دین احمدؐ کا جو آج سالار ہے – نظم
ہفت روزہ ’’بدر‘‘قادیان کی زینت مکرم مبارک احمد ظفر صاحب کی ایک نظم بعنوان ’’مسجدیں اَور بھی بنائیں گے ہم‘‘ سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

دین احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
ابن منصور کی ایک للکار ہے
ڈنکہ توحید کا اب بجائیں گے ہم
پرچم دین احمدؐ اڑائیں گے ہم
خواب ناصرؒ کی تعبیر بن جائیں گے
زہر نفرت کی اکسیر بن جائیں گے
ہم محبت کی تنویر بن جائیں گے
نئی اُندلُس کی تقدیر بن جائیں گے
اپنا قبضہ دلوں پر جمائیں گے ہم
اھل اُندلُس کو اپنا بنائیں گے ہم


نظم بہت پیاری اور آواز بھی ماشااللہ لیکن مکمل اشعار نہیں ہیں پوری نظم پڑھنی ہے میں نے
This poem is available in MTA website.
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے
ڈنکا توحید کا اب بجائیں گے ہم
پرچمِ دینِ احمدؐ اُڑائیں گے ہم
ڈنکا توحید کا اب بجائیں گے ہم
پرچمِ دینِ احمدؐ اُڑائیں گے ہم
ڈنکا توحید کا اب بجائیں گے ہم
پرچمِ دینِ احمدؐ اُڑائیں گے ہم
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
خوابِ ناصرؓ کی تعبیر بن جائیں گے
زہرِ نفرت کی اکسیر بن جائیں گے
ہم محبت کی تنویر بن جائیں گے
نئی اُندلس کی تقدیر بن جائیں گے
اپنا قبضہ دلوں پر جمائیں گے ہم
اہلِ اُندلس کو اپنا بنائیں گے ہم
اپنا قبضہ دلوں پر جمائیں گے ہم
اہلِ اُندلس کو اپنا بنائیں گے ہم
اپنا قبضہ دلوں پر جمائیں گے ہم
اہلِ اُندلس کو اپنا بنائیں گے ہم
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے، نہ تلوار ہے
قرطبہ ماضی کا داستاں بن چکا
کسرِ غرناطہ عبرت نشاں بن چکا
روبِ اشبیلیہ بھی دھواں بن چکا
گویا مردوں کا یہ اِک جہاں بن چکا
اُس پہ آنسو نہ ہرگز بہائیں گے ہم
نئے ارض و سما اب بنائیں گے ہم
اُس پہ آنسو نہ ہرگز بہائیں گے ہم
نئے ارض و سما اب بنائیں گے ہم
اُس پہ آنسو نہ ہر گے بہائیں گے ہم
نئے ارض و سما اب بنائیں گے ہم
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے
بارسلونا ہو یاکہ والنسیا
میڈرڈ کی زمیں ہو کہ اشبیلیہ
ارضِ جبرالٹر یا کہ ہو مالاگا
گویا سارے کا سارا ہی ہسپانیہ
لاجرم کھوئی میرہ سپائیں گے ہم
اُس کو پائے محمدؐ ملائیں گے ہم
لاجرم کھوئی میرہ سپائیں گے ہم
اُس کو پائے محمدؐ ملائیں گے ہم
لاجرم کھوئی میرہ سپائیں گے ہم
اُس کو پائے محمدؐ ملائیں گے ہم
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
روشنی البشارت کی بڑھتی رہے
اُس کی بستی ہمیشہ ہی بستی رہے
اُس پہ ہر صبح خوشیوں کی چڑھتی رہے
اُس پہ رحمت خدا کی برستی رہے
نورِ ایماں کی شمعیں جلائیں گے ہم
مسجدیں اور بھی اب بنائیں گے ہم
نورِ ایماں کی شمعیں جلائیں گے ہم
مسجدیں اور بھی اب بنائیں گے ہم
نورِ ایماں کی شمعیں جلائیں گے ہم
مسجدیں اور بھی اب بنائیں گے ہم
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے
حق کی لوگوں کو توفیق کے پہچاں ملے
اُس کے ہر باسق و نورِ ایماں ملے
ہے یہ مقصد ہمارا فقط، اے خدا
تیری نصرت سے ہم کو یہ اِچّھا ملے
تیری نصرت اگر پاتے جائیں گے ہم
عبدِ رحمان ہر جاں دکھائیں گے ہم
تیری نصرت اگر پاتے جائیں گے ہم
عبدِ رحمان ہر جاں دکھائیں گے ہم
تیری نصرت اگر پاتے جائیں گے ہم
عبدِ رحمان ہر جاں دکھائیں گے ہم
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
دینِ احمدؐ کا جو آج سالار ہے
تیر ہاتھوں میں اُس کے نہ تلوار ہے
ساتھ فوجوں کی کوئی نہ یلغار ہے
ابنِ منصور کی ایک للکار ہے