مکرم احمد سعید اختر صاحب

November 7, 2026 • 8 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل …؍نومبر2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍جون2014ء میں مکرمہ عطیہ انور صاحبہ اپنے شوہر محترم احمد سعید اختر صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ آپ محترم ماسٹر فضل الرحمٰن بسمل صاحب سابق امیر جماعت بھیرہ کے ہاں بھیرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک صابر و شاکر اور متوکّل انسان تھے۔ اپنی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی خدمت کو ترجیح دیتے۔ واپڈا اور ایریگیشن کے شعبوں میں ملازم رہے لیکن جہاں بھی رہے جماعتی خدمات کی توفیق پاتے رہے۔ ہر جگہ نماز سینٹر میں جاکر نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد واپڈاٹاؤن لاہور میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور یہاں صلوٰۃ سینٹر قائم کرنے کی خدمت بھی سرانجام دی۔ لمبا عرصہ امام الصلوٰۃ بھی رہے۔ بچوں کی تربیت کا بہت خیال رہتا۔ اپنے چھ سالہ اور گیارہ سالہ نواسوں کو بھی اپنے ہمراہ مسجد لے کر جاتے۔ آخری بیماری کے دوران اپنے پوتوں کو گھر پر نماز باجماعت پڑھاتے رہے۔
آپ لمبا عرصہ مقامی جماعت میں سیکرٹری وصایا بھی رہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس نے نظام وصیت میں شمولیت کی خصوصی تحریک فرمائی تو آپ نے غیرمعمولی کوشش کی اور اپنے حلقے کے اکثر احمدی مردوخواتین کو نظام میں شامل کروایا اور آپ کی تحریک پر بہت سے دوستوں نے چندہ دینے میں باقاعدگی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مشاہدہ کیا۔
28؍مئی2010ء کی دہشت گردی کے دوران آپ بھی مسجد بیت النور لاہور میں موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی لیکن اس واقعہ کا آپ کی طبیعت پر گہرا اثر تھا۔ بعد میں اکثر کہا کرتے کہ شہادت اللہ کا بہت بڑا انعام ہے لیکن میری ایسی قسمت کہاں! اپنے حلقے کے شہداء کے اہل و عیال کا بہت خیال رکھتے تھے اور اُن کے لیے ہمیشہ دعاگو رہتے۔
جب صبح دفتر جانے کے لیے تیار ہورہے ہوتے تو خلیفہ وقت کی آڈیو سنتے رہتے۔ ہر پریشانی کے وقت خلیفہ وقت کی خدمت میں خط لکھتے اور پھر اُس پریشانی کو بھول کر اپنے معمول کے کام میں مصروف ہوجاتے۔

………………………………………………………

ایم لطیف شاہد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍دسمبر2014ء میں مکرم ایم اے لطیف شاہد صاحب کے قلم سے اُن کے چھوٹے بھائی مکرم احمد سعید اختر صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے جو 28؍اکتوبر2013ء کو راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں وفات پاگئے اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپردخاک ہوئے۔ بوقت وفات اپنے بیٹے میجر احمد نعیم اختر کے ہاں مقیم تھے۔ مرحوم اپنے نام کی صحیح تصویر تھے۔ بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک، خوش باش اور سعید فطرت انسان تھے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بیمار تھے۔ بہت ہی شدید کمزوری کے باوجود خوش مزاجی میں کمی نہیں آئی۔
ہم پانچ بھائیوں میں وہ عمر کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھے۔ لیکن سب سے پہلے وہ برسرروزگار ہوگئے اور انہوں نے والدین کی بہت خدمت کی۔ آپ پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے۔ والد صاحب مرحوم نے بھیرہ میں ایک مکان خریدا تو مرحوم نے گھر کو پینٹ کرنے اور پورے گھر کی بجلی کی وائرنگ بغیر کسی کی مدد کے خود ہی کی۔ والدین کا کہا ہوا کام فوراً کرتے تھے۔ بلکہ ہمسایوں کے کام بھی کردیا کرتے تھے۔
راولپنڈی پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سے ڈپلومہ لینے کے بعد واپڈا میں ملازم ہوگئے اور ملازمت کے دوران مختلف مقامات پر مقیم رہے۔ پوسٹنگ زیادہ تر ملتان کے علاقہ میں رہی۔ سدھنائی بیراج (عبدالحکیم) اور مظفر گڑھ میں صدر جماعت بھی رہے لیکن ہر جگہ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ زیادہ عرصہ سیکرٹری مال رہے اور جماعت کی ڈیوٹی کو بہت ہی ذمہ داری سے ادا کرتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور آگئے اور واپڈا ٹاؤن میں اپنا مکان بنایا۔ 2010ء کے سانحہ لاہور کے وقت وہ مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی خاص حفاظت میں رکھا۔
خاکسار جب پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے شماریات کررہا تھا اور میرے چھوٹے بھائی مکرم محمود مجیب اصغر صاحب انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں زیرتعلیم تھے تو مرحوم واپڈا میں ملازمت کررہے تھے۔ ابھی غیرشادی شدہ تھے اور ہمارے اخراجات پورے کرنے میں ہمارے والدین کی بہت مدد کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو دو بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *