آنحضورﷺکا ایتاءِ ذی القربیٰ اور صلہ رحمی

November 7, 2026 • 7 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل …؍نومبر2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

آنحضورﷺ کی زندگی میں آپؐ کے اپنے رضاعی رشتوں، خادموں، ازواج و اولاد، ربائب اور دورونزدیک کے تمام رشتہ داروں پر لطف و عنایات کے بےشمار واقعات ملتے ہیں۔ آپؐ نے رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک اور خدا کی خاطر مستحق عزیزوں پر خرچ کرنے کو ایک اعلیٰ نیکی اور خدا کے حضور دہرے اجر کا مستحق قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر 2012ء میں مکرم لقمان احمد کشور صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
کئی احادیث میں والدین سے حُسنِ سلوک کو خداتعالیٰ کے حضور خاص قبولیت کا شرف پانے والی نیکیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔ ماں کو صلہ رحمی کا سب سے زیادہ مستحق قرار دیا خواہ وہ مسلمان نہ بھی ہو۔ پھر باپ سے حُسنِ سلوک کو مغفرت کا ذریعہ بیان فرمایا۔ خالہ کو تو والدہ جیسے حقوق کا مستحق ٹھہرادیا۔ فرمایا: والدین کی وفات کے بعد اُن کے لیے دعائے مغفرت کرنا، اُن کے دوستوں سے بھی حُسنِ سلوک کرنا اور اُن کے واسطہ سے رشتوں کو جوڑے رکھنا۔
آنحضورﷺ کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہؓ جب آپؐ کے پاس آتیں تو آپؐ اُن کی بہت تعظیم کرتے، کھڑے ہوکر اُن کا استقبال فرماتے اور اپنی چادر اُن کے بیٹھنے کے لیے بچھادیتے۔ اُن کو اناج وغیرہ دے کر رخصت فرماتے۔
ایک بار آپؐ کے رضاعی والد حارث بن عبدالعزیٰ ، رضاعی والدہ حضرت حلیمہؓ اور رضاعی بھائی آئے تو آپؐ نے اپنی چادر بچھاکر اُن تینوں کو بٹھادیا اور خود کھڑے ہوگئے۔
ایک بار جب حضرت حلیمہؓ تشریف لائیں تو آپؐ ’’میری ماں‘‘ کہتے ہوئے اُن سے لپٹ گئے۔
حضرت اُمّ سلمہؓ کے پوچھنے پر ایک بار رسول کریم ﷺ نے اُنہیں فرمایا کہ اگر وہ ابوسلمہؓ کی اولاد پر کچھ خرچ کریں گی تو اس کا اجر انہیں ملے گا۔
حضرت ابوطالب کی بیوی حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ انہوں نے بچپن میں آپؐ کی پرورش بھی فرمائی تھی۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ابوطالب کے بعد مَیں اس نیک سیرت خاتون کا ممنون احسان ہوں۔ اُن کی وفات پر آپؐ نے اُن کے کفن کے لیے اپنی قمیص عطا فرمائی۔
اُمّ ایمنؓ کا اصل نام برکہ تھا۔ یہ آپؐ کی خاندانی لونڈی تھیں اور ترکہ میں آپؐ کو ملی تھیں۔ انہوں نے بطور آیا بھی آپؐ کی خدمت کی۔ آپؐ اُنہیں بھی ’’اے ماں‘‘ کہہ کر پکارتے، ہمیشہ حُسنِ سلوک فرماتے اور مال عطا فرماتے۔
حضرت فاطمہؓ سے آپؐ کو بہت محبت تھی۔ وہ آتیں تو آپؐ اُن کا ماتھا چومتے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے اس کو ناراض کیا اس نے گویا مجھے ناراض کیا۔ اُن کو بہشتی عورتوں کی سردار بھی قرار دیا۔
حضرت زینبؓ کی بیٹی امامہؓ سے بھی آنحضور ﷺ کو بےحد محبت تھی۔ کئی بار نماز پر تشریف لاتے تو وہ ساتھ ہوتیں اور نماز کےدوران بھی آپؐ اُن کو اٹھائے ہوئے ہوتے۔
حضرت زینبؓ کے خاوند ابوالعاص بن الربیع جنگ بدر میں قید ہوکر آئے تو اُن کے فدیہ کے لیے حضرت زینبؓ نے اپنا وہ ہار بھجوادیا جو اُن کی والدہ حضرت خدیجہؓ نے اُنہیں دیا تھا۔ آنحضورﷺ نے جب وہ ہار دیکھا تو آپؐ پر شدید رقّت طاری ہوگئی اور آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو بیٹی کو ماں کی یادگار واپس کردوں؟ یوں ابوالعاص کو بغیر فدیہ کے رہا کردیا گیا جس کے بعد انہوں نے مکہ جاکر حضرت زینبؓ کو مدینہ بھجوادیا۔ اسی طرح ایک موقع پر ابوالعاص حضرت زینبؓ کی پناہ میں آگئے تو رسول کریمﷺ نے بھی اُن کو پناہ دے دی۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ مَیں نے اپنے دامادوں کے لیے اور جن کا مَیں داماد ہوں اُن کے لیے اللہ سے دعا کی ہے کہ ان میں سے کسی کو آگ میں داخل نہ کرے۔
حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد ایک دفعہ آنحضورﷺ نے حضرت عثمانؓ کو روتے دیکھا تو فرمایا کہ مت رو، تُو تو مجھے اتنا پیارا ہے کہ اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں اور ایک تجھ سے بیاہنے کے بعد فوت ہوجاتی تو دوسری بیٹی تجھے دے دیتا اور اگر وہ فوت ہوجاتی تو تیسری بیٹی تجھے دے دیتا یہاں تک کہ میرے گھر میں ان میں سے ایک بیٹی بھی نہ رہتی۔
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ (جنہوں نے ہجرت حبشہ کے دوران نجاشی کے دربار میں شاندار تقریر کی تھی) جب حبشہ سے واپس آئے تو آنحضورﷺ نے اُن کو گلے لگاکر اُن کی پیشانی چوم کر اُن کا استقبال فرمایا۔
غزوۂ موتہ میں جب حضرت جعفرؓ اور حضرت زیدؓ کی شہادت کی اطلاع ملی تو آنحضورﷺ دونوں کے گھروں میں تشریف لے گئے، اُن کو تسلّی دی اور دعا بھی کی، بچوں کو پیار کیا اور پھر اُن کی اولاد سے ہمیشہ محبت کا سلوک فرمایا۔
ازواج مطہرات سے بھی آنحضورﷺ کو بہت محبت تھی۔ ہمیشہ اُن کی جائز ضروریات کا خیال فرماتے۔ فرمایا: جو دینار خدا کی راہ میں اپنے اہل پر خرچ ہو وہ دوسرے بعض کاموں میں خرچ کیے گئے دینار کی نسبت زیادہ اجر کا مستحق ہے۔
اپنے گھروں میں حضورؐ ازواج کا ہاتھ بٹاتے اور اپنے کام خود ہی کرلیا کرتے۔ آپؐ روزانہ تمام ازواج کے ہاں تشریف لے جاکر احوال دریافت فرماتے اور پھر جس کے ہاں قیام کی باری ہوتی وہاں قیام فرماتے۔
حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد آنحضور ﷺ کا معمول تھا کہ جب بھی گھر میں جانور ذبح ہوتا تو اُن کی سہیلیوں کو بھی گوشت بھجواتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کی سہیلیوں کو خود بلاکر کھیلنے کے لیے اُن کے پاس بھیجتے۔ اگر کبھی حضرت ابوبکرؓ اپنی بیٹی پر ناراض ہوتے تو آپؐ درمیان میں آکر ناراضگی ختم کرواتے۔ ایک عید کے دن حضرت عائشہؓ کو اپنے پیچھے کھڑا کرکے حبشیوں کے جنگی کرتب دکھاتے رہے۔ آپؐ تب تک وہاں کھڑے رہے جب تک وہ تھک نہیں گئیں اور انہوں نے خود اس کا اظہار نہیں کردیا۔ آپؐ کبھی کبھی حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ بھی کیا کرتے تھے۔
آنحضور ﷺ نے اپنی اولاد سے محبت کے باوجود دین کے معاملے میں ہمیشہ تقویٰ کا راستہ اپنائے رکھا۔ چنانچہ جب ایک کم سِن لاڈلے نواسے نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی تو آپؐ نے فوراً نکلوادی اور فرمایا کہ یہ غریبوں کا حق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *