مکرم مولانا نصیر احمد انجم صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن، … اگست 2026ء)

میر انجم پرویز صاحب

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ ربوہ 15؍نومبر2014ء میں شامل اشاعت ایک مختصر مضمون میں مکرم مولانا نصیر احمد انجم صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرم میر انجم پرویز صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار (جامعہ احمدیہ میں) درجہ ثانیہ میں پہنچا تو مطالعہ کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی کا بہت بوجھ محسوس ہوا۔ کورس بھی مکمل نہیں ہوا اور موازنہ مذاہب کے مضمون میں اپنے پہلے ہفتہ وار جائزے میں فیل ہوگیا۔ مرحوم نے خاکسار سے کہا کہ ایک دن اَور لے لیں اور تیاری کرکے کل دوبارہ امتحان دے دیں۔ خاکسار ساری رات پڑھتا رہا، بمشکل نصاب پورا کیا لیکن اکثر چیزیں پھر ذہن سے اُتر گئیں۔ دوسرے دن کا جائزہ دیا جو پہلے سے کچھ بہتر تھا تاہم پاس ہونے کے لائق نہ تھا۔ میرے ایک رُوم میٹ نے آپ کو بتادیا تھا کہ یہ ساری رات پڑھتا رہا ہے۔ آپ نے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں آپ کو پاس کردیتا ہوں، اگر محنت کرتے رہے تو کامیاب ہوجاؤگے۔ وہ وقت ایسا تھا کہ شاید مَیں جامعہ چھوڑ جاتا لیکن آپ کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں میری تعلیم جاری رہی۔
آپ کو تقریر کا خاص ملکہ حاصل تھا۔ فی البدیہہ تقریر بھی ایسے کرتے گویا خوب تیاری کی ہو۔ آپ کے ساتھ مجھے ایم ٹی اے کے لیے بیسیوں پروگرام ریکارڈ کروانے کی توفیق بھی ملی۔ آپ بیان میں روانی کے ساتھ موضوع کا ایسا خوش اسلوبی سے احاطہ کرتےکہ حیرت ہوتی تھی۔ اگر دوسروں سے کوئی غلطی ہوجاتی تو غیرمحسوس طریقے سے اس کی درستی کروادیتے۔ آپ میں غصہ نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ کبھی گلہ شکوہ نہ کرتے۔ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے اور اپنے شاگردوں سے بھی عزت سے پیش آتے۔خوش مزاجی اور ظرافت طبعی آپ کے نمایاں اوصاف میں شامل تھی لیکن کبھی وقار اور متانت کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ آپ ایسی منکسرالمزاج شخصیت تھے جس کا مطمحِ نظر محض خدمت دین تھا۔ غیرضروری باتوں اور دوسروں کی تنقید میں وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ تربیتی کلاس میں منتظم ہونے کے باوجود ہم معاونین کے ساتھ مل کر کام کرواتے اور نماز وغیرہ کے لیے صفیں بچھواتے۔ اگر ہم کہتے کہ آپ رہنے دیں تو یہی کہتے کہ اس میں کیا حرج ہے۔

فضل الرحمٰن ناصر صاحب

ایک بار ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران آپ سے کوئی غلطی ہوگئی تو ایڈیٹر صاحب نے آپ کو ڈانٹا۔ آپ خاموش رہے اور دوبارہ ریکارڈنگ کروادی۔ اس کے بعد ایک اَور منتظم نے بتایا کہ ریکارڈنگ ٹھیک نہیں ہوسکی۔ چنانچہ آپ نے تیسری بار اُسی خوش دلی سے ریکارڈنگ کروادی۔
آپ ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھنے والے اور خدمتِ خلق کرنے والے انسان تھے۔ مکرم فضل الرحمٰن ناصر صاحب مربی سلسلہ نے بتایا کہ مکرم نصیر انجم صاحب ہمارے بہترین ہمسائے ہیں۔ آپ کی وفات سے چند دن پہلے مَیں لاہور گیا ہوا تھا کہ ایک رات ہمارے گھر کی بجلی اچانک خراب ہوگئی۔ آپ نے ایک الیکٹریشن کو بلاکر چیک کروایا تو معلوم ہوا کہ خرابی گھر کے اندر سے نہیں بلکہ باہر سے ہے جس کے لیے واپڈا کے آدمی کو بلانے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ آپ نے رابطہ کرکے واپڈا سے آدمی بلوایا اور آدھی رات کو بجلی ٹھیک کروائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں