ربوہ کی سرزمین پر حیاتیاتی تحقیق

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 18 مئی 2026ء)

پروفیسر محمد شریف خان صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍ اور 4؍اپریل 2014ء کے شماروں میں مکرم پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف خان صاحب نے اپنی عملی زندگی میں کی جانے والی سائنسی تحقیق کے حوالے سے دلچسپ معلومات اور واقعات قلمبند کیے ہیں جن کا گہرا تعلق ربوہ کی یادگار تاریخ سے بھی ہے۔

سرزمین ربوہ پر آبادکاری کا آغاز 1948ء

محترم ڈاکٹر صاحب رقمطراز ہیں کہ 8؍ستمبر1963ء کو بطور استاد تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں میرا پہلا دن تھا۔ یہیں سے چند سال پہلے مَیں F.Sc کرکے گیا تھا اس لیے میرے کولیگز میں سے بیشتر میرے معزز اساتذہ تھے۔ M.Sc میں میرے تحقیقی مقالے (thesis) کے نگران پروفیسر ڈاکٹر محمد احسن الاسلام بہت شفیق استاد تھے۔ انہوں نے تحقیق کرنے کا ڈھنگ سکھایا۔ مجھے مقالے میں 98فیصد نمبر ملے۔ میرا مقالہ شائع ہوا تو جرمنی کے ماہر خزندات ڈاکٹر رابرٹس نے میرے تحقیقی کام میں استعمال ہونے والے جانور (مینڈک) کے سائنسی نام سے اختلاف کیا۔ ڈاکٹر احسن نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں مینڈک پر تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں بھی اس کا سائنسی نام معلوم نہیں تھا۔ اس پر مَیں نے فیصلہ کیا کہ مَیں ایسے جانوروں پر ہی آئندہ تحقیقی کام جاری رکھوں گا یعنی مینڈک، خزندے (کرلے، چھپکلیاں) اور سانپ وغیرہ۔ چنانچہ انہی دنوں یونیورسٹی میں ہمارے شعبہ کے ہیڈ ڈاکٹر مظفراحمد کے پوچھنے پر مَیں نے بتایا کہ مَیں جماعت احمدیہ کے لیے زندگی وقف کرچکا ہوں اور مجھے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ وہ حیران ہوکر کہنے لگے: ربوہ تو بےآب وگیاہ ویران جگہ ہے، وہاں پر جاکر کیا تحقیق کروگے، اپنے آپ کو ضائع نہ کرو، نہ وہاں تعلیمی ماحول، نہ لائبریری، نہ لیبارٹری۔ میرے پاس یونیورسٹی میں آجاؤ، جلد ہی وظیفے پر باہر جاکر پی ایچ ڈی کرلوگے وغیرہ۔ لیکن اُن کی نصیحت میرے لیے قابل عمل نہیں تھی۔ جب 1964ء میں ڈاکٹر صاحب یونیورسٹی کی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے تعلیم الاسلام کالج کی B.Sc کی کلاسز کا یونیورسٹی سے تعلق کا جائزہ لینے آئے تو دوبارہ اپنی پیشکش دہرائی۔ اس پر مَیں نے اپنا زیرتکمیل مسودہ اور اپنی کولیکشن (collection) انہیں دکھائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی کی۔

تعلیم الاسلام کالج میں حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ پرنسپل

ربوہ کالج میں چند حنوط شدہ جانور اور بوتلوں میں محفوظ شدہ کچھ مچھلیاں، کرلے اور سانپ وغیرہ رکھے گئے تھے لیکن سائنسی اصول مدّنظر نہ رکھنے کی وجہ سے وہ گلنے سڑنے کے مرحلے میں پہنچ رہے تھے اور کائی لگ رہی تھی۔ مَیں ہفتے میں ایک دن طلبہ کے ساتھ ربوہ کے گردونواح میں جانور پکڑنے جاتا۔ دیگر علاقوں کے طلبہ کو بھی جانور پکڑ کر محفوظ کرکے لانے کی ترغیب دی جاتی۔ اس طرح کالج میں ذخیرہ بڑھنے لگا۔ میری تحقیق کو دیکھتے ہوئے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن نے مجھے پوٹھوہار اور جہلم کے علاقے میں موجود جانوروں پر تحقیق کے لیے تین سالہ منصوبے کے فنڈز بھی مہیا کردیے۔ چنانچہ ایک ٹیم کو ساتھ ملاکر دن رات کام کیا اور تین چار نئی انواع دریافت کیں۔ پھر Worldwide Fund for Nature نے ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے علاقے میں کام کے لیے دو سال کا منصوبہ دیا تو وہاں سے بھی کئی نمونے اکٹھے کیے۔ کالج کی بیالوجی سوسائٹی کے ذریعے اور اپنے خرچ پر بھی کچھ سفر کرکے کئی نمونے اکٹھے کیے اور مقالے تحریر کیے۔

پروفیسر محمد شریف خان صاحب

میں روزانہ کالج کے اوقات کے بعد گھنٹوں لیبارٹری میں تحقیقی کام کرتا اور رات گئے گھر جاتا۔ جب شادی ہوئی تو جلدی گھر جانا ناگزیر ہوگیا اور تحقیقی کام متاثر ہونے لگا۔ میری خواہش تھی کہ تحقیقی سامان اپنے گھر کے کمرے میں رکھ دوں تاکہ دن رات جب موقع ملے تو تحقیق جاری رکھ سکوں لیکن ڈر تھا کہ کالج کے نوادرات کی چوری کا الزام نہ آجائے۔ لیکن 1974ء میں جب کالج نیشنلائز ہوا تو ایک مولوی صاحب نے جانوروں کو محفوظ رکھنے کا کیمیکل فارملین لانے کے لیے کالج سے چند سو روپے لیے لیکن چند ہفتوں بعد پرنسپل کو کہا کہ شریف خان نے اپنے ذاتی نمونے تیار کرنے ہیں ورنہ کالج کو تو کیمیکل کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے اُنہیں کہیں کہ اپنا میٹیریل کالج سے لے جائیں۔ جب پرنسپل نے مجھے یہ پیغام دیا تو مَیں خوشی سے اپنا سارا سامان سمیٹ کر گھر لے آیا اور اس طرح بعد میں میرے گھر دارالصدر میں واقع ایک کمرے کی لیبارٹری کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوگئی اور میری تحقیق اور مقالات کی رفتار میں بھی تیزی آگئی۔ کئی نامور پاکستانی اور عالمی سطح کے پروفیسر صاحبان تبادلہ خیال کرنے میری لیبارٹری میں آتے رہے۔ اسی دوران نیویارک نیشنل ہسٹری میوزیم کی طرف سے ایک تحقیقی منصوبے کے لیے گرانٹ کی منظوری ہوئی تو حکومت پاکستان نے کہا کہ شریف خان کے علاوہ کسی دوسرے ریسرچر کا انتخاب کیا جائے۔ جواب ملا کہ اس فیلڈ میں اُس کے علاوہ پاکستان میں کسی کو نہیں جانتے۔ اس طرح یہ منصوبہ ختم ہوگیا۔ بہرحال میری لیبارٹری کی تحقیق میں بیس سے زیادہ نئی انواع دریافت اور رجسٹر کی گئیں جن کے نمونے یورپ اور امریکہ کے کئی اداروں میں مہیا کیے گئے۔

reptiles

کالج جوائن کرنے کے بعد مَیں نے مطلوبہ لٹریچر کی تلاش میں کالج لائبریری کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پھر فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی لائبریری میں گیا تو ایسے تحقیقی مقالے دیکھنے کو ملے کہ ربوہ میں یہ علمی خزانہ دیکھ کر دل سے حضرت مصلح موعودؓ کے لیے بےساختہ دعا نکلی۔ اُس زمانے میں فوٹو کاپی نہیں تھی چنانچہ ایک ایک مقالہ ہاتھ سے نقل کرتا رہا۔ پھر پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری بھی کھنگالی۔ کچھ مواد نہرو یونیورسٹی انڈیا اور کچھ برٹش نیچرل ہسٹری میوزیم لائبریری سے دستیاب ہوا۔ میرے تحقیقی مقالے تواتر سے دنیابھر میں شائع ہونے لگے تو بدلے میں ہر جگہ سے سائنسدانوں کے مقالے مجھے بھجوائے جانے لگے۔ جرمن، فرنچ، روسی اور اطالوی زبانوں میں مقالے ملے تو کئی دوستوں نے تراجم کرنے میں مدد کی۔ خصوصاً ملک زبیر احمد صاحب آف ملتان نے تین غیرملکی زبانوں سے تراجم کرنے میں اور بعض دوستوں نے میرے تحقیقی مقالے ٹائپنگ کرنے میں بھرپور مدد کی۔ پھر چھ سو روپے کا اپنا پہلا ٹائپ رائٹر مَیں نے خرید لیا اورایک انگلی سے ٹائپنگ شروع کی۔ بعد میں الیکٹرانک ٹائپ رائٹر بھی خریدا لیکن ٹائپنگ ہمیشہ ایک انگلی سے ہی کی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ غلطی کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔ 1988ء میں ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نے مجھے ایک کمپیوٹر کا تحفہ دیا تو کئی کام آسان ہوگئے۔ ٹائپ شدہ چیزوں کا ریکارڈ بھی محفوظ ہوگیا۔

پروفیسر محمد شریف خان صاحب

پاکستان میں میرا پہلا تحقیقی مقالہ 1965ء میں اور بیرون ملک 1972ء میں ایک امریکی شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اب تک ان کی تعداد اڑہائی صد سے زائد ہوچکی ہے۔ کئی کتب بھی شائع ہوچکی ہیں جن کے تراجم بھی مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ 1988ء میں پنجاب یونیورسٹی میں Ph.D کی ڈگری کے لیے مَیں نے رجسٹر کروایا تھا اور 1991ء میں اپنی ریسرچ بھی جمع کروادی لیکن لمبا عرصہ گزرنے پر بھی یونیورسٹی کی طرف سے جب خطوں کا بھی جواب نہ ملا تو آخر ایک روز پریشانی میں وہاں خود پہنچا۔ متعلقہ کارکن نے جواب دیا کہ آپ کو تو ابھی تین سال ہی مقالہ جمع کروائے ہوئے ہیں، یہاں تو بیس بیس سال پرانا مال پڑا ہے جن کے جمع کروانے والے کب کے مرگئے۔ آخر میرے ایک شاگرد نے 1995ء میں اُس ذخیرے میں سے چند دن محنت کرکے میرا مقالہ ڈھونڈ نکالا تو ’’صاحب‘‘ اُسے دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم نے مختلف پاکستانی یونیورسٹیوں سے پتہ کیا تھا لیکن اسے جانچنے والا کوئی نہیں ملا، مصنف ہی بتاسکتا ہے کہ اسے کون جانچے۔ اس پر مَیں نے کینیڈا کے پروفیسر رچرڈ Wassersug کا پتہ لکھ دیا اور ڈاک خرچ کے اڑہائی سو روپے دوسری بار جمع کروادیے۔ تقریباً مہینے بعد پروفیسر صاحب کا جواب آیا کہ مجھے جو مقالہ 1995ء میں بھجوایا گیا ہے اس پر یونیورسٹی میں پیش کرنے کا سن 1991ء درج ہے، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اسے پانچ سال کیوں روکے رکھا۔ بہرحال مَیں مسٹر خان کو اُن کی فاضلانہ مطبوعات سے کافی عرصے سے جانتا ہوں اور اُنہیں پہلے ہی Ph.D سمجھتا ہوں۔ … الغرض چند دن بعد پنجاب یونیورسٹی سینیٹ میں دو پروفیسروں کے سامنے رسماً پیش ہوا جو میرے مقالے کے نفس مضمون سے نابلد تھے۔ چنانچہ اِدھراُدھر کی باتیں ہوئیں اور اس طرح 1996ء میں مجھے ڈگری سے نواز دیا گیا۔
1999ء میں امریکہ آنے سے قبل گورنمنٹ کالج کی خواہش پر اپنے جمع شدہ نوادرات اُنہیں عطیہ کردیے۔ جبکہ میری ذاتی تحقیقی لائبریری کو خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ اپنا غیرمطبوعہ تحقیقی کام مَیں اپنے ہمراہ لے آیا تھا جو تاحال جاری ہے اور وقتاً فوقتاً تحقیقی مقالوں کی صورت شائع ہوتا رہتا ہے۔ دنیابھر کے مختلف خطّوں سے بےشمار طلبہ اور ماہرین مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اور اپنی تحقیق کے حوالے سے تبادلۂ خیال کرتے ہیں چنانچہ میری مصروفیت جاری رہتی ہے۔
(نوٹ: محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف خان صاحب 1939ء میں تنزانیہ میں پیدا ہوئے تھے اور 2023ء میں بعمر 84؍ سال امریکہ میں وفات پاگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 6؍اکتوبر2023ء کے خطبہ جمعہ میں مرحوم کا ذکرخیر فرمایا اور نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ 2002ء میں انہیں پاکستان میں Zoologist Of The Year کا ایوارڈ دیا گیا۔ آپ کے متعدد دلچسپ مضامین اور زندگی میں پیش آنے والے اہم واقعات ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں موجود ہیں جو سرچ کیے جاسکتے ہیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں