فونٹ سائز:

ایمان میں تازگی

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ‘‘الفضل انٹرنیشنل‘‘ 17؍اگست 2026ء)

محترم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے بزرگ حنفی المذہب تھے۔ مگر آپ چونکہ ہر وقت سچائی کی جستجو میں لگے رہتے تھے اس لیے جلد ہی آپ اہل حدیث گروہ میں شامل ہوگئے۔ اُس وقت آپ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ میں پڑھتے تھے جہاں ایک پادری سے بحث مباحثہ رہتا تھا۔ مگر حیاتِ مسیحؑ کے عقیدہ کی وجہ سے سخت زک اٹھانا پڑتی تھی۔ اس وجہ سے دین پر شبہات بھی پیدا ہوگئے۔ بعض مرتبہ یہ بھی خیال آتا تھا کہ کیوں نہ آریہ بن جائیں۔ آپ کے قبول احمدیت کا ایمان افروز واقعہ ’’تاریخ احمدیت لاہور‘‘ کی زینت ہے جسے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍دسمبر2014ء نے شائع کیا ہے۔
طبیعت کی اس بےچینی کے زمانہ میں آپ کے دادا نے حضر ت اقدس مسیح موعودؑ کی کتاب ’’فتح اسلام‘‘ آپ کو دیتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو چودھویں صدی کا کرشمہ۔ ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ کتاب اس نے شائع کی ہے۔ آپ نے جو اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو خوشی سے سرشار ہوگئے اور جب تک ختم نہ ہوئی اسے ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ کچھ روز بعد حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ تشریف لے گئے اور حضرت حکیم حسام الدین صاحبؓ کے مکان پر قیام فرمایا تو آپ بھی حاضر ہوئے اور حضرت اقدسؑ کو دیکھتے ہی دل اس یقین سے بھر گیا کہ یہ منہ جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔ حضورؑ کی اقتداء میں عصر کی نماز پڑھی اور مختلف مسائل دینیہ پر گفتگو بھی سنی۔ مگر حضورؑ کے تشریف لے جانے کے بعد سیالکوٹ کی ایک جامع مسجد میں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کی ایسی تقریر سنی کہ آپ کا روحانی سکون ایک بار پھر برباد ہو گیا۔ ان ایام میں چشتیہ صابریہ خاندان کے ایک صوفی منش بزرگ سے آپ نے بہت سے اوراد و وظائف سیکھے مگر طبیعت کو سکون پھر بھی نصیب نہ ہوا۔ پھر ایک احمدی فوجی حضرت مولوی جلال الدین صاحب سے ’’براہین احمدیہ‘‘ مل گئی تو اسے پڑھ کر ایمان میں تازگی پیدا ہوئی اور یقین ہوگیا کہ حضرت مرزا صاحبؑ کا دعویٰ سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کی صداقت کے دلائل صرف آپؑ ہی بیان کر سکتے ہیں۔ پھر لاہور میں ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ والا مضمون سن کر اس خیال کو اَور بھی تقویت ملی۔ اس کے بعد آپ کچھ عرصہ کے لیے بسلسلہ ملازمت افریقہ چلے گئے۔ وہاں بعض احمدیوں سے ملاقات رہی۔ پھر واپس آکر پہلے ضلع سیالکوٹ میں اور پھر شکر گڑھ ضلع گورداسپور میں پلیگ ڈیوٹی پر متعین ہوئے۔ آپ کے اہل وعیال اُن دنوں امرتسر میں مقیم تھے۔ ایک روز اطلاع ملی کہ آپ کا دو سالہ بیٹا بعارضہ ٹائیفائیڈ بیمار ہے۔ آپ گھبرا گئے اور ایک ہفتہ کی رخصت لے کر گھر پہنچے۔ رخصت ختم ہوگئی مگر بچے کے بخار میں کمی نہ آئی۔ بیگم صاحبہ نے کہا کہ گورداسپورتو جانا ہی ہے، قادیان میں جاکر حضرت مرزا صاحبؑ سے دعا ہی کروالو، کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ فضل کردے۔ اس پر آپ نےقادیان کی راہ لی اور دو بجے رات قادیان پہنچے۔ دیکھا کہ مسجد مبارک تہجدگزاروں سے بھری ہوئی ہے اور حضرت اقدسؑ اندر تہجد پڑھ رہے ہیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر بےحد متأثر ہوئے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کے ساتھ پرانی دوستی تھی۔ انہوں نے آپ کو حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش کیا تو دیکھتے ہی سارے شکوک و شبہات کافور ہوگئے۔ پھر علیحدگی میں ملاقات کرکے کوئی وظیفہ پوچھا تو حضورؑ نے فرمایا: ’’یہی کہ نمازیں سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھا کرو۔‘‘ حضورؑ کی یہ تلقین سن کر دل پر خاص اثر ہوا۔ بچے کی صحت کے لیے دعا کی درخواست کی تو حضورؑ نے اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کردی۔ پھر بیعت کرکے شکر گڑھ پہنچے تو تیسرے روز خط ملا جس میں لکھا تھا کہ لڑکا بالکل اچھا ہے ہرگز کوئی فکر نہ کریں۔ جب رخصت لے کر گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ جس روز صبح حضرت اقدسؑ سے دعا کروائی تھی اس روز حالت بہت خراب تھی مگر پچھلی رات اچانک بخار اتر گیا۔معالج ڈاکٹر کو جب اطلاع ہوئی تو وہ مانتا ہی نہ تھا مگر جب اس نے خود آ کر ٹمپریچر لیا اور نبض دیکھی تو حیران رہ گیااور کہنے لگا کہ یہ تو کوئی اعجاز مسیحائی ہے کہ مُردہ زندہ ہو گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *