Saturday, 12th September, 2026
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

آنحضور ﷺ امن کے پیکر

September 12, 2026 13 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍ستمبر 2026ء)

آنحضرت ﷺ سلامتی کے شہزادے تھے۔ یہ خطاب آپؐ کو صدیوں قبل یسعیاہ نبی نے دیا تھا۔ اپنی پیشگوئی میں انہوں نے فرمایا: ’’ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اس کے کاندھے پر ہوگی اور وہ اس نام سے کہلاتا ہے: عجیب، مشیر، خدائے قادر، ابدیت کا باپ، سلامتی کا شہزادہ۔ اس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہوگی۔‘‘ (یسعیاہ باب9)
عیسائی اس پیشگوئی کا اطلاق حضرت عیسیٰؑ پر کرتے ہیں لیکن تاریخی حقائق شاہد ہیں کہ یہ علامات آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک میں پوری ہوئیں۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر 2012ء میں ایک مضمون مکرم محمد محمود طاہر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے سلطنت بھی عطا فرمائی اور شان و شوکت بھی۔ کتنے ہی قبائل اور اقوام سرنگوں ہوکر آپؐ کے جھنڈے تلے آگئے۔ انسانی خون کی ہولی کھیلے بغیر ہونے والی بےشمار فتوحات کی وجہ آپؐ کی طرف سے دیا جانے والا امن و سلامتی کا پیغام اور ایک ایسی سلطنت کا قیام تھا جو عافیت کا حصار تھی۔ آنحضرت ﷺ نے تو مسلمان کی تعریف ہی یوں کی کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ یعنی قول اور فعل سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ نیز ارشاد فرمایا کہ آپس میں السلام علیکم کہنے کو رواج دو۔ یعنی ایک دوسرے کو سلامتی کا پیغام دو۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بےشک سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں رکھا ہے اس لیے تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔ آنحضورﷺ نے سلام کرنے کے آداب بھی سکھائے۔ فرمایا کہ چھوٹا بڑے کو، چلنے والا کھڑے کو اور سوار قا ئم کو سلام کہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضورﷺ سے پوچھا کہ کونسا اسلام بہتر ہے تو آپؐ نے فرمایا: بہترین اسلام یہ ہے کہ تم کھانا کھلاؤ اور ہر شخص کو سلام کرو خواہ تم اُسے جانتے ہو یا نہیں جانتے۔
اسلام نے دین میں جبر سے منع فرمایا ہے۔ (البقرۃ:257) نیز انسان کو آزادی دی کہ اگرچہ حق وہی ہے جو تمہارے ربّ کی طرف سے ہو پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے سو انکار کردے۔ (الکہف:30)۔ پھر اسلام چونکہ ایک آفاقی دین ہے اس لیے دوسرے مذاہب کی مقدّس ہستیوں کے احترام کی تعلیم بھی دی بلکہ قرآن کریم نے تو جھوٹے معبودوں کو بھی بُرابھلا کہنے سے منع فرمادیا مبادا ظالم سچے خدا کو بھی بُرا بھلا کہیں۔ (الانعام:109)۔ چنانچہ ایک یہودی کے ساتھ جب ایک مسلمان کا انبیاء کی فضیلت کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہوا اور مسلمان نے یہودی کو ضرب لگائی تو وہ یہودی آپؐ کے حضور شکایت لے کر حاضر ہوا۔ آپؐ نے کمال درجہ کی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ مجھے دوسرے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو۔ ایک دوسری روایت کے مطابق فرمایا کہ تم مجھے موسیٰ اور یونس بن متٰی پر بھی فضیلت نہ دیا کرو۔
دوسروں کے جذبات اور شرف انسانی کی سربلندی کے لیے آپؐ کا نمونہ یہ تھا کہ ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ کسی نے اظہار کیا تو فرمایا: کیا یہودی میں جان نہیں ہوتی؟
عدل کے ذریعے عالمگیر امن کی تعلیم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ (المائدہ:9)
آنحضورﷺ نے صرف عدل کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ اپنے قول وعمل سے احسان کرنے کی نصیحت بھی فرمائی۔ آپؐ کا اُسوہ یہ تھا کہ یہودی قبیلہ بنونضیر کو جب اُن کی بدعہدی کی وجہ سے مدینہ بدر کیا گیا تو اُن میں ایسے نوجوان اور بچے بھی موجود تھے جنہیں اسلام سے قبل اہل مدینہ نے منّت مانتے ہوئے یہودی بنانے کے لیے یہود کے سپرد کردیا ہوا تھا۔ جب بنوقریضہ کو مدینہ بدر کیا جانے لگا تو انصار نے اپنے بچوں کی واپسی کا مطالبہ کیا لیکن آنحضورﷺ نے اُن کو اُن کا عہد یاد دلایا اورفرمایا کہ اب یہ بچے یہودی ہوچکے ہیں اس لیے یہود کے ساتھ ہی جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے مکّہ مکرمہ کو بلد امین (امن کا شہر) قرار دیا اور آنحضورﷺ کو رسول امین کا خطاب دیا ہے۔ آپؐ کو جب ہجرت کرنی پڑی تو مدینہ میں بنائی جانے والی مسجد نبوی کو بھی آپؐ نے امن کا مقام بنائے رکھا۔ چنانچہ نجران سے آنے والے عیسائیوں کو اس میں عبادت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ طائف سے بنوثقیف کے مشرکین کا وفد آیا تو اُن کے خیمے بھی مسجد نبوی میں لگوائے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ مشرکین تو نجس یعنی پلید ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اس سے دل کی ناپاکی اور پلیدی مراد ہے۔
آنحضور ﷺ نے تلوار صرف اپنے دفاع میں اٹھائی۔ لیکن قیام امن کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور متعدد معاہدے فرمائے۔ ان معاہدات کی خلاف ورزیاں ہمیشہ مخالفین کی طرف سے ہوئیں خواہ وہ مشرکینِ مکّہ تھے، مدینہ کے یہود تھے یا دیگر حلیف گروہ۔ ان میں دو اہم معاہدے بھی شامل ہیں۔ پہلا میثاق مدینہ جو ہجرت کے فوراً بعد مدینہ کے انصار قبائل، مہاجرین مکّہ اور یہود کے درمیان ہوا جس میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی اور حملے کی صورت میں مدینہ کا دفاع باہم مل کر کرنا شامل تھا۔ اس کے مطابق کوئی فریق کسی بیرونی گروہ کے ساتھ صلح کا علیحدہ سے معاہدہ نہیں کرسکے گا بلکہ یہ معاہدات مل کر طے ہوں گے۔ لیکن یہود نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرکین مکّہ کے ساتھ درپردہ مل کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگائی اور نہایت خوفناک حالات پیدا کردیے چنانچہ سزا کے مستحق ٹھہرے۔
اسی طرح صلح حدیبیہ کا معاہدہ جو مشرکین نے نہایت ڈھٹائی سے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کیا تھا لیکن خداتعالیٰ نے اسے فتح مبین قرار دیا۔ امن کے پیکر حضرت محمد ﷺ نے ہر قسم کے جذبات اور احساسات کی قربانی دی۔ لیکن یہ معاہدہ بھی مشرکین نے خود توڑ دیا جس کے بعد آنحضورﷺ اپنی رؤیا کے مطابق حالتِ امن میں مسجد حرام میں داخل ہوئے اور بغیر کسی خونریزی کے مکّہ فتح ہوگیا۔ (سورۃالفتح:28)
حالتِ جنگ میں بھی آپؐ نے معذوروں، عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت فرمائی، عبادت گاہوں اور اُن کے نقیبوں پر حملوں سے بھی منع فرمایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *