رسول اللہﷺ کی شعرگوئی

September 6, 2026 8 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍ستمبر 2026ء)

ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر 2012ء سے مضامین کا انتخاب گذشتہ کالم سے پیش کیا جارہا ہے۔ سیرت مطہرہ کی مزید چند جھلکیاں اسی خصوصی اشاعت سے ہدیۂ قارئین ہیں۔
حضرت شیخ سعدیؒ کے ایک مشہور قصیدے کے دو اشعار اور اُن کا ترجمہ درج ذیل ہے:

بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہٖ
کَشَفَ الدُّجیٰ بِجَمَالِہٖ
حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٖ
صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ آلِہٖ

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے اپنے کمال سے انتہائی بلند مقام پایا۔ آپؐ نے اپنے خداداد حُسن و جمال سے تمام اندھیروں کو دُور کردیا۔ آپؐ کے تمام عادات و خصائل نہایت حسین و جمیل ہیں۔ پس آپؐ اور آپؐ کی آل پر درود بھیجو۔

………٭………٭………٭………

آنحضرت ﷺ نہ تو شاعر تھے اور نہ کبھی آپؐ نے شاعری کی لیکن کبھی کبھار آپؐ اپنے جذبات کو شعر کی صورت میں بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ سے ایک دفعہ استفسار کیا گیا کہ کیا نبی اکرمﷺ کبھی اشعار وغیرہ بھی گنگناتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں اپنے صحابی شاعر عبداللہ بن رواحہؓ کے شعر گنگناتے تھے اور اُن کا یہ شعر اکثر پڑھتے تھے کہ (ترجمہ)تیرے پاس ایسی خبریں آئیں گی جو قبل ازیں تمہیں حاصل نہیں۔
حضرت جندبؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریمﷺ کی انگلی پتھر کی ٹھوکر سے زخمی ہوگئی اور خون رسنے لگا تو آپؐ نے اپنی انگلی کو مخاطب کرکے یہ شعر کہا: (ترجمہ) تُو تو صرف ایک انگلی ہے جو خون آلودہ ہوگئی ہے اور تجھے جو تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کے راستے میں پہنچی ہے۔
غزوۂ حنین کے موقع پر جب بنوہوازن نے اچانک شدید حملہ کردیا کہ سوائے چند صحابہؓ کے باقی سب کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ ایسے میں آپؐ کے جاں نثار صحابہؓ آپؐ کو آگے بڑھنے سے روک رہے تھے مگر آپؐ مسلسل آگے بڑھتے جاتے تھے اور باآواز بلند یہ فرمارہے تھے:

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ
اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ

یعنی اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ مَیں نبی ہوں اوریہ کہ مَیں عبدالمطّلب کا بیٹا ہوں۔

(مرسلہ:مکرم سیف الرحمٰن صاحب)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *