مکرم پروفیسر سید سلطان محمود شاہد صاحب

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 30؍اپریل 2021ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍مارچ 2013ء میں مخلص خادم سلسلہ اور معروف ماہر تعلیم محترم پروفیسرڈاکٹر سیّد سلطان محمود شاہد صاحب کی وفات کی خبر شائع ہوئی ہے۔ آپ نے 3؍مارچ 2013ء کو ربوہ میں بعمر90سال وفات پائی اور آپ کی تدفین آپ کے آبائی گاؤں شاہ مسکین ضلع شیخوپورہ میں واقع آپ کے خاندانی قبرستان میں ہوئی۔
محترم شاہ صاحب 16؍اکتوبر 1923ء کو اپنے آبائی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت سید سردار احمد شاہ صاحبؓ نے آپ کو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وقف کردیا تھا۔ آپ نےB.Sc. تک تعلیم اسلامیہ کالج لاہور میں حاصل کی۔ اس کے بعد 1946ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے کیمسٹری میںM.Sc.کرنے کے فوراً بعد آپ قادیان حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ حضورؓ نے آپ کا تقرر بطور لیکچرار کیمسٹری تعلیم الاسلام کالج میں کردیا۔ آپ تعلیم الاسلام کالج کے ابتدائی اساتذہ میں سے تھے۔ ہجرت کے بعد پہلے لاہور اور پھر ٹی آئی کالج کی ربوہ منتقلی کے بعد وہاں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ 16سال کالج یونین کے انچارج رہے۔ 1956ء میں آپ لندن چلے گئے اور 1958ء میں یونیورسٹی آف لندن سے آرگینک کیمسٹری میں Ph.D کی ڈگری حاصل کی۔ پھر ربوہ واپس آکر ٹی آئی کالج میں بطور پروفیسر 1963ء تک پڑھاتے رہے۔ 1963ء میں آپ دوبارہ لندن گئے اور 1964ء میں لندن یونیورسٹی سے ہی پوسٹ ڈاکٹریٹ کیا۔ رائل انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل سوسائٹی کے فیلو بھی بنے۔ پھر آپ واپس ربوہ تشریف لائے اور 1964ء تا 1978ء تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں پروفیسر، شعبہ کیمسٹری کے ہیڈ اور کچھ عرصہ تک انچارج پرنسپل کے طور پر کام کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹی آئی کالج ربوہ کے علاوہ جامعہ نصرت کالج برائے خواتین ربوہ میں سائنس بلاک کی تعمیر آپ کی زیرنگرانی ہوئی۔ 1979ء میں آپ کو تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے گورڈن کالج راولپنڈی میں ٹرانسفر کردیا گیا۔ بعدازاں گورنمنٹ ڈگری کالج ننکانہ صاحب کے پرنسپل مقرر ہوئے جہاں سے اکتوبر 1986ء میں ریٹائر ہوئے۔
ربوہ کے تعلیمی اداروں کے سرکاری تحویل میں جانے کے بعد اُن کے مسائل کو دیکھتے ہوئے آپ نے ربوہ میں ناصر کنڈر گارٹن اور ناصر پبلک سکول جیسے ادارے بنائے۔ پھر ریٹائرمنٹ کے بعد الہدیٰ ماڈل کالج بنایا جسے 1998ء تک چلاتے رہے۔ اس طرح آپ کی تعلیمی خدمات نصف صدی کے لگ بھگ محیط ہیں۔
محترم ڈاکٹر صاحب نہایت سادہ اور ہمدرد طبیعت کے مالک تھے۔ بہت سے ضرورتمند طلباء کی مختلف طریقوں سے مدد کرتے تاکہ وہ تعلیم حاصل کرسکیں۔ ہر ایک کے ساتھ محبت اور پیار کا سلوک کرتے۔ مخلصانہ مشورے دیتے اور طلباء کے مسائل ذاتی دلچسپی لے کر حل کرواتے۔
قیام پاکستان کے بعد آپ سیکرٹری اصلاح و ارشاد جماعت لاہور مقرر ہوئے۔ 1956ء تا 1958ء لندن قیام کے دوران مجلس خدام الاحمدیہ لندن کے ابتدائی قائد مقرر ہوئے۔ اسی دوران سیکرٹری مال جماعت لندن کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں