میرے برادراصغر مکرم نصیر احمد انجم صاحب
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن، … اگست 2026ء)
روزنامہ ‘‘الفضل‘‘ ربوہ 30؍جنوری2016ء میں مکرم عبدالعزیز صاحب اپنے برادراصغر مکرم نصیر احمد انجم صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ آپ مجھ سے دو سال چھوٹے تھے۔ والدین کے فرمانبردار ہونے کی وجہ سے اُن کی دعائیں لینے والے تھے۔ بچپن سے پڑھائی میں محنت اور طبیعت میں سادگی کی عادت نمایاں تھی۔ سرگودھا میں ہمارا آبائی مکان حضرت مرزا عبدالحق صاحب کی رہائشگاہ کے قریب تھا۔ چنانچہ اُن کی صحبت میں بھی بھائی کا وقت گزرتا اور اُن سے کتب لے کر بھی مطالعہ کرتے۔ حضرت مرزا صاحب کی ترجمۃالقرآن میں بھی شریک ہوتے اور وہ گزشتہ سبق کا جائزہ لیتے ہوئے یہ اظہار بھی کرتے کہ سب سے اچھی تیاری نصیر کی ہوتی ہے۔ میٹرک کرنے کے بعد آپ نے حضرت مرزا صاحب کی تحریک پر ہی جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ آپ کو جامعہ کی تعلیم کے دوران ان قرآن کلاسوں کا بہت فائدہ ہوا جو حضرت مرزا صاحب لیا کرتے تھے۔
جامعہ میں ہر کلاس میں آپ اوّل آتے رہے۔ تعلیم کے دوران ہی معمولی تیاری کے ساتھ بی اے کرلیا تھا۔ پھر کسی کو ایم اے عربی کی تیاری کرواتے ہوئے خود بھی ایم اے عربی کرلیا۔ یہ سارے امتحانات فرسٹ ڈویژن میں پاس کیے۔
آپ گھر میں آنے والے مہمانوں کا بہت خیال رکھتے۔ جن مہمانوں کو جلد سونے کی عادت ہوتی اُن کا بستر جلد لگوانے کی فکر میں رہتے۔ جنہیں چائے کی عادت ہوتی اُن کا بھی خیال رکھتے۔ ایک رشتہ دار کہتے کہ دارالضیافت کی طرح نصیر انجم صاحب کے گھر میں بھی ہر وقت کھانا تیار رہتا ہے۔ آپ نہ صرف اپنے بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتے بلکہ خاندان کے دیگر بچے بھی راہنمائی کے لیے آپ سے رابطہ کرتے۔ اپنے سکول کے زمانے سے ہی آپ کو دعوت الی اللہ کا شوق تھا۔
آپ کو برین ہیمرج ہوا تو دنیابھر سے بےشمار احباب نے دعائیں کیں اور آپ کی صحت کے متعلق رابطہ کیا۔ مکرم مرزا نثار صاحب (پِسر حضرت مرزا عبدالحق صاحب) نے بتایا کہ ان کی وفات سے دو دن قبل دعا کے دوران یہ بشارت ملی کہ گویا اللہ تعالیٰ نے اب ان کو اپنی رحمت کے لیے چُن لیا ہے اور اپنے پاس بلانے کا ارادہ کرلیا ہے اور یہ چنیدہ لوگوں میں سے ہیں۔
