۔ حالانکہ اس سے پہلے آپ دودھ دوھ چکے تھے۔ کہنے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ جانور مہمان کی چائے کے لیے دودھ دیدے اور یہی ہوا بھائی کلو کے قریب دودھ دوھ لائے اور یوں چائے بنا کر مہمان کو پیش کردی گئی۔ خدا تعالیٰ نے ابو جان کے بھروسے کو ٹوٹنے نہ دیا اور آپ کا توکّل کام آگیا۔
ایک دفعہ کسی غیر از جماعت جاننے والوں نے اپنے مزدوروں کو بھجوایا اور انہوں نے آکر کہا کہ حاجی صاحب کہتے تھے ان کے پاس چلے جانا، وہ کھانے اور بستر کا انتظام کردیں گے رات کے نو دس بجے کا وقت اور چھ سات مہما ن۔ ابوجان گھر کے اندر آئے اور بتایا کہ مہمان کھانا کھائیں گے۔ مجھے یاد ہے ہم میں سے ایک نے سالن بنایا اور دوسری نے آٹا گوندھ کر روٹی بنائی۔ اتنی دیر میں ابوجان نے اُن کے بستر لگوا دیے اور یوں ان کے کھانے، چائے اور باقی انتظام کے بعد پُرسکون ہوئے۔ ایسے کئی واقعات ہیں کہ آپ کسی کو بھجواتے کہ اتنے آدمیوں کا کھانا بھجوا دیں ۔ پھرگھر آتے ہی تصدیق کرتے کہ کیا کھانا چلا گیا ہے؟ جب تک تسلی نہ کرلیتے کہ مہمانوں نے کھانا کھا لیا ہے تب تک خود کھانا نہ کھاتے۔
آپ کی زندگی بےحد مصروف تھی اپنے ذاتی اور جماعتی کاموں کے لیے کبھی چونڈہ اور کبھی سیالکوٹ اور کبھی دیگر شہروں میں جانا پڑتا لیکن کبھی یہ کہہ کر جماعتی کام یا میٹنگز نہیں چھوڑتے تھے کہ میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔ ہمارے گھر میں تمام جماعتی رسالے تشحیذ، مصباح، انصاراللہ، خالد اور روزنامہ الفضل آتے تھے اور اتنی مصروفیت میں بھی آپ ان سب کا مطالعہ کرتے ۔ رات سونے سے پہلے اور اگر کبھی دوپہر کو لیٹتے تو بھی جماعتی کتب کا مطالعہ کررہے ہوتے۔
روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور تفسیر صغیر سے ترجمہ پڑھنا آپ کے معمول میں شامل تھا۔ نماز حتّی الوسع باجماعت ادا کرتے اور روزہ کبھی نہ چھوڑتے۔ ایک بار میرے ساتھ اسلام آباد میں واقع بیلجیم کے سفارت خانے میں جانا پڑا تو اس دن روزہ چھوڑنا پڑا اور پھر نامعلوم کتنی بار مجھے یاد دلاتے رہے کہ تم نے آج میرا روزہ چھڑوا دیا ہے۔
آپ کے والدین نے تو آپ کا نام منظور احمد رکھا تھا لیکن جماعت میں آپ کو صوفی صاحب کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ چنانچہ آپ صوفی منظور احمد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ جب آپ کی وصیت منظور ہو گئی تو کہنے لگے کہ میں تھوڑے دنوں میں وصیت کا حصہ ادا کردوں گا۔ مَیں نے کہا کہ اتنی جلدی کیوں، ضرورت پڑی تو آپ کے دونوں بیٹے ادا کردیں گے۔ بولے نہیں، اپنے کام خود کرتے ہیں کسی پر نہیں چھوڑتے۔ چنانچہ آپ نے اپنا حصہ جلد ہی ادا کردیا۔
8؍جون 2009ء کی صبح کسی کام کے لیے جب آپ موٹرسائیکل پر پسرور جا رہے تھے تو چونڈہ کے قریب ایک ویگن کے ساتھ حادثے میں شدید زخمی ہوگئے اور موقع پر ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بوجہ موصی ہونے کے جنازہ ربوہ لے جایا گیا جہاں بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *