مکرم نصیر احمد انجم صاحب کی وفات
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن، … اگست 2026ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14 و 15؍جولائی 2014ء میں مکرم نصیر احمد انجم صاحب کی وفات کا اعلان شائع ہوا ہے جو 12؍جولائی کی صبح 49 سال کی عمر میں طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں وفات پاگئے۔ آپ برین ہیمبرج کے بعد دو روز سے کومے میں تھے۔ اسی روز نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔
مکرم نصیر احمد انجم صاحب 10؍مئی1965ء کو محترم عبدالقادر صاحب کے ہاں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ کُل تین بہنیں اور تین بھائی تھے۔ آپ میٹرک کرکے 1981ء میں وقف کرکے جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخل ہوئے۔ تمام کلاسوں میں اوّل پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 1988ء میں فارغ التحصیل ہوکر میدان عمل میں قدم رکھا اور جولائی 1988ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مربی سلسلہ مقرر ہوئے۔ بعدازاں گوجرہ میں بھی فرائض سرانجام دیے۔ جامعہ میں دورانِ تعلیم ہی آپ نے بی اے بھی کیا اور جامعہ پاس کرنے کے بعد ایم اے عربی بھی کرلیا۔ روسی زبان بھی سیکھی اور 29؍مئی 1990ء کو موازنہ مذاہب کے مضمون میں تخصّص مکمل کرلیا اور یکم ستمبر سے جامعہ احمدیہ میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ جامعہ احمدیہ میں صدر شعبہ موازنہ مذاہب، صدر مقالہ کمیٹی اور ممبر انتظامی کمیٹی کے علاوہ متعدد خدمات بجالاتے رہے۔ مجلس افتاء اور ریسرچ سیل کے ممبر اور دارالقضاء میں بطور وکیل خدمات سرانجام دیں۔ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی مرکزی عاملہ میں 1994ء سے 2005ء تک بطور معاون صدر اور مختلف شعبہ جات میں بطور مہتمم خدمات سرانجام دینے کی توفیق بھی ملی۔ رسائل ’’تشحیذالاذہان‘‘ اور ’’انصاراللہ‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ مسجد اقصیٰ میں خطباتِ جمعہ اور مسجد مبارک میں قرآن کریم اور حدیث کا درس دینے کی توفیق بھی ملی۔ آپ کو دو دفعہ جلسہ سالانہ یوکے میں بطور نمائندہ شامل ہونے اور جلسہ سالانہ2010ء میں تقریر کرنے کی توفیق بھی ملی۔ ایک بار چین کا تحقیقی سفر بھی کیا اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں متعدد بار ہائیکنگ کی۔ آپ ایک اچھے مقرر اور مصنف تھے۔ آپ کا (جامعہ کا) درجہ شاہد کا مقالہ ’’مجدّدین اُمّتِ محمدیہ‘‘ شائع ہوچکا ہے۔ ایم ٹی اے پر بہت سے پروگرام ریکارڈ کروائے۔ سوال و جواب میں مہارت تھی۔ ایک اچھے مقرر اور داعی الی اللہ تھے۔ خلافت کے ساتھ والہانہ عشق تھا۔ آپ تصنّع سے پاک ایک عاجز اور منکسرالمزاج انسان تھے۔ بڑی سفیدپوشی کے ساتھ باوقار زندگی گزاری۔ مستحقین کی خاموشی سے مالی مدد کرتے تھے۔ کئی لوگوں کی امانتیں آپ کے پاس رکھی ہوتی تھیں۔ اکرامِ ضیف اور بیوی بچوں کے ساتھ شفقت کا سلوک کرنے والے تھے۔ آپ کی شادی محترمہ ناصرہ انجم صاحبہ بنت مکرم محمد حسین صاحب آف صادق آباد ہوئی جن سے تین بیٹے اور تین بیٹیاں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں مرحوم کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ مکرم نصیر احمد انجم صاحب واقف زندگی اور جامعہ احمدیہ ربوہ میں استاد تھے۔ 1981ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا۔ اس کے بعد زندگی وقف کی اور جامعہ میں پڑھائی کے لیے تشریف لے آئے۔ جامعہ میں آپ نے بی اے کیا۔ جامعہ سے فارغ ہوئے تو پھر ایم اے عربی کیا۔ رشین زبان میں بھی ان کو جماعت کی طرف سے کورس کروایا گیا۔ 1988ء میں جامعہ سے شاہد کی ڈگری لینے کے بعد میدان عمل میں آئے اور مختلف جماعتوں میں رہے۔ 1990ء میں موازنہ مذاہب کے تخصّص کے لیے ربوہ بلایا گیا اور تخصّص کے دوران ہی آپ نے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد پڑھانا شروع کیا اور باقاعدہ طور پر 18؍جولائی 1999ء کو آپ مستقل طور پر استاد موازنہ مذاہب مقرر ہوئے اور تادم آخر اسی ذمہ داری کو بااحسن نبھاتے رہے۔ جامعہ سے پاس ہونے کے بعد خدمت کا عرصہ تقریباً چھبیس سال ہے۔ باوجود اس کے کہ جوان مربیان اور علماء میں سے تھے، موازنہ مذاہب میں آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اتھارٹی تھے۔ بڑا علم تھا۔ بڑا گہرا علم تھا۔ جامعہ میں تدریس کے علاوہ آپ کو مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق ملی۔ دارالقضاء کے ان ابتدائی نمائندگان میں سے تھے جنہیں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے مقرر فرمایا تھا اور آخر تک یہ رہے۔ مجلس افتاء اور ریسرچ سیل کے ممبر بھی تھے۔ خدام الاحمدیہ میں مختلف عہدوں پہ آپ نے خدمات انجام دیں۔
ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ نظام جماعت کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اگر اپنے بچوں میں سے کوئی کسی عہدیدار کے خلاف بات کرتا تو اس کو سمجھاتے اور اگر کوئی شخص کسی جماعتی فیصلے یا شخصیت کے خلاف بات کرنے کی کوشش کرتا تو اس کو بھی بڑی حکمت سے سمجھا دیتے۔ جلسہ سالانہ یوکے میں بھی ان کو شمولیت کی سعادت ملی اور جلسہ سالانہ 2010ء میں تقریر بھی کی تھی۔ خلافت کے ساتھ ان کو غیرمعمولی تعلق اور پیار تھا اور حقیقی سلطان نصیر میں شامل تھے۔ تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔ ہر جگہ مجلس میں جاتے تھے اور ان کو تبلیغی میدان میں بھی بڑا عبور تھا۔ پڑھے لکھے لوگوں کو بھی دلائل سے قائل کرلیا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی خدیجہ ماہم نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ عشق تھا اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑھنے پر بہت زور دیتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کی لغت یعنی مشکل الفاظ کی ڈکشنری لکھ رہے تھے تا کہ لوگ حضور علیہ السلام کی کتب سے مستفیض ہوسکیں۔ ’’راہ ہدیٰ‘‘ اور ایم ٹی اے کے متعدد پروگراموں میں شامل ہوتے اور بڑے مدلّل جواب دیا کرتے تھے۔
