علمِ ہیئت کے بارے میں عظیم الشان پیشگوئیاں

November 1, 2026 • 25 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل …نومبر2026ء)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِذَاالسَّمَآءُ کُشِطَتْ(التکویر:12) یعنی ایک زمانہ آئے گا جب آسمان کی کھال اتاردی جائے گی (یعنی علم ہیئت میں حیرت انگیز ترقی ہوگی)۔ روزنامہ ‘‘الفضل’’ ربوہ 17؍اپریل2014ء میں محترم ڈاکٹر حافظ صالح محمد الٰہ دین صاحب کا ایک علمی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں قرآن کریم کی پیشگوئیوں کی روشنی میں علم ہیئت میں ہونے والی عظیم الشان ترقیات پر طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔

Galileo

گیلیلیو نے 1609ء میں دُوربین ایجاد کی تھی اور وہ ستاروں کی کثرت کو دیکھ کر دنگ ہوگئے۔ لیکن ان ستاروں کے فاصلے کا علم ہمیں پہلی بار قریباً دو سو سال قبل ہوسکا جب 1838ء میں پہلی بار ایک ستارے Cygni 61 کا فاصلہ معلوم کیا گیا جو دس نوری سال نکلا۔ یعنی اُس ستارے کی روشنی کو زمیں تک پہنچنے کے لیے دس سال لگتے ہیں۔ (روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے)۔ یہ کارنامہ سائنسدان F.W.Bessel کا تھا۔
سورج ہم سے پندرہ کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اُس کی روشنی ہم تک صرف آٹھ منٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ اب تو ہم اتنی دُور دُور کے ستاروں کے فاصلے معلوم کرلیتے ہیں جہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے کے لیے اربوں سال لگتے ہیں۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: حضرت امام مہدی اُس وقت ظہور و خروج فرمائیں گے جب آفتاب کے ساتھ ایک نشانی بھی طلوع ہوگی۔ (بحارالانوار جلد12 صفحہ116 مؤلف علامہ محمد باقر مجلسیؒ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیشگوئی درج کرکے تحریر فرمایا: ‘‘لکھا تھا کہ اُس وقت آفتاب میں ایک نشان ظاہر ہوگا چنانچہ اب تک ظاہر ہے اور دُوربین سے دیکھا جاتا ہے۔’’ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ281)
1814ء میں ایک جرمن سائنسدان Fraunhofer نے سورج کی روشنی کو پھاڑ کر دیکھ لیا تھا کہ اس میں کتنے رنگ ہیں۔ یہ رنگ ایک پٹی کی شکل میں ترتیب سے ظاہر ہوتے تھے جسے Fraunhofer Spectrum کہا جاتا ہے۔ لیکن اس پٹی میں سیاہ لائنیں بھی نظر آتی تھیں جس کی وجہ وہ نہ جان سکا۔ اس بھید کو 1859ء میں ایک دوسرے جرمن سائنسدان Kirchoff نے پالیا کہ سورج کے گرد موجود فضا Chromosphere مخصوص قسم کی روشنی جذب کرلیتی ہے جس کے نتیجے میں سیاہ لائنیں نمودار ہوتی ہیں۔ اگرچہ قریباً تین ہزار سال سے لوگ سورج کی ایک ہی فضا سے واقف تھے جو Corona کہلاتی ہے۔ یہ سفید رنگ کی ہوتی ہے جو مکمل سورج گرہن کے وقت سورج کے گرد نظر آتی ہے۔ تاہم اب سورج کی وہ سطح جو ہم کو نظر آتی ہے وہ Photosphere کہلاتی ہے۔ اسی طرح سپیکٹرم کے ذریعے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ سورج کن عناصر کا بنا ہوا ہے۔ چنانچہ 1868ء میں سورج پر ہیلیم کی دریافت ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلیم کی زمین پر دریافت کئی سال بعد 1895ء میں ہوئی۔
بیسویں صدی میں ہمیں یہ بھی علم ہوا کہ آسمان پر بکھرے ہوئے ستارے ایک وسیع نظام میں پروئے ہوئے ہیں جسے کہکشاں (Galaxy) کہا جاتا ہے۔ ہماری گیلیکسی میں ایک کھرب کے لگ بھگ ستارے موجود ہیں جن میں سے ایک ستارہ ہمارا سورج بھی ہے۔ سورج کا اپنی کہکشاں کے مرکز سے فاصلہ تیس ہزار نوری سال ہے اور یہ اُس مرکز کے گرد اپنا ایک چکّر دو سو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ بیس کروڑ سال میں مکمل کرتا ہے۔ ہماری کہکشاں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک روشنی کو سفر کرنے کے لیے ایک لاکھ سال درکار ہوتے ہیں۔ قریباً ایک سو سال قبل مشہور سائنسدان Edwin Hubble نے دریافت کیا کہ کائنات میں اَور بھی کہکشائیں ہیں اور عموماً کہکشاؤں کے جھرمٹ یعنی Clauster of Galaxies بھی کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ 1929ء میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ جھرمٹ ایک دوسرے سے دُور ہوتے جارہے ہیں۔ اس تحقیق کو Hubble’s Law کہتے ہیں۔ اس سے قرآن کریم کی یہ پیشگوئی سچی ثابت ہوئی کہ ‘‘ہم نے آسمان کو ایک خاص قدرت سے بنایا اور یقیناً ہم وسعت دینے والے ہیں۔’’ (الذاریات:48)
اس تحقیق سے بِگ بینگ کے نظریے کو بھی تقویت ملتی ہے یعنی پہلے تمام کہکشاؤں کا مادہ ایک محدود جگہ پر انتہائی گرم اور کثیف حالت میں تھا جو عظیم دھماکے سے پھٹ کر کئی اجزا میں منقسم ہوگیا اور یہ اجزا مسلسل ایک دوسرے سے دُور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اس نظریے کی تصدیق 1965ء میں ہوئی جب ریڈیواسٹرانومی کے ذریعے ایک نئی ریڈی ایشن کا پتہ لگایا گیا۔ تاہم قرآن کریم نے یہ بتادیا تھا کہ ‘‘کیا انہوں نے نہیں دیکھا جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین دونوں مضبوطی سے بند تھے۔ پھر ہم نے اُن کو پھاڑ کر الگ کردیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ کیا اب بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے!’’ (الانبیاء:31)
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ Big Bang کا واقعہ چودہ ارب سال پہلے کا ہے۔ تاہم ایک امریکی سائنسدان Harry L.Shipman لکھتے ہیں کہ بِگ بینگ کا نظریہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ کس نے اس مادہ کو پیدا کیا جو دھماکے سے پھٹا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘‘دوسری دلیل خداتعالیٰ کی ہستی پر قرآن شریف نے خداتعالیٰ کا علّت العلل ہونا قرار دیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی (النجم:43) یعنی تمام سلسلہ علل و معلولات کا تیرے ربّ پر ختم ہوجاتا ہے۔ … یہ تو جائز نہیں کہ اس محدود دنیا میں علل و معلول کا سلسلہ کہیں جاکر ختم نہ ہو اور غیرمتناہی ہو۔ تو بالضرورت ماننا پڑا کہ یہ سلسلہ ضرور کسی اخیر علّت پر جاکر ختم ہوجاتا ہے۔ پس جس پر اس تمام سلسلہ کی انتہا ہے وہی خدا ہے۔ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ آیت وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی اپنے مختصر لفظوں میں کس طرح اس دلیل مذکور بالا کو بیان فرمارہی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ انتہا تمام سلسلہ کی تیرے ربّ تک ہے۔’’
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد10 صفحہ369)
قرآن کریم میں یہ صداقت بھی بیان ہوئی ہے کہ ہر چیز فانی ہے۔ (الرحمٰن:27) نیز فرمایا: اجرام فلکی جو گھوم رہے ہیں صرف ایک وقت مقررہ تک ہی چلیں گے۔ (الرعد:3)
سائنسدانوں کے نزدیک اس وقت زمین کی عمر کا اندازہ ساڑھے چار ارب سال ہے جبکہ سورج اور نظام شمسی کی عمر کا اندازہ پانچ ارب سال ہے۔ سورج کے اندر جو ہائیڈروجن جل کر ہیلیم میں تبدیل ہورہا ہے وہ قریباً پانچ ارب سال میں ختم ہوجائے گا جس کے بعد سورج کا حجم بہت بڑا ہوجائے گا اور اس کی شدید گرمی سے سمندر اُبل جائیں گے اور زمین پر زندگی ختم ہوجائے گی۔ پھر اگلے دَور میں سورج سکڑنا شروع کرے گا اور اس کی روشنی بھی بہت کم ہوجائے گی۔ اس قسم کا ستارہ White Dwarf کہلاتا ہے۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام (سورۃالرحمٰن آیات 27 و 28 کے حوالے سے) فرماتے ہیں: ‘‘ہر ایک چیز معرض زوال میں ہے اور جو باقی رہنے والا ہے وہ خدا ہے جو جلال والا اور بزرگی والا ہے۔ اب دیکھو کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ ایسا ہو کہ زمین ذرّہ ذرّہ ہوجائے اور اجرام فلکی بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور ان پر معدوم کرنے والی ایک ایسی ہوا چلے جو تمام نشان ان چیزوں کے مٹادے مگر پھر بھی عقل اس بات کو مانتی اور قبول کرتی ہے بلکہ صحیح کانشنس اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ اس تمام نیستی کے بعد بھی ایک چیز باقی رہ جائے جس پر فنا طاری نہ ہو اور تبدّل اور تغیّر کو قبول نہ کرے اور اپنی پہلی حالت پر باقی رہے۔ پس وہ وہی خدا ہے جو تمام فانی صورتوں کو ظہور میں لایا اور خود فنا کی دست برد سے محفوظ رہا۔’’
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد10 صفحہ371)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *